علماء سے سنا ہے اور سیرت کی عام کتابوں میں دیکھا ہے کہ رسالت مآب ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کے سامنے اپنی رسالت کی نشانیاں بیان فرمائیں، اور یہود کے احبار و رہبان کے روبرو اپنی نبوت انہی کی کتابوں سے ثابت کرکے دکھائی۔ اس پر یہود روٹھ گئے اور برا مان گئے۔ تسلیم کرلینے کے بجائے وہ اپنی ہی کتابوں میں تحریف کے مرتکب ٹھہرے اور زبردستی اپنے دلائل کا چہرہ بگاڑنے لگے۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ مدینہ منورہ میں آباد یہودی صدیوں سے عربوں کو یہ باور کراتے آئے تھے کہ ایک نبی آنے والا ہے جو دنیا کو ہدایت سے بھر دے گا، اور اس کی آمد سے اندھیری دنیا روشنیوں میں بدل جائے گی۔ کفر و شرک کی جس بدبو سے تاریک دنیا کی فضا بوجھل ہوچکی ہے، رسول کی آمد سے وہ دم توڑ دے گی، اور اس کی جگہ خوشبوئیں مہک مہک کر پھوٹ پڑیں گی۔
مگر وہ ساتھ ہی یہ زعم بھی رکھتے تھے کہ وہ رسول انہی میں سے ہوگا۔ اب جب رسولِ عربی ﷺ ظہور پذیر ہوئے، مگر ان کی بجائے ایک اُمی قوم، یعنی عربوں میں سے تشریف لائے، تو ان کی دینی اور مذہبی ٹھیکے داری میں تزلزل پیدا ہوگیا۔ وہ خود کو عربوں سے کمتر محسوس کرنے لگے اور احساسِ کمتری کا شکار ہوگئے۔
اس کا آسان حل یہ تھا کہ وہ اسے تسلیم کرلیتے۔ اگر تسلیم کرنے میں خود سبقت لے جاتے تو مسئلہ وہیں حل ہوجاتا۔ لیکن ان کے بلند و بانگ دعوے ان کی راہ میں حائل ہوگئے۔ وہ اس تذبذب میں مبتلا تھے کہ اب دنیا کیا کہے گی؟ چنانچہ انہوں نے یہ راستہ اختیار کیا کہ اپنی ہی ان تعلیمات میں تحریف کرلی جائے جن کی نسبت ان کے ہاں خدا کی طرف کی جاتی تھی۔
ساتھ ہی وہ اس بات کے درپے ہوگئے کہ کسی طرح اس رسولِ عربی ﷺ کو بدنام کیا جائے۔ یوں فطری طور پر وہ بغض و کینہ میں مبتلا ہوگئے۔ اس بغض و کینہ کا اظہار وہ اس انداز سے کرتے تھے کہ دنیا جہان کی تمام خرابیوں کی نسبت محبوبِ عالم ﷺ کی طرف کرنے لگتے تھے۔ ہمیشہ اسی تاک میں رہتے تھے کہ کوئی موقع ہاتھ لگے اور اسی کو بنیاد بنا کر برائیوں، تہمتوں اور بہتانوں کا طوفانِ بدتمیزی برپا کردیا جائے۔
اس سلسلے میں چونکہ وہ مشرکین پر اس لحاظ سے فوقیت رکھتے تھے کہ ان کے پاس مذہبی ٹچ دینے کی سہولت بھی موجود تھی، اس لیے وہ جھوٹی نسبتوں میں اس کا سہارا لیتے تھے۔ ساتھ ہی وہ برابر اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ کسی طرح مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر ان کی قوت کا شیرازہ بکھیر دیا جائے۔ اسی لیے کبھی اوس اور خزرج کے درمیان قبل از اسلام دشمنی کی پرانی چنگاری کو ہوا دیتے، اور کبھی دورِ جاہلیت کے قومی شعاروں کو بہانہ بنا کر انصار اور مہاجرین کے درمیان آگ کے شعلے بھڑکانے کی کوشش کرتے تھے۔
