یہودیوں کی عادات کے سلسلے میں آج ہم ان کی ایک اور عادت جانیں گے۔
۶- بے گناہ انسانوں کا قتل:
یہودیوں کے ناپسندیدہ اعمال میں سے ایک اور عمل بے گناہ انسانوں کا قتل ہے؛ ایسا عمل جس کی جڑیں ان کے طرزِ عمل میں گہرے تاریخی پس منظر کی حامل ہیں۔ یہ عادت ان میں کوئی نئی یا اچانک پیدا نہیں ہوئی، بلکہ ان کی سابقہ اقوام بھی اسی قبیح فعل میں مبتلا رہی ہیں، جیسا کہ آئندہ سطور میں اس کی وضاحت ہوگی۔
یہودیوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں اللہ جل جلالہ کے بہت سے برگزیدہ بندوں، یعنی انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام، جلیل القدر علماء اور دیگر نیک و صالح افراد کو شہید کیا ہے۔ اللہ جل جلالہ نے قرآنِ عظیم الشان میں بار بار اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے کہ یہودی اس بری عادت میں مبتلا رہے ہیں، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ (سورۃ آلِ عمران)
ترجمہ: یقیناً وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں، انبیاء کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی قتل کر دیتے ہیں جو انصاف کا حکم دیتے ہیں، تو انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجیے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ﴾ (البقرۃ: ۶۱)
ترجمہ: اور وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل نے انبیاء علیہم السلام کو ایک مرتبہ نہیں بلکہ بار بار قتل کیا، اور یہ ان کی سرکشی اور نافرمانی کی واضح دلیل ہے۔
اسی طرح اللہ جل جلالہ سورۂ آلِ عمران میں فرماتے ہیں کہ یہودیوں پر الٰہی غضب نازل ہونے کا سبب یہ تھا کہ وہ انبیاء اور بے گناہ انسانوں کو قتل کرتے تھے:
﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ﴾ (آلِ عمران: ۱۱۲)
ترجمہ: یہ اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کیا کرتے تھے۔
شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
بنی اسرائیل کی تاریخ میں ظلم، قتل و غارت اور حق کی مخالفت کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، جن پر قرآن، سنت اور تاریخ کی کتابیں گواہ ہیں۔
سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ یہودیوں نے یہ کوشش بھی کی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذ باللہ) شہید کر دیں، مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے اس ناپاک منصوبے کو عملی جامہ پہناتے، اللہ جل جلالہ نے ان کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔
واقعہ یوں ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعض صحابہ کے ساتھ قبیلہ بنی نضیر کے ایک گھر کی دیوار کے سائے تلے تشریف فرما تھے۔ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بڑا پتھر گرا دیا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبرئیل امین علیہ السلام کے ذریعے اس سازش سے آگاہ فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً وہاں سے اٹھے اور اپنے گھر تشریف لے گئے، یوں یہ بدترین سازش عملی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی ناکام ہو گئی۔ بعد ازاں غزوۂ بنی نضیر پیش آیا۔
موجودہ زمانے میں بھی یہودیوں نے ایسے ظلم و ستم اور زیادتیاں کی ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں۔ وہ بچوں، حاملہ عورتوں، نہتے اور مظلوم انسانوں کو نشانہ بناتے ہیں، اور عالمی ادارے نہ صرف خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں بلکہ عملاً ان کی پشت پناہی بھی کرتے نظر آتے ہیں۔

