یہاں ایک آرزو کے لیے جدوجہد کی گئی، ایسی جدوجہد جس کی نظیر شاید تاریخ کے اوراق میں کہیں نہ ملے، یہ آرزو حاصل ہوئی، افغانستان کی پوری سرزمین پر اسلامی نظام حاکم ہوا، قبضے کی وہ بساط سمیٹ لی گئی جو افغانستان کی رنجور سرزمین پر پھیلی ہوئی تھی، ایک ایسی آزادی آئی جس کی پیاسی روحیں اب تک متلاشی تھیں اور شدت سے ترس رہی تھیں۔
لیکن کچھ معاصر فرعون موجود ہیں، جو اس آرزو کو لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے سر پر آزادی کی پھیلی ہوئی چادر کو داغدار کریں، آج جو دیوانہ بگرام کے قبضے کے نعرے مار رہا ہے، وہ وہی مغرور حاکم ہے جس نے کل اپنا عالمی وقار کھویا، آج پھر وہ اسی وقار کی بحالی چاہتا ہے، لیکن کیسے؟
عسکری یلغار کے ذریعے؟
یا سیاسی تعامل کے ذریعے؟
اگر وہ پہلی راہ کا انتخاب کرتا ہے، تو یہ ایک ناکام تجربے کا دوبارہ اعادہ ہوگا، نہ صرف یہ کہ کھویا ہوا وقار بحال نہیں ہوگا، بلکہ اس کی عالمی ساکھ مزید خراب ہوگی، کیونکہ یہ سرزمین پہلی بار استعمار کی زد میں نہیں آئی، لیکن استعمار کے برقرار رکھنے اور بقا کا استعداد اب تک کسی استعماری قوت نے نہیں پایا، چاہے وہ ٹیکنالوجی اور جدید طاقت کی سرخیل ہی کیوں نہ ہو۔
اگر اس کا ارادہ سیاسی تعامل کا ہے، تو پھر ضروری ہے کہ موجودہ قیادت کو سب سے پہلے تسلیم کیا جائے، مجھے حیرت ہے کہ وہ اس قیادت سے اس عظیم تعامل کی توقع کیسے رکھتا ہے، جس قیادت نے ایک مہاجر کے سر پر پوری قیادت قربان کی، وہ اس قیادت سے خیانت کی توقع کیسے رکھتا ہے، جس نے دو دہائیوں تک اسی مقصد کے لیے جدوجہد کی۔
یہ بالکل ناممکن ہے کہ موجودہ قیادت بگرام کے بدلے ٹرمپ کے ساتھ کوئی سودا کرے، اس قیادت کا مؤقف بالکل واضح ہے، اس نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوحہ معاہدے پر عمل پیرا رہے، افغانستان کی سرزمین کی سالمیت اور سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرے، اور یہ کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔
امارت کا مؤقف انتہائی معقول ہے، اور ساتھ ہی ساتھ یہ امریکہ کو اس کی پچھلی شکست کی یاددہانی بھی ہے، اس نے کہا ہے: ناکام تجربات کی بجائے عقلمند اور حقیقت پسندانہ پالیسی اپنانی چاہیے، اگر امریکہ علاقائی رسا کشی کو فروغ دیتا ہے، یا اس کا کوئی اور مقصد ہے، وہ پورا نہیں ہوگا، ہمارے اپنے مفادات ہیں، جن میں سب سے پہلے ہماری سرزمین کی سالمیت ہے، جس پر ہم کسی صورت سودا نہیں کریں گے۔
بگرام افغانستان کا حصہ ہے، ایک قیمتی حصہ، جو کسی قیمت پر غیر ملکی نہیں ہوگا، کسی صورت فروخت نہیں ہوگا، یہاں افغان عوام نے غیر ملکیوں کی موجودگی کے خلاف جدوجہد کی، جہاد کیا، اور انہیں نکال دیا، اب کون سی عقل کے ساتھ وہ دوبارہ غیر ملکیوں کی موجودگی کے لیے لابنگ کریں گے؟ ضروری ہے کہ اس عوام کی نبض کو سمجھا جائے، ان کے جذبات کا ادراک کیا جائے، اگر اس عوام نے امریکی اڈوں کو قبول کرنا ہوتا تو یہ بیس سالہ جدوجہد نہ کرتے، امریکہ اس سرزمین سے پچھلی بار کچھ نہ لے جا سکا اور نہ ہی اس بار کچھ لے جانے پائے گا۔

