Site icon المرصاد

یہ محاذ آرائی کس کو مضبوط اور کس کو کمزور کرے گی؟

ایسی دنیا میں جہاں ہر لمحہ طاقت، سیاست اور معیشت کے درمیان پوشیدہ مقابلوں کا میدان سجا ہوا ہے، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ محاذ آرائی صرف دو ممالک کا تنازع نہیں، بلکہ یہ عالمی توازن کی ازسرِ نو تشکیل کے ایک نازک لمحے کی مانند ہے۔ یہاں ہر قدم محض ایک حکمتِ عملی نہیں، بلکہ آنے والی دہائیوں کے لیے طاقت کے نقشے پر ایک نئی لکیر ہے۔

امریکہ، جو اب بھی خود کو عالمی نظام کا محور سمجھتا ہے، اپنی بالادستی برقرار رکھنے اور اسٹریٹیجک راستوں پر کنٹرول کھونے سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم مقام کو صرف جغرافیائی نقطہ نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ یہ عالمی معیشت کی سانس کی نالی ہے۔ لیکن اس بار واشنگٹن کے سامنے ایک ایسی دنیا کھڑی ہے جو اب کسی ایک اشارے پر تبدیل نہیں ہوتی۔ یہاں ہر اقدام عالمی طاقتوں، معاشی دباؤ اور سیاسی حدود کے سائے میں پرکھا جاتا ہے۔

دوسری جانب، ایران ایک ایسے مؤقف کی نمائندگی کرتا ہے جہاں پسپائی کو شکست سمجھا جاتا ہے۔ اس کی پالیسی صرف بقا کے لیے نہیں، بلکہ اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے ہے۔ ایران خود کو ایک ایسی قوت کے طور پر منوانا چاہتا ہے جو نہ صرف اپنی خودمختاری کا تحفظ کرے بلکہ خطے کے توازن میں بھی مرکزی کردار ادا کرے۔ اسی لیے ہر دباؤ کے جواب میں اس کا ردعمل صرف دفاع تک محدود نہیں بلکہ ایک فعال مزاحمت کی صورت اختیار کرتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس طویل اور پیچیدہ محاذ آرائی میں آخر کون مضبوط ہوگا اور کون کمزور؟

اس کا جواب سادہ نہیں، کیونکہ یہ محاذ آرائی صرف عسکری میدان میں نہیں ناپی جا سکتی۔ اگر جنگ پھیلتی ہے تو دونوں فریق نقصان سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ عالمی معیشت متزلزل ہوگی، توانائی کی قیمتیں بڑھیں گی، اور خطے کا استحکام شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔ ایسی صورت میں فائدہ اسی کو ہوگا جو بحرانوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو، نہ کہ صرف جنگ کا خواہاں ہو۔

امریکہ بظاہر عسکری قوت میں برتری رکھتا ہے، مگر طویل جنگ کے اخراجات، داخلی دباؤ اور عالمی سیاسی رکاوٹیں اس برتری کو ایک بھاری بوجھ میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ اس کے برعکس، ایران اگرچہ معاشی پابندیوں کا شکار ہے، مگر غیر متوازن جنگی حکمتِ عملی، علاقائی تعلقات اور طویل مزاحمت کے تجربے نے اسے ایسا حوصلہ دیا ہے کہ وہ دباؤ کا مقابلہ کر سکے۔

اسی دوران اصل تبدیلی عالمی نظام میں آ رہی ہے۔ اب وہ دور نہیں رہا کہ ایک طاقت بلا مقابلہ ہر چیز پر قابض ہو۔ کثیر القطبی دنیا نے ہر تصادم کو پیچیدہ مساوات میں بدل دیا ہے۔ یہاں کسی ایک ملک کی کمزوری دوسرے کی مطلق طاقت کی ضمانت نہیں بنتی بلکہ نئے کھلاڑیوں کے لیے مواقع پیدا کرتی ہے۔

لہٰذا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ محاذ آرائی نہ صرف جیتنے اور ہارنے والوں کا تعین کرے گی بلکہ طاقت کے تصور کو بھی بدل دے گی۔ مضبوط وہی ہوگا جو جنگ کے ساتھ ساتھ امن کو سنبھالنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو، اور کمزور وہ ہوگا جو صرف طاقت پر انحصار کرے اور بدلتی دنیا کی حقیقتوں سے آنکھیں بند کر لے۔

آخر میں، یہ مقابلہ ہمیں ایک بڑی حقیقت بتاتا ہے: آج کی دنیا میں حقیقی طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ عقل، صبر اور اسٹریٹیجک بصیرت میں پوشیدہ ہے۔ جو اس حقیقت کو سمجھ لے گا، وہی کل دنیا کے نقشے پر سربلند کھڑا ہو گا۔

Exit mobile version