Site icon المرصاد

یہود کون ہیں؟ گیار ہویں قسط

یہود کے اوصاف کے تسلسل میں اس مقام پر ہم ان کی ایک اور صفت کا ذکر کرتے ہیں:
۱۰۔ دینی شعائر کا تمسخر اور استہزاء
یہود کے ناپسندیدہ اوصاف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ دینی شعائر کا مذاق اڑاتے اور ان کی توہین کرتے رہے ہیں اور آج بھی کرتے ہیں۔ دین کے ساتھ استہزاء اور تمسخر ایک نہایت مذموم عادت ہے، جس کی اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بار بار سخت الفاظ میں مذمت فرمائی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں یہود اس خصلت کے حامل رہے، کیونکہ وہ تکبر جیسے مرض میں مبتلا تھے، اور اسی تکبر نے انہیں حق کے مقابلے میں سرکشی اور احکامِ الٰہی کی توہین پر آمادہ کیا۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ} (المائدة: ۵۷)
ترجمہ: اے ایمان والو! ان لوگوں کو اپنا قریبی دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بناتے ہیں، خواہ وہ ان میں سے ہوں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی یا دوسرے کافر ہوں، اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر تم واقعی مومن ہو۔

اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
{وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ} (المائدة: ۵۸)
ترجمہ: اور جب تم نماز کے لیے اذان دیتے ہو تو وہ اسے مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں؛ یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔

اس آیت کے معنی اور مقصد کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اس کے شأنِ نزول کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ علامہ ابو عبد الله القرطبی رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں کلبی سے نقل کرتے ہیں:
قال الكلبي: كان إذا أذَّن المؤذِّن وقام المسلمون إلى الصلاة قالت اليهود: قد قاموا لا قاموا؛ وكانوا يضحكون إذا ركع المسلمون وسجدوا، وقالوا في حق الأذان: لقد ابتدعتَ شيئًا لم نسمع به في الأمم الماضية، فمن أين لك صياحٌ كصياح العير؟ فما أقبحه من صوت، وما أسمجه من أمر!
ترجمہ: کلبی کہتے ہیں کہ جب مؤذن اذان دیتا اور مسلمان نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہود کہتے: کھڑے تو ہو گئے، کاش نہ کھڑے ہوتے! اور جب مسلمان رکوع و سجود کرتے تو وہ ان پر ہنستے۔ اذان کے بارے میں وہ کہتے: تم نے ایک نئی چیز ایجاد کی ہے جو ہم نے پہلی امتوں میں نہیں سنی؛ یہ کیسی آواز ہے جو گدھے کی آواز جیسی ہے؟ کیا ہی بدصورت آواز ہے اور کتنا برا کام!

درحقیقت دین اور مقدسات کا مذاق اڑانا بے عقلی کی واضح علامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں صراحت کے ساتھ فرمایا: {ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ}
علامہ ابو عبد الله القرطبی رحمہ اللہ اس جملے کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: واسم الإشارة في قوله: ’’ذٰلك بأنهم قوم لا يعقلون يعود إلى ما كان منهم من استهزاء وسخرية؛ أي أن سبب صدور هذا الاستهزاء والعبث عنهم أنهم قوم سفهاء جهلاء، لا يدركون الأمور على وجهها الصحيح، ولا يستجيبون للحق الذي ظهر لهم، بسبب عنادهم وأحقادهم.‘‘
ترجمہ: اس جملے میں اسم اشارہ (ذلک) سے ان کے اسی تمسخر اور استہزاء کی طرف اشارہ ہے؛ یعنی ان کے اس رویے کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ نادان اور کم عقل لوگ تھے، جو حقائق کو صحیح طور پر سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، اور حق واضح ہو جانے کے باوجود اپنے عناد اور کینہ کی بنا پر اسے قبول نہیں کرتے تھے۔

سلفِ صالحین سے منقول ہے:
»مَنِ اسْتَهْزَأَ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِ اللَّهِ فَقَدْ عَرَّضَ إِيمَانَهُ لِلْخَطَرِ«
یعنی: جو شخص اللہ کے دین کی کسی بھی چیز کا مذاق اڑاتا ہے، وہ اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ مذکورہ آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہود میں دینی شعائر کا مذاق اڑانے کی صفت پائی جاتی تھی اور وہ اسے بار بار دہراتے تھے۔ یہ صفت صرف قدیم یہود تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے آج کے بعض لوگ بھی اسی روش کو اختیار کیے ہوئے ہیں اور اسلامی شعائر کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ جیسا کہ دنیا نے بارہا دیکھا کہ بیت المقدس کی بے حرمتی کی گئی، مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا گیا، اور ان کے تقدس کا لحاظ نہیں رکھا گیا؛ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رویہ آج بھی یہود میں موجود ہے۔

Exit mobile version