Site icon المرصاد

۲۴ اسد؛ اسلامی حکومت سے بیعت کا عہد!

۲۴ اسد افغانستان کی معاصر تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اسی تاریخی دن افغانستان کا تھکا اور بوجھل دل ایک نئی دھڑکن سے زندہ ہوا۔ اس ناقابلِ فراموش دن، افغانستان کی غیور عوام نے برسوں کے جہاد، مزاحمت اور استقامت کے بعد ایک بار پھر اسلامی حکومت کے ساتھ بیعت کا عہد کیا۔ یہ عہد قلم اور کاغذ پر نہیں، بلکہ شہیدوں کے خون اور اللہ جل جلالہ کے بندوں کے پختہ عزم کے ساتھ ثبت ہوا۔

اس روز کابل اتحاد اور ایمان کا ایک دلکش منظر پیش کر رہا تھا۔ وہی گلیاں اور راستے، جو کبھی غلامی، غیرملکی قبضے اور تقسیم کی علامت تھے، اب اُن ثابت قدم قدموں کے گواہ تھے جنہوں نے آزادی اور اسلام کا پیغام پہنچایا۔ اُس دن کی دوپہر کی اذان آسمانی صدا کی مانند تھی، جو ایک نئے دور کی نویدِ صبح سنا رہی تھی۔

یہ تجدیدِ بیعت افغانستان کو اُس کے اصل رخ کی طرف واپس لے آئی، جیسے بکھرا ہوا پانی دوبارہ یکجا ہو جاتا ہے، ویسے ہی یہ ملت بھی اسلام کی آغوش میں لوٹ آئی۔ آج جب ہم اس دن کو یاد کرتے ہیں تو اسی پاکیزہ بیعت پر زور دیتے ہیں، کیونکہ عزت اور سربلندی کا حقیقی مفہوم صرف اسلامی حکومت کے سائے میں ہی مکمل ہوتا ہے۔

اسی تاریخی بیعت کی برکت سے افغانستان آج سماجی زندگی کے تمام میدانوں میں گہری اور انقلابی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے؛ مدارس اور جامعات، جو آج ایک باعزم اور متعہد نسل کی تربیت گاہیں بن چکی ہیں، سے لے کر بازاروں اور اقتصادی مراکز تک، جو «لا إله إلا الله» کے مقدس پرچم تلے اپنے امور سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ سب اس ملت کے راسخ ارادے کی نشانیاں ہیں کہ وہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے، جو اسلامی اصولوں پر استوار ہو۔ یہ مبارک انقلاب، جس کی جڑیں ۲۴ اسد سے پھوٹتی ہیں، آج ثمر آوری کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور دن بدن نئے مراحل طے کر رہا ہے۔

یہ تاریخی دن نہ صرف غیر ملکی کے خاتمے کی علامت تھا، بلکہ قومی خوداعتمادی کے ایک نئے دور کا آغاز بھی تھا۔ آج جب ہم گزشتہ چار برسوں پر نظر ڈالتے ہیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ اس ملت نے اُس اٹوٹ عہد پر بھروسہ کرتے ہوئے تمام سازشوں اور عالمی دباؤ کا مقابلہ کیا، وہ مزاحمت جس کا عملی ثبوت ہمیں زمینی سالمیت کے تحفظ، خود مختار فیصلوں اور علاقائی ترقی کی جستجو میں ملتا ہے۔ یہ سب اسی روح کا ثمر ہے جو ۲۴ اسد کو ظاہر ہوئی تھی۔

آج امتِ مسلمہ کے ایک فرد کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس عظیم کامیابی اور امانت کی حفاظت کریں، باہمی اتحاد اور اسلامی حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرکے اس سفر کو جاری رکھیں۔ وہ نسل جس نے اس تاریخی بیعت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، اسے چاہیے کہ ان اقدار کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرے۔

ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ یہ بیعت محض ایک نعرہ نہیں تھا، بلکہ ایک اٹوٹ عہد تھا؛ ایسی ریاست کی تعمیر کے لیے جو قرآنِ عظیم الشان اور سنتِ نبوی ﷺ کی رہنمائی پر قائم ہو، وہ راستہ جو ہمارے عظیم شہداء نے اپنے خون سے ہموارکیا اور جسے ہمیں علم و عمل کی روشنی میں آگے بڑھانا ہے۔

Exit mobile version