یہود کے اوصاف کے سلسلے میں اس قسط میں ہم ان کی ایک اور صفت کی وضاحت کریں گے۔
۹۔ تحریف
تحریف یہود کی ایک اور بری صفت ہے جس میں وہ پہلے بھی مبتلا تھے اور آج بھی ہیں۔ اس صفت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ تحریف کیا ہے اور اس کے لغوی اور اصطلاحی معانی کیا ہیں۔ علامہ راغب اصفہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تحریف لغت میں “حرف” کے مادہ سے نکلا ہے، جس کے معنی کنارے، پہلو اور جانب کے ہیں، یعنی کسی چیز کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا دینا۔
اصطلاح میں تحریف اس عمل کو کہتے ہیں کہ کسی کلام یا متن کے اصل معنی کو جان بوجھ کر بدل دیا جائے، یا الفاظ کو اپنی جگہ سے ہٹا دیا جائے، یا ایسا مفہوم بیان کیا جائے جس سے کلام کے کہنے والے کا مقصد ختم ہو جائے۔ یہ تحریف لفظ، معنی، اعراب، تفسیر یا عملی تطبیق میں ہو سکتی ہے۔
تحریف صرف تحریری متن تک محدود نہیں ہے۔ علماء کرام فرماتے ہیں کہ تحریف صرف لکھے ہوئے کلام کی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ زبانی گفتگو میں بھی تحریف ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے کلام کو سنے، اسے سمجھے، پھر جان بوجھ کر اسے لوگوں تک کسی اور انداز میں پہنچائے تو یہ بھی تحریف کہلائے گی۔ یہود میں یہی بری صفت موجود تھی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں تحریف کرتے تھے، جیسا کہ قرآنِ عظیم میں بار بار ان کی اس صفت کا ذکر آیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ} (البقرہ: ۷۵)
ترجمہ: کیا تم امید رکھتے ہو کہ وہ تم پر ایمان لے آئیں گے، حالانکہ ان میں سے ایک گروہ اللہ کا کلام سنتا تھا، پھر اسے سمجھ لینے کے بعد جان بوجھ کر اس میں تحریف کر دیتا تھا، باوجود اس کے کہ وہ جانتے تھے؟
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ} (النساء: ۴۶)
ترجمہ: یہود میں سے کچھ لوگ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں: ہم نے سنا اور نافرمانی کی، اور (طنزاً) کہتے ہیں: سنو، (ایسے کہ) تمہارے کانوں تک نہ پہنچے، اور “راعنا” کہتے ہیں، اپنی زبانوں کو موڑتے ہیں اور دین میں طعن کرتے ہیں۔
علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ “يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ” کا مطلب یہ ہے کہ وہ یا تو تورات کے الفاظ کو بدل دیتے تھے، یا صحیح معانی کو چھپا لیتے تھے، یا ایسا مفہوم پیش کرتے تھے جس سے لوگوں کے ذہن گمراہ ہو جائیں۔
یہود اکثر رسول اللہ ﷺ کی وہ صفات جو تورات میں بیان ہوئی تھیں، چھپاتے اور ان میں تحریف کرتے تھے تاکہ ان کا دنیاوی مقام خطرے میں نہ پڑے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ} (البقرہ: ۱۴۶)
ترجمہ: جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی، وہ رسول اللہ ﷺ کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔
جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! مجھے اپنے بیٹوں کے بارے میں بھی اتنا یقین نہیں جتنا رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر ہے، کیونکہ ممکن ہے بچوں کی ماں نے خیانت کی ہو، لیکن رسول اللہ ﷺ کی نبوت میں کوئی شک نہیں۔
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ یہود نے زنا کے حکم کو چھپا لیا تھا اور چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو ادھورا حکم بتایا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے تورات کا اصل حکم ظاہر کر دیا۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ تحریف صرف الفاظ میں نہیں بلکہ شرعی احکام کو چھپانے میں بھی ہوتی تھی۔
یہ تحریف کی صفت صرف پہلے زمانے کے یہود تک محدود نہیں رہی بلکہ آج کے دور میں بھی وہ اسی صفت میں مبتلا ہیں۔ حقائق کو مسخ کرتے ہیں، سچی خبروں کو بدل دیتے ہیں، اور ہر اس چیز میں تحریف کرتے ہیں جو ان کے مفادات کے خلاف ہو۔

