۶ جدی افغانستان کی تاریخ کے سیاہ اور المناک صفحات میں غم، سوگ اور تباہی کا ایک ناقابلِ فراموش دن ہے۔ یہ وہ دن تھا جب ۱۳۵۸ ہجری شمسی میں سابق سوویت یونین کی افواج نے پوری بے رحمی کے ساتھ ہمارے عزیز وطن پر یلغار کی اور افغانستان کی خودمختاری کو کھلے عام پامال کیا۔
یہ جارحیت محض ایک فوجی حملہ نہیں تھی، بلکہ افغان قوم کے دین، تہذیب، آزادی اور انسانی اقدار پر ایک ہمہ گیر اور وحشیانہ یلغار تھی۔ سوویت افواج نے بھاری ہتھیاروں، ٹینکوں، جنگی طیاروں اور شدید بمباری کے ذریعے شہروں اور دیہاتوں کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں لاکھوں بے گناہ افغان شہید ہوئے، ہزاروں زخمی اور ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے۔ مائیں اپنے بیٹوں سے جدا ہو گئیں، عورتیں بیوہ ہوئیں، بچے یتیم رہ گئے اور ہر گھر کی دہلیز پر غم کا سایہ چھا گیا۔ جنگ کی آگ اس قدر وسیع تھی کہ نہ بوڑھوں کو بخشا گیا، نہ بچوں کو؛ نہ عورتیں محفوظ رہیں اور نہ ہی مساجد، مدارس، تعلیمی ادارے اور کھیت کھلیان اس تباہی سے بچ سکے۔
روسی زندان افغانوں سے بھر گئے، ہزاروں نوجوانوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا، جہاں بے بسی کی آہیں، درد بھری فریادیں اور آزادی کے لیے بے اختیار چیخیں گونجتی رہیں۔ سیکڑوں دیہات ویران ہو گئے، زرعی زمینیں تباہ ہو گئیں اور ملک کے معاشی و سماجی ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ اس یلغار کے نتیجے میں تقریباً پچاس لاکھ افغان اپنے گھروں، بستیوں اور شہروں کو چھوڑنے اورہجرت کی کٹھن اور دردناک زندگی اختیار پر مجبور ہوئے۔
لاکھوں افغان ہمسایہ ممالک کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے، جہاں انہوں نے غربت، بے بسی اور بے سروسامانی کی زندگی گزاری، مگر وطن کی محبت ان کے دلوں سے کبھی محو نہ ہو سکی۔ ان تمام مظالم اور قربانیوں کے باوجود افغان قوم نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے۔ مضبوط ایمان، غیرت اور آزادی کی لگن کے ساتھ انہوں نے دشمن کی یلغار کے خلاف قیام کیا اور مقدس جہاد کے ذریعے دنیا کی ایک بڑی عسکری طاقت کو شکست دی۔ یہ جدوجہد افغان تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ افغان چاہے جتنے بھی ستائے جائیں، غلامی قبول کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوتے۔
۶ جدی کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ آزادی سستے داموں حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ قربانی، صبر اور اتحاد کا ثمر ہوتی ہے۔ افغانستان پر قبضہ سوویت یونین کے لیے محض ایک فوجی مہم نہیں تھا، بلکہ وہی اس کے زوال کا نقطۂ آغاز بھی ثابت ہوا۔ اگرچہ سوویت افواج اپنے وقت کے جدید ترین ہتھیاروں، ٹینکوں اور فضائی قوت سے لیس تھیں، لیکن افغان عوام کی ثابت قدم مزاحمت کے سامنے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
دس سالہ جنگ کے دوران ہزاروں سوویت فوجی مارے گئے، دسیوں ہزار دیگر زخمی اور معذور ہوئے، اور ان کی فوج کو بھاری جانی نقصانات اٹھانے پڑے۔ انسانی نقصانات کے علاوہ سوویت یونین کو شدید معاشی خسارے بھی برداشت کرنے پڑے۔ جنگ کے اخراجات ہر سال اربوں روبل تک پہنچ گئے، جس سے سوویت معیشت بری طرح کمزور ہو گئی۔ ہتھیاروں، آلات، ٹینکوں اور طیاروں کی تباہی، اور جنگ کے طویل تسلسل نے سوویت معاشی نظام کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا اور عوامی غم وغصے میں نمایاں اضافہ ہوا۔
آخرکار سوویت یونین کو مجبوراً افغانستان سے ذلت آمیز شکست کے ساتھ نکلنا پڑا، اور کچھ ہی عرصے بعد اس کی اپنی عظیم سلطنت بھی ٹوٹ کر بکھر گئی۔ یہ حقیقت تاریخ کے اوراق میں واضح طور پر درج ہو چکی ہے کہ طاقت اور ہتھیار وقتی برتری تو دے سکتے ہیں، مگر ایک باایمان، متحد اور آزاد قوم کے عزم کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔
افغانستان کی تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ یہ سرزمین جبر، جارحیت اور قبضے کو قبول نہیں کرتی۔ جو بھی قوت افغانوں کے وطن، اقدار، دین اور آزادی کی طرف ناپاک ارادوں سے نظر اٹھائے، اسے ۶ جدی کے سیاہ تجربے کے نتائج کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اگرچہ افغان قوم وسائل کے لحاظ سے کمزور دکھائی دیتی ہے، لیکن ایمان، غیرت اور قومی عزم کے اعتبار سے اس کے پاس وہ طاقت ہے جس نے دنیا کی بڑی بڑی سلطنتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے۔ اس قوم نے تاریخ کے کسی دور میں بھی غلامی کی زنجیریں قبول نہیں کیں۔
اگر کوئی ہمسایہ یا کوئی اور بیرونی ملک یہ سمجھے کہ زور، بمباری، دھمکی اور دباؤ کے ذریعے افغانستان کی سرزمین کو روند سکتا ہے، تو اسے جان لینا چاہیے کہ اس کا انجام سوویت یونین کے انجام سے مختلف نہیں ہوگا۔ یہ سرزمین حملہ آوروں کے لیے قبرستان بن چکی ہے اور آئندہ بھی بنی رہے گی، کیونکہ یہاں کے لوگ اپنی مٹی کی حفاظت کے لیے آخری سانس تک ڈٹے رہتے ہیں۔ افغان امن کے خواہاں ہیں، مگر عزت اور آزادی پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔
حالیہ دنوں میں پاکستان کے فوجی نظام کی جانب سے افغانستان پر بمباری اور جارحیت ایک تشویشناک عمل ہے، جو تاریخ کے سبق سے چشم پوشی کی علامت ہے۔ ایسی کارروائیاں نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان فضا کو کشیدہ کرتی ہیں بلکہ افغان قوم کے زخموں کو بھی تازہ کر دیتی ہیں۔ اگر کوئی یہ گمان کرتا ہے کہ افغان فضائی حملوں اور دھمکیوں کے باعث خاموش رہیں گے تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی۔ افغان قوم اپنے وطن کے دفاع کے لیے، جیسے ماضی میں متحد ہوئی تھی، ایک بار پھر مضبوط مزاحمت کے میدان میں اترے گی۔
افغانستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایوں کی طرف بھائی چارے، حسنِ نیت اور باہمی احترام کا ہاتھ بڑھایا ہے، مگر اس ہاتھ کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب اس قوم کا صبر جواب دے گیا تو اس کی قیمت مخالف فریق کو بھاری پڑی۔ ۶ جدی صرف غم کا دن نہیں، بلکہ ہر دشمن کے لیے تنبیہ، مضبوط عزم اور قومی بیداری کا دن بھی ہے۔

