Site icon المرصاد

۲ اکتوبر: ہمارا بھولا ہوا دن!

تاریخ میں کچھ دن ایسے ہیں جو نہ صرف مسلمانوں کے لیے، بلکہ پوری انسانیت کے لیے فخر کا باعث ہیں۔ ان دنوں میں سے ایک 2 اکتوبر 1187ء کا دن ہے، جب صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے مظلوم مسلمانوں کے زخمی دلوں کو شفا دی، بیت المقدس کو ظالم صلیبیوں سے آزاد کرایا اور اسلامی پرچم کو اقصیٰ کے آسمانوں پر لہرایا۔

صلاح الدین ایوبی، وہ عظیم مجاہد، عادل حکمران اور دانشمند قائد تھے، جو علم، انصاف، تقویٰ اور جہاد کا ایک نمونہ تھے۔ انہوں نے اپنی بہادری، استقامت اور اللہ کی نصرت پر ایمان کے ساتھ دنیا کو دکھایا کہ بیت المقدس سوداگر نہیں، بلکہ مومن مردوں کی جبینوں کا خون مانگتا ہے۔

بیت المقدس 88 سال تک صلیبیوں کے قبضے میں رہا۔ یہ شہر، جو تینوں آسمانی مذاہب کے لیے مقدس ہے، مسلمانوں کے لیے قبلۂ اوّل، مقامِ اسراء اور روحانی رابطے علامت ہے۔ صلیبیوں نے اس میں اتنا ظلم کیا کہ مسجد اقصیٰ کو اصطبل میں تبدیل کر دیا اور ہزاروں مسلمانوں کو شہید کر دیا۔

لیکن صلاح الدین ڈرے نہیں۔ انہوں نے حطین کی مشہور جنگ میں صلیبیوں کو ایسی شکست دی کہ ان کا غرور خاک میں مل گیا۔ یہ جنگ نہ صرف عسکری فتح تھی، بلکہ مسلمانوں کے عقیدے، اتحاد اور ایمان کا ایک عظیم ثبوت بھی تھی۔

جب صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ طویل جدوجہد، بیشمار قربانیوں اور بے مثال بہادری کے بعد بیت المقدس میں داخل ہوئے، تو غرور کے بجائے عاجزی اور شکر کے عالم میں تھے۔ وہ مسجد اقصیٰ کے محراب تک پیدل گئے، وہاں انہوں نے اپنے گھٹنے زمین پر ٹیکے، ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں، اور انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔

انہوں نے سجدے کیے، کیونکہ وہ جانتے تھا کہ یہ فتح اللہ کی نصرت تھی، نہ کہ صرف تلوار کی طاقت۔ وہ مسجد اقصیٰ، جو تقریباً ایک صدی سے ظالموں کے تسلط میں تھی اور مسلمان اس سے محروم تھے، اب دوبارہ ایمان والوں کو واپس مل گئی۔

صلاح الدین نے یہ فتح زور، طاقت یا دنیا کے لیے نہیں، بلکہ امت کے عزت، اللہ کی رضا اور مظلوم مسلمانوں کی نجات کے لیے حاصل کی۔ یہ اقصیٰ وہ مقام تھا جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص روحانی تعلق تھا، اور ایوبی رحمہ اللہ نے اسے اپنے دل کے خون، دعاؤں، محنت اور قربانی سے دوبارہ آزاد کیا۔

لیکن اب، اے آج کے نوجوان! اے امت کے فرد! اپنے آپ سے پوچھو:

آج اقصیٰ دوبارہ مقبوضہ ہے، لیکن تم کیا کر رہے ہو؟
آج ہزاروں فلسطینی بچے شہید ہو رہے ہیں، لیکن تم کہاں ہو؟
آج ظالم حق کی آواز کو خاموش کر رہا ہے، لیکن تم خاموش کیوں ہو؟

صلاح الدین نے صرف تلوار سے نہیں، بلکہ ایمان، تقویٰ، علم اور بہادری سے امت کی عزت کو زندہ کیا۔ وہ امت کے اتحاد کی آواز تھے، مظلوموں کے مددگار تھے، اور اللہ کی راہ میں قربانی کا ایک سچا سبق تھے۔

آج بھی اقصیٰ کے محرابوں، میناروں اور دیواروں سے درد، مظالم اور یتیموں کی چیخیں بلند ہو رہی ہیں۔ وہ اقصیٰ جو صلاح الدین نے خون سے آزاد کی، آج دوبارہ ہماری بے توجہی، تفرقے اور امت کے زوال کی وجہ سے مقبوضہ ہے۔ امت کی غفلت کی خاموشی اقصیٰ کی سرزمین پر ظلم کے زخم چھوڑ رہی ہے۔ اے مسلمان! اب بہت سو لیا، جاگ اٹھو! تم ان بطلِ عظیم صلاح الدین ایوبی کے وارث ہو۔ ان کے تقویٰ، غیرت، بہادری اور ذمہ داری کی آج پھر ضرورت ہے۔ اقصیٰ تمہارے انتظار میں ہے۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ امت کی عزت صرف جلسوں اور نعروں سے نہیں آتی، بلکہ ایمان، قربانی، عمل اور بہادری سے آتی ہے۔ اگر آج ہم خاموش ہیں، تو کل تاریخ کے صفحات ہماری بے توجہی سے سیاہ ہوں گے۔ اللہ ہمیں صلاح الدین ایوبی جیسی غیرت، ایمان اور ہمت عطا کرے، تاکہ ایک بار پھر اقصیٰ کی اذان آزاد دلوں سے سنائی دے۔

واللہ غالب علیٰ أمرہ۔

Exit mobile version