Site icon المرصاد

ہمارے اٹھائے گئے قدم ہی امت کی تقدیر ہیں!

قومیں نعروں، امیدوں اور خوابوں پر نہیں، بلکہ افراد کے عمل، کردار اور فیصلوں پر قائم ہوتی ہیں۔
ہمارا ہر قدم، ہر خیال اور ہر فیصلہ صرف ذاتی و انفرادی اثر نہیں رکھتا، بلکہ پوری امت کے مستقبل سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر میں اور آپ سستی اختیار کریں، تو آنے والی نسلیں اسی غفلت کی قیمت چکائیں گیں۔

آج کے دور میں اسلامی امت فکری، سیاسی، معاشی اور اخلاقی آزمائشوں سے دوچار ہے۔ یہ زوال صرف باہر سے نہیں آیا، بلکہ ہماری اپنی کوتاہی، غفلت اور غیرذمہ داری کا نتیجہ ہے۔ اکثر نوجوان کہتے ہیں ’’میں کون ہوں؟ مجھ سے کیا فرق پڑتا ہے؟ مگر یہی سوچیں اقوام کو تباہی کی دہانے تک لے جاتی ہیں۔

ایک بے‌مطالعہ، بے‌مقصد اور بے‌فکر نسل زوال کا آغاز ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ایک نوجوان بھی خود پر کام کرے، اپنی فکر روشن کرے اور حق کے لیے کھڑا ہو جائے، تو وہ بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ: ’’اگر ایک انسان سنور جائے تو ایک گھر سنورتا ہے، اور اگر ایک گھر سنور جائے تو پوری قوم بدل جاتی ہے۔‘‘

اگر ہمارے قدم علم، تقویٰ، صداقت اور اخلاص کی راہ پر ہوں، تو امت اپنا کھویا ہوا وقار واپس پاسکتی ہے۔ ورنہ یہی غفلت ہماری تاریخ برباد کر دے گی۔ اسلام کی تاریخ انہی بیدار، باایمان اور ذمہ دار نوجوانوں سے روشن ہوئی ہے جیسے امام حسینؓ، صلاح الدین ایوبیؒ اور محمد بن قاسمؒ۔

آؤ یہ حقیقت سمجھیں کہ ’’میرے قدم صرف میرے نہیں، یہ ایک امت کی تقدیر تراشتے ہیں۔”
اگر آج ہم درست فیصلہ کر لیں، تو کل ہماری قوم روشن ہوگی۔ اور اگر آج ہم نے غفلت برتی، تو یہی امت کل زوال کا سامنا کرے گی۔

لہٰذا اب فیصلہ کرو! وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، اور تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے باتوں کے بجائے عمل کیا ہو۔

اگر تم آج ایک چھوٹا سا قدم بھی اٹھاؤ، تو وہ تبدیلی کا آغاز بن سکتا ہے۔
مگر اگر خاموش رہے، تو کل تم بھی اُن لوگوں میں شمار ہوگے جنہوں نے صرف دیکھا، مگر کچھ نہ کیا۔
اٹھو، عمل کرو؛ کیونکہ امت کا مستقبل تمہارے فیصلوں اور ارادوں سے وابستہ ہے۔

Exit mobile version