یہود کی صفات کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے، اس قسط میں ہم ان کی ایک اور خصوصیت کا جائزہ لیں گے۔
۳: توسیع پسندی اور وسعت طلبی
تیسری بیماری اور آفت جس میں یہود مبتلا ہو چکے ہیں اور جو ان کی فطرت میں رچ بس گئی ہے، وہ توسیع پسندی کی وہ نہ ختم ہونے والی خواہش ہے جو ہمیشہ ان کے خیالات میں زندہ رہی ہے۔ اللہ جل جلالہ قرآنِ عظیم الشان میں فرماتے ہیں:
{وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ} (سورۃ البقرہ)
ترجمہ:
“اور تم انہیں زندگی کے بارے میں سب لوگوں سے زیادہ حریص پاؤ گے…”
یہ آیت یہود کی دنیا پرستی، حریص فطرت اور نہ پوری ہونے والی خواہشات کو واضح کرتی ہے، اور یہی خصوصیت ان کی توسیع پسندی کی بنیاد بنتی ہے۔
اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“یہود امتوں میں سب سے زیادہ تسلط کے خواہاں ہیں، ان کی کوئی بھی حکومت اس وقت تک قائم نہیں ہوئی جب تک وہ قوموں کے خون اور تباہی پر قائم نہ کی گئی ہو۔”
(مجموع الفتاویٰ، جلد ۲۸، صفحہ ۵۴۰)
اسرائیل اور یہود صرف ان زمینوں پر اکتفا نہیں کرتے جن پر وہ اب تک قبضہ کر چکے ہیں، بلکہ مزید پھیلاؤ کی خواہش رکھتے ہیں۔ اسرائیل جہنم کی مانند ہے؛ جب اس سے پوچھا جائے کہ کیا تو بھر گئی؟ تو کہتی ہے: کیا اور بھی ہے؟
صہیونی حکومت “گریٹر اسرائیل” کے تصور کی حامل ہے، جسے نیل سے لے کر فرات تک پھیلا ہوا تصور کیا جاتا ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ کے دعوے اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ بعض یہود کا عقیدہ ہے کہ ان کا ملک نیل (مصر میں) سے فرات (عراق میں)، اور ارز کے درخت (لبنان میں) سے کھجور کے درخت تک (مدینہ منورہ، سعودی عرب میں) پھیلا ہوا ہے۔
اسرائیل شاحاک، جو تل ابیب یونیورسٹی کا پروفیسر تھا، اپنی ایک کتاب میں جو انگریزی زبان میں لکھی گئی، لکھتا ہے: وہ ریاست جسے ہم قائم کرنا چاہتے ہیں، اس میں شام، لبنان، ترکی، عراق، سعودی عرب، یمن، کویت اور مصر کے وسیع علاقے شامل ہوں گے۔
حقیقت میں ان کا مقصد پوری دنیا پر تسلط حاصل کرنا ہے، لیکن سیاسی مصلحتوں کے تحت وہ بتدریج آگے بڑھتے ہیں اور اپنے اہداف کو کھل کر بیان نہیں کرتے۔
جب ایک صحافی نے اسرائیل کی سابق وزیرِ اعظم گولڈا مائر سے پوچھا کہ اسرائیل کی سرحدیں کہاں تک جاتی ہیں، تو اس نے جواب دیا: جب ہم اسرائیل کی حقیقی سرحدوں تک پہنچ جائیں گے، تب آپ کو اطلاع دیں گے۔
اسی طرح بن گوریون نے اپنی تقاریر میں کہ: ہماری ریاست کی خواہش ہے کہ جنوبی لبنان، جنوبی شام اور سینا اسرائیل کا حصہ بن جائیں۔ اسی وجہ سے اوسلو معاہدے میں اسرائیل کی حتمی سرحدوں کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں کی گئی۔
یہ تمام شواہد اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ یہود توسیع پسندی کی اس بری صفت کے حامل ہیں، اور ان زمینوں پر اکتفا نہیں کرتے جن پر وہ اب تک قبضہ کر چکے ہیں، بلکہ اپنی بالادستی کو مزید بڑھانے اور اسلامی سرزمینوں کو اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہود کے ان ناپاک مقاصد کی تکمیل کے لیے مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ، ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں؛ عسکری تعاون، جدید اسلحہ کی فراہمی، اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کے حق کے ذریعے ان کی حمایت کرتے ہیں۔

