Site icon المرصاد

۲۴ اسد؛ ظالموں کی شکست اور طالبان کی فتح!

دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ صرف اس بات پر کہ ہم ایمان لے آئے، انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہیں ہوگی؟ حالانکہ ہم نے ان سب لوگوں کو آزمایا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، اور اللہ ضرور دیکھے گا کہ کون سچے ہیں اور کون جھوٹے‘‘ [سورۃ العنکبوت: ۲-۳]۔

افغان بھی ان ہی مسلمانوں میں سے ہیں جو تاریخ میں کئی بار آزمائشوں سے گزرے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں کفار نے ان پر بارہا حملے کیے، محض سچے مسلمان ہونے کے جرم میں ان کے جیل خانے بھر دیے، ظلم و وحشت کے ساتھ شہید کیا، انہیں پُرامن اور خوشحال زندگی سے محروم کیا، ہجرت پر مجبور کیا، ان کے غم و خوشی کے اجتماعات بمباری سے اجاڑ دیے، مدرسے اور مساجد مٹی کا ڈھیر بنا دیے، اقتدار اور نظام چھین لیا، اور بے شمار بچوں کو والدین سے جدا کیا، کچھ ماں باپ کے سامنے شہید ہوئے اور کچھ آج تک لاپتہ ہیں۔

لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مدد، تنگی کے بعد آسانی اور مشقت کے بعد راحت پر کامل یقین رکھا، اس لیے انہوں نے فوراً خالی ہاتھ اور بغیر وسائل کے قابض کفار کے خلاف جہاد شروع کیا۔ نتیجتاً دشمن شکست کے دہانے تک پہنچا اور افغانستان سے نکلنے کے لیے مذاکرات پر مجبور ہوا۔ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد وہ سر جھکائے نکل گیا، اپنے وہ کٹھ پتلی غلام چھوڑ کر جو اس کے اشارے پر اپنے مسلمان بھائیوں پر حملہ کرتے تھے۔ کچھ عرصے میں وہ غلام بھی اقتدار سے محروم ہوئے اور وہی طالبان جو کبھی دور کر دیے گئے تھے، کابل کے قلب میں آزادی کا پرچم لہرا کر پورے ملک میں ایک بے مثال اسلامی نظام اور پائیدار امن قائم کر گئے، اور ہماری کھوئی ہوئی امیدیں پھر سے زندہ ہو گئیں۔

یہ زمانے کا اُلٹ پھیر ہے؛ کبھی ظالم غرور کے گھوڑے پر سوار ہو کر مظلوموں پر اپنی مرضی چلاتا ہے، تو کبھی وہی ظالم سر جھکا کر کھڑا ہوتا ہے اور مظلوم اس سے بدلہ لیتے ہیں۔ ظالم زمین بوس ہوتا ہے اور مظلوم عزت کے میناروں پر فائز ہو جاتا ہے۔

فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا، ایک دن اپنی قوم میں اعلان کیا: ’’اے لوگو! کیا مصر کی بادشاہت اور یہ نہریں جو میرے محل کے نیچے بہتی ہیں، میری نہیں ہیں؟ کیا تم دیکھتے نہیں؟‘‘ [سورۃ الزخرف]۔
اللہ تعالیٰ نے وقت بدلا اور وہی فرعون جو موسیٰ علیہ السلام کے قتل کے درپے تھا، سمندر میں غرق کر دیا گیا۔

نمرود کہتا تھا: میں اتنا طاقتور ہوں کہ زندگی اور موت میرے ہاتھ میں ہے۔ اسی مغرور نمرود کے دماغ میں اللہ تعالیٰ نے ایک ننھا سا مچھر ڈال دیا، جس نے اس کی زندگی عذاب بنا دی، یہاں تک کہ جن لوگوں سے کل تک سجدے کراتا تھا، انہی کے ہاتھوں سر پر چپل کھائے بغیر سکون نہ ملتا۔

امیہ بن خلف نے ایک دن بلال رضی اللہ عنہ کو مکہ کی تپتی ریت پر لٹا کر اذیت دی، پھر اللہ نے وقت پلٹا اور میدانِ بدر میں بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار اسی امیہ کے سینے میں اتار دی۔

رسول اللہ ﷺ جب قریش کے قتل کے منصوبے کے باعث مکہ سے ہجرت پر مجبور ہوئے، پھر اللہ نے وہ دن دکھایا جب آپ ﷺ دس ہزار صحابہؓ کے لشکر کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے۔ قریش خوف کے مارے خاموش تھے۔ ابو سفیان نے حضرت عباسؓ سے کہا: ’’بھتیجے! تمہاری حکومت تو بہت وسیع ہو گئی ہے!‘‘

ابو جہل تین ہزار لشکر کے ساتھ روانہ ہوا، راستے میں ابو سفیان نے واپسی کا مشورہ دیا، مگر اس نے کہا: ’’لات اور عزیٰ کی قسم، میں بدر کے میدان میں تین دن تک اونٹ ذبح کیے بغیر، شراب پیے بغیر اور گانے والی عورتوں کو نچائے بغیر مکہ واپس نہیں جاؤں گا۔‘‘ لیکن اللہ نے ایسا دن دکھایا کہ وہی مغرور ابو جہل دو کم سن مجاہدوں کی ضرب سے گھوڑے سے گرا، دم توڑ گیا اور اس کا لشکر عبرت ناک شکست سے دوچار ہوا۔

اسلام کے آغاز میں مسلمان، خاص طور پر وہ جن کا کوئی پشت پناہ نہ تھا، کفار کے ظلم و ستم میں جکڑے ہوئے تھے۔ پھر وقت بدلا اور وہی مسلمان دنیا کے بادشاہ اور رہنما بنے، کفار ان کے سامنے سر جھکائے چلتے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور ہم یہ چاہتے تھے کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کر دیا گیا ہے، ہم ان پر احسان کریں، انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں زمین کا وارث بنائیں‘‘ [سورۃ القصص: ۵]۔

افغانستان میں بھی یہی تاریخی منظر نامہ دہرایا گیا؛ ظالم سرنگوں ہوا اور مظلوم اقتدار کی کرسی پر بیٹھا۔ غم زدہ قوم کو غم کے بعد خوشی نصیب ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس نعمت کو دائمی بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Exit mobile version