Site icon المرصاد

یہود کون ہیں؟ چھٹی قسط

یہود کی پہچان کے سلسلے میں، اس حصے میں ہم یہودیوں کی ایک اور صفت کا جائزہ لیں گے۔

۵- بخل اور حبِ مال

یہود کی فطرت اور سرشت میں گہرائی تک پیوست بدترین بیماری میں سے ایک مال پرستی، بخل اور حرص ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی کے بعد انہوں نے سونے کے بچھڑے کی عبادت کی، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انہیں سونے، مال اور دنیا سے شدید محبت اور گہرا لگاؤ تھا۔

یہودی عموماً خود پسند، خود غرض اور انتہائی بخیل ہوتے ہیں، اور ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ نہ کسی فرد کو فائدہ پہنچے اور نہ ہی کسی قوم کو۔ اسی بخل اور خود غرضی کے باعث، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو یہودیوں نے آپ ﷺ کی حقانیت کو پوری طرح پہچاننے کے باوجود آپ پر ایمان لانا قبول نہ کیا۔

اللہ جل جلالہ فرماتے ہیں:

﴿الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ﴾
ترجمہ: “وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے، وہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔”

لیکن اس واضح حقیقت کے باوجود اکثر یہودی ایمان نہ لائے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ نبی عربوں میں سے مبعوث ہوں، اور یہ بھی انہیں قبول نہ تھا کہ آپ کے صحابہ کو قوت اور اقتدار حاصل ہو اور بنی اسرائیل ان کے زیرِ نگیں آ جائیں۔

اللہ جل جلالہ نے قرآنِ کریم میں بارہا ان کی اسی بری صفت کا ذکر کیا ہے:

﴿فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾
ترجمہ: “پس ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے بدلے تھوڑا سا دنیاوی فائدہ حاصل کریں۔”

علامہ ابنِ کثیر رحمہ اللہ بخل کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

“بخل نفس کی وہ بیماری ہے جو انسان کو حق ادا کرنے سے روک دیتی ہے، اور یہودی اس صفت کی سب سے نمایاں مثال ہیں، کیونکہ وہ نہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں اور نہ حق کا ساتھ دیتے ہیں۔”

اسی طرح علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

“یہودی دنیا کی محبت کی وجہ سے حق کو چھپاتے ہیں، آیات میں تحریف کرتے ہیں، اور تھوڑی سی دنیاوی منفعت کے لیے آخرت کے بڑے نقصان کو قبول کر لیتے ہیں۔”

یہی بخل اور مال پرستی ہے جس نے یہودیوں کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کے مظلوم عوام کے گھروں کو مسمار کریں، ان پر ظلم و دباؤ بڑھائیں تاکہ انہیں اپنی سرزمین سے ہجرت پر مجبور کیا جا سکے، اور انہیں پانی، زمین اور زندگی کی بنیادی سہولتوں جیسے اہم وسائل سے محروم کر دیا جائے۔

یہودی پروفیسر بن زیون دینورا کہتا ہے:

“ہمارا ملک دو قوموں کے ایک ساتھ رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔”

یہ قول یہودی فکر کے اس پہلو کو ظاہر کرتا ہے جو بخل، خود غرضی اور استبداد سے جنم لیتا ہے۔

Exit mobile version