یہود کی صفات کے تسلسل میں، اس قسط میں ہم ان کی ایک اور بری صفت کا جائزہ لیں گے۔
۷- عہد یا معاہدہ توڑنا
معاہدہ اور عہد و پیمان انسانی زندگی کی بنیادی اقدار میں سے ہیں، کیونکہ انسانوں کے درمیان اعتماد، امن اور سماجی نظم انہی اصولوں پر قائم ہوتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک اس کے لوگ اپنے وعدوں کے پابند نہ ہوں۔ اسی وجہ سے عہد شکنی عقل، اخلاق اور انسانی فطرت کے نزدیک ایک برا اور قابلِ مذمت عمل سمجھا جاتا ہے۔
انسانی فطرت عہد شکنی سے طبعی نفرت رکھتی ہے، کیونکہ فطرت سچائی، وفاداری اور امانت کا تقاضا کرتی ہے۔ انسان فطری طور پر ان لوگوں کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہے جو اپنی بات پر قائم رہتے ہوں، نہ کہ ان کے ساتھ جو آج کچھ کہیں اور کل اس سے پھر جائیں۔ اسی فطری اصول کی بنا پر، پوری تاریخ میں عہد شکنی کو بد اخلاقی کی نمایاں علامتوں میں شمار کیا گیا ہے۔
اللہ جل جلالہ نے بھی قرآنِ عظیم الشان میں مسلمانوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں کے پابند رہیں، اور ہر انسان اپنے عہد کے بارے میں جواب دہ ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے عہد پورے کرو، بے شک عہد کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔
باوجود اس کے کہ عہد شکنی ایک واضح غیر اخلاقی عمل ہے، قرآنِ کریم بیان کرتا ہے کہ بنی اسرائیل نے گزشتہ ادوار میں خود کو اسی بری عادت سے آلودہ کیا۔ انہوں نے نہ صرف عام لوگوں کے ساتھ، بلکہ اپنے انبیاء اور حتیٰ کہ اللہ جل جلالہ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی بھی پاسداری نہ کی۔
اللہ جل جلالہ قرآنِ عظیم الشان میں فرماتا ہے:
وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا ۖ وَقَالَ اللَّهُ إِنِّي مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنْتُم بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا لَأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ…
(سورۃ المائدہ: ۱۲)
ترجمہ: بے شک اللہ جل جلالہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا، اور ان میں سے بارہ قبیلوں کے سردار مقرر کیے، اور اللہ جل جلالہ نے فرمایا: یقیناً میں تمہارے ساتھ ہوں؛ اگر تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، میرے رسولوں پر ایمان لاؤ، ان کی مدد کرو اور اللہ کو اچھا قرض دو، تو میں ضرور تمہاری برائیاں معاف کر دوں گا۔
لیکن ان تمام وعدوں کے باوجود انہوں نے اس معاہدے کو قائم نہ رکھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَبِمَا نَقْضِهِم مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً
(سورۃ المائدہ: ۱۳)
ترجمہ: پس ان کے اپنے عہد توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دیے۔
اسی طرح اللہ جل جلالہ فرماتا ہے:
*الَّذِينَ عَاهَدْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنقُضُونَ عَهْدَهُمْ فِي كُلِّ مَرَّةٍ وَهُمْ لَا يَتَّقُونَ*
(سورۃ الأنفال: ۵۶)
ترجمہ: وہ لوگ جن سے تم عہد کرتے ہو، پھر ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں، اور اللہ سے بالکل نہیں ڈرتے۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت بنی اسرائیل کے قبیلہ بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی، کیونکہ وہ بار بار اپنے وعدے توڑتے تھے۔
فرانسیسی مورخ گستاو لوبون نے یہود کی صفات اور اخلاق کے بارے میں لکھا ہے:
“اگر یہود کے تاریخی رویّوں کی چند خصوصیات کو ایک جملے میں سمویا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ طویل تنازعات اور جنگوں کی وجہ سے وہ تہذیبی اخلاق سے مکمل طور پر محروم رہے ہیں۔ بنی اسرائیل کی تاریخ میں تشدد، سرکشی، عہد شکنی اور انتہا پسندی کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب اقتدار ان کے ہاتھ میں تھا، جنگیں اور تنازعات ختم نہ ہوتے تھے۔”
خلاصہ یہ کہ یہی بری صفت یہود کی سرشت میں رچی بسی ہے، نہ صرف ماضی کے یہود بلکہ آج کے یہود بھی اپنے وعدوں کے پابند نہیں، جیسا کہ ہم بار بار دیکھتے آئے ہیں کہ انہوں نے متعدد عہد توڑے۔

