یہود کے ناپسندیدہ اوصاف کے سلسلے میں یہاں ہم ان کی ایک اور نہایت اہم اور خطرناک صفت کا ذکر کرتے ہیں:
۱۱۔ برے اعمال پر خاموشی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو ترک کرنا:
یہ ان مذموم عادات میں سے ہے جو بالخصوص یہود کے علماء کے درمیان عام تھیں کہ وہ منکرات اور فاسد اعمال کے مقابلے میں خاموش رہتے تھے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسے عظیم فریضے کو چھوڑ بیٹھے تھے۔
اس صفت کی وضاحت کے لیے قرآنِ مجید کی آیات اور احادیث پر نظر ڈالتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ … كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ﴾ (المائدہ: ۷۸-۷۹)
ترجمہ: بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی، کیونکہ وہ ایک دوسرے کو برے کاموں سے نہیں روکتے تھے۔
اس آیت کی تفسیر میں علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"كانوا لا يتناهون” یعنی وہ ایک دوسرے کو منکرات سے نہیں روکتے تھے، اور "لبئس ما كانوا يفعلون” یعنی یہ نہایت برا عمل تھا جو وہ کرتے تھے؛ پس انہیں اس لیے ملامت کیا گیا کہ انہوں نے نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کر دیا تھا۔
اسی مضمون کی تائید میں امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں ایک حدیث نقل کی ہے:
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلی الله علیه وسلم: إن أول ما دخل النقص على بني إسرائيل كان الرجل أول ما يلقى الرجل فيقول يا هذا اتق الله ودع ما تصنع فإنه لا يحل لك، ثم يلقاه من الغد فلا يمنعه ذلك أن يكون أكيله وشريبه وقعيده، فلما فعلوا ذلك ضرب الله قلوب بعضهم ببعض.»
ترجمہ: بنی اسرائیل میں فساد اور زوال کا آغاز اس طرح ہوا کہ ایک شخص دوسرے کو کہتا: اے فلاں! اللہ سے ڈرو اور یہ کام چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے جائز نہیں؛ مگر اگلے دن جب اس سے ملتا تو اسے اس بات سے نہ روکتا کہ اس کے ساتھ بیٹھے، کھائے پئے اور میل جول رکھے۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے سے پھیر دیا (یعنی ان میں باہمی اختلاف اور انتشار پیدا ہو گیا)۔
یہ صفت صرف سابقہ اقوام تک محدود نہ رہی بلکہ آج کے دور میں بھی ان میں پائی جاتی ہے، اسی وجہ سے ان کے درمیان حقیقی اتحاد موجود نہیں۔ اگرچہ بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ متحد ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ تحسبهم جميعًا وقلوبهم شتى﴾ (الحشر: ۱۴)
ترجمہ: تم انہیں متحد سمجھتے ہو، حالانکہ ان کے دل ایک دوسرے سے جدا ہیں۔
اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی صفت یوں بیان فرمائی ہے:
﴿وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ … يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ﴾ (التوبہ: ۷۱)
ترجمہ: مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں؛ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔

