جو شخص بھی اپنے دشمن سے برسرِ پیکار ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دشمن کی مکمل اور دقیق پہچان رکھے۔ یہ شناخت دشمن کی بنیادی صفات، خصوصیات، نظریات اور اخلاقی حالت پر قائم ہونی چاہیے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ دشمن کس طرح سوچتا ہے، کیسے منصوبے بناتا ہے، اور ان منصوبوں کو کس انداز سے عملی شکل دیتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے امتِ مسلمہ یہودیت، اور خصوصاً عالمی صہیونیت کے ساتھ، ایک طویل فکری، عسکری اور سیاسی جنگ میں مبتلا ہے۔ یہ طویل المدّت اور پیچیدہ معرکہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے دشمن کو گہرائی اور باریکی سے پہچانیں۔
یہ دشمن صرف ایک عسکری جارح نہیں، بلکہ فکر، ثقافت، عقیدہ اور معیشت کے ذریعے بھی امتِ مسلمہ کی اساس پر حملہ آور ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ امتِ مسلمہ اس دشمن کے نظریات، اس کی حکمتِ عملی اور اس کے عملی منصوبوں کو سمجھے۔
علامہ سید قطب رحمہ اللہ اپنی تفسیر ’’فی ظلال القرآن‘‘ میں یہود کی تاریخی عداوت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جس شخص نے جنگِ احزاب کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا، وہ یہودی تھا۔ جس نے دورِ عثمان رضی اللہ عنہ میں فتنہ برپا کیا، عوام کو اُکسایا، جھتے کھڑے کیے اور افواہیں پھیلائیں، وہ یہودی تھا۔ جس نے رسول اللہ ﷺ کے نام سے جھوٹی احادیث گھڑنے اور من گھڑت روایتیں پھیلانے کی مہم شروع کی، وہ بھی یہودی تھا۔
اور جس نے مسلمانوں کے آخری خلافت، خلافتِ عثمانیہ میں قوم پرستی کا نعرہ بلند کیا یعنی آتاترک؛ وہ بھی یہودی النسل تھا۔ الغرض، مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والی ہر سازش اور ہر فتنہ کے پیچھے تمہیں یہود کا ہاتھ ضرور نظر آئے گا۔
اگر اس سے آگے بڑھ کر دیکھو تو مادّی اور لادینی فکر کے پیچھے بھی ایک یہودی ذہن کارفرما ہے۔ اس فکری گمراہی کے پیچھے، جس میں انسان کو محض خواہشات کا غلام تصور کیا جاتا ہے، ایک یہودی سوچ موجود ہے۔ اور بالآخر ہر فکری، اخلاقی اور معاشرتی فساد کے پس منظر میں یہود کے ہاتھ نمایاں نظر آتے ہیں۔
بدقسمتی سے امتِ مسلمہ ابھی تک، جیسا کہ اس معرکے کا تقاضا ہے، اس ظالم اور بے رحم دشمن کو صحیح طور پر پہچان نہ سکی اور مسلمان آج تک اپنے دشمن کے حقیقی چہرے کی معرفت سے محروم ہیں؛ لہٰذا ہم اس سلسلے میں کوشش کریں گے کہ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوی کی روشنی میں یہود کے اوصاف، اخلاق اور عملی رویّے واضح کریں، تاکہ ان کا اصل چہرہ امت کے سامنے آشکارا ہو جائے۔