یہ الگ بات ہے کہ خداوندِ متعال کی نصرت سے ان کی ایک نہ چلی، اور ہر بار انہیں منہ کی کھانی پڑی۔
اس پورے تناظر میں مجھے آج بھی یہود نہ سہی، مگر یہودیوں کی روش پر چلتے ہوئے کچھ لوگ ضرور نظر آتے ہیں۔ ان میں اس وقت اپنے آپ کو نامی گرامی شخصیت سمجھنے والے، پروفیسر، مفتی اور دنیا بھر کے القابات سمیٹنے والے، عبدالرحیم کے نام سے مشہور ایک شخص نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ حق کو بچشمِ خود آفتاب کی طرح دیکھ رہا ہے، اور اسی آفتاب کی آمد کے لیے گزشتہ پچیس برسوں سے تالیاں اور سیٹیاں بجاتا رہا ہے، بلکہ پوری دنیا کے سامنے اسے حق کی نوید بنا کر پیش کرتا رہا ہے۔
اس کی پچیس سالہ تاریخ، اس کے اعمال و افعال اور اس کا ایک ایک قدم آج بھی اس پر گواہ ہے اور تاریخ کے سینے میں محفوظ ہے کہ وہ افغانستان میں امریکا کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کو کن کن الفاظ میں سراہتا تھا۔ آج بھی اس کے اداریے، مضامین اور مقالات اس بات پر شاہد ہیں کہ وہ مجاہدینِ اسلام کی مدح سرائی کس جوش و خروش سے کیا کرتا تھا۔ آج بھی ہر عام و خاص اس کردار کو پرکھ سکتا ہے کہ گزشتہ پچیس برسوں میں اسی عبدالرحیم صاحب نے مجاہدینِ اسلام کے نام پر دنیا سے کیا کچھ بٹورا اور ان کا نام استعمال کرکے کتنے فوائد سمیٹے۔
البتہ ایک اہم بات یہ تھی کہ یہ صاحب مجاہدینِ اسلام کی نسبت اپنی طرف کرتے تھے، اور انہیں یہ گھمنڈ تھا یا وہ دنیا کو یہ دکھلاتے پھرتے تھے کہ وہی مجاہدین کے رہبر اور رہنما ہیں، جو کہ حقیقت کے بالکل برعکس ایک صریحاً جھوٹا دعویٰ تھا۔
اب جب خداوندِ متعال نے انہی مجاہدین کو فتحِ مبین عطا فرمائی، اور وہ صبحِ روشن کی طرح افغانستان کی سرزمین پر چھا گئے، اور کفر کے غلبے کو تار تار کر ڈالا، تو یہ عقدہ بھی کھل گیا کہ عبدالرحیم صاحب کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وہ محض اپنی ٹرسٹ اور شخصیت کو پروان چڑھانے کے لیے ان کا نام استعمال کرتا رہا تھا، اور یہ حقیقت دنیا بھر کے مؤمن دلوں پر واضح ہوگئی۔
دوسری طرف، جب کچھ اپنوں نے یہ پول بھی کھول دیا کہ مجاہدین کے نام پر جو کچھ سمیٹا گیا ہے، اس کا حساب کتاب بھی صاحب سے لیا جائے گا، تو صاحب روٹھ گئے۔ ابتدا میں تو صرف نالاں و شاکی نظر آتے رہے، لیکن جب ”یادِ ماضی عذاب ہے یارب“ والا اصول کچھ زیادہ نمایاں ہوا، تو صاحب نے بعینہٖ یہود کی طرح پینترا بدل کر ایک نیا راستہ اختیار کرلیا، اور مجاہدین پر کیچڑ اچھالنے میں لگ گئے۔
اس بار وہ کچھ اس انداز سے پیش آئے کہ یہود بھی انگشت بدنداں رہ گئے۔ انہوں نے ایسی تہمتیں باندھیں جو ابنِ سلول کے ذہن میں بھی نہ آئی ہوں گی۔ بہتان تراشی کا گویا ایک نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ جس دینی اور مذہبی ٹچ کا سہارا یہود لیا کرتے تھے، وہی ٹچ کچھ جدید اور ماڈرن انداز میں صاحب نے بھی اختیار کرلیا۔
ابھی گزشتہ دنوں بلوچستان کے مختلف شہروں، بالخصوص کوئٹہ اور اس کے نواح میں، بلوچ مزاحمت پسندوں نے جب دھاوا بولا اور سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں امڈ آئے، سرکاری دفاتر کو نذرِ آتش کیا، دن دہاڑے سرِ بازار پورے شہر اور دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا، اور یہیں سے یہ پیغام جاری کیا کہ ہم اپنے حقوق اور آزادی چاہتے ہیں تو یہ منظر صاحب کے لیے گویا ایک نیا موقع بن گیا۔
اسی کو بہانہ بنا کر وہ ایک بار پھر لول جلول قسم کی ہفوات پر اتر آئے۔ اپنے میڈیا چینل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ افغانستان سے ہوا تھا اور افغان حکومت کے سربراہ کے حکم پر کیا جا رہا تھا۔ پھر حسبِ عادت، بڑے ناز اور لچک دار لہجے میں بات کو توڑ مروڑ کر اپنے ہی دعوے کے دلائل کا بیڑا غرق کر ڈالا۔
انہوں نے یہود کی طرح ایسے نازیبا الزامات لگائے کہ ایک عام آدمی بھی سن کر یہی کہے گا:
بھائی! کوئٹہ اور افغان سرحد کے درمیان سینکڑوں میل کا فاصلہ ہے۔ اس سرحد سے یہاں تک آنے میں درجنوں چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ لوگ کئی کئی ٹن اسلحہ کے ساتھ صحیح سلامت یہاں پہنچ جائیں، اور تم سارا ملبہ افغانستان کے سر ڈال کر افواجِ پاکستان کو بری الذمہ قرار دے دو؟ اگر عقل بالکل ماؤف نہ ہوچکی ہو تو ایسی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟
دراصل وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر اصل حقائق سامنے آگئے تو اصل ذمہ داروں کے ساتھ اس کی بھی درگت بنے گی، اور ہر شخص بلا روک ٹوک اس کی حقیقت آشکار کرنے میں لگ جائے گا۔ اسی لیے وہ چاہتا ہے کہ یہودِ مدینہ کی طرح حقائق کو مسخ کردیا جائے۔
بلوچ قوم، جو پاکستان کی پیدائش سے لے کر آج تک مسلسل مظالم کا نشانہ بنتی آئی ہے، بے شمار قربانیاں دے چکی ہے، مگر آج تک اس کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ کسی طرح بلوچوں کی آواز شور و غل میں گم ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے سب سے مؤثر طریقہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان نفرتوں کو ہوا دی جائے، یہودِ مدینہ کی طرح مختلف پروپیگنڈے گھڑ کر باتوں کو گول مول کردیا جائے، اور بہتانوں اور غلاظت بھری جھوٹی داستانوں کو اس قدر پھیلا دیا جائے کہ لوگوں کو حقیقت ہی مشتبہ لگنے لگے۔
مگر دنیا دیکھے گی کہ جس طرح کل مدینہ منورہ میں یہود کا ہر ہر حربہ ناکامی سے دوچار ہوا تھا، آج بھی یہود کے نقشِ قدم پر چلنے والا جھوٹ اور بہتان کا یہ قافلہ اپنے انجام کو پہنچے گا، ان شاء اللہ، اور بلوچ بالآخر اپنے حقوق تک ضرور رسائی حاصل کریں گے۔

