Site icon المرصاد

۶ جدی؛ دشمن کی یلغاروں کے بعد افغانستان اور علماء کا مرکزی کردار!

اسلامی نظام کے سفید پرچم کے سائے تلے یہ نیا اور تازہ دم افغانستان، جو اپنی آزادی اور مسلم امت کے مرکزیت کی نئی سانس لے رہا ہے، معاصر تاریخ کے دوران یلغاروں، قبضوں اور فکری جنگوں کے کئی تلخ بابوں سے گزرا ہے، جن میں سے ایک چھ جدی کی یلغار تھی جسے سوویت یونین اور اس کے اتحادیوں نے انجام دیا۔

چھ جدی صرف ایک عسکری یلغار کی ابتدا نہیں تھی؛ بلکہ یہ ایک عالمی باطل نظریہ (کمیونزم) کا واضح طور پر مسلط کرنا بھی تھا، جس طرح گذشتہ بیس سالہ دور (امریکی قبضہ) بھی ایک نئے انداز کے قبضے؛ نرم، ثقافتی اور سیاسی یلغار کی واضح مثال تھی۔
یہ تحریر انہی تجربات اور جنگوں کے بعد موجودہ افغانستان کا جائزہ اور علماء کے مرکزی کردار پر روشنی ڈالتی ہے:

قبضہ صرف فوجی مظہر نہیں:
تاریخی تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ قبضہ صرف ٹینک، جہاز، بندوق اور فوج کا نام نہیں؛ بلکہ یہ ایک قوم کے درست فکر، عقیدہ، ثقافت، روایات اور شناخت کو مٹانے کی مرکب جنگ ہے۔ چھ جدی میں سوویت یلغار کمیونزم لائی، جبکہ گذشتہ امریکی یلغار اپنے ساتھ لبرل ازم، سیکولرازم اور مادی ثقافت کا تحفہ لائی، اور دونوں یلغاروں کی پوری کوشش یہی تھی کہ:
۱۔ افغانوں کے ایمان کی جڑیں کمزور کیں۔
۲۔ آزادی اور جدوجہد کی حق خود ارادیت کو ختم کرنے کی کوشش ہوئی۔
۳۔ آزاد فکر کے بجائے غلام ذہن تیار کیے۔

اسی لیے یہ کہنا درست ہے کہ کفری یلغار کا خاتمہ صرف غیر ملکی افواج کے انخلا کا نام نہیں؛ بلکہ فوجیوں کے نکل جانے کے بعد اصل اور سب سے بڑی جنگ افکار اور اقدار کے میدان میں شروع ہوتی ہے۔

’’ڈانگ اور ٹینک‘‘ کا فلسفہ؛ ایمان کی برتری:
ترکوں کے دور کا ’’ڈانگ اور ٹینک“ کا فلسفہ؛ جو افغان غیور قوم کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، محض کوئی جذباتی یادگار نہیں، بلکہ اسلامی جدوجہد کا ایک بنیادی اصول ہے۔ ڈانگ اگرچہ کمزور ہتھیار کی علامت ہے، مگر اسی ڈانگ کے ساتھ جڑا خالص توکل ایک ناقابلِ شکست قوت کی نشانی بنتا ہے۔

یہ فلسفہ اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ جنگ کا فیصلہ ہتھیار کے وزن سے نہیں بلکہ عقیدے کی طاقت سے ہوتا ہے۔ یہی تجربہ پہلے سوویت یونین کے خلاف اور پھر نیٹو کے مقابلے میں دہرایا گیا، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ دشمن اسی وقت شکست کھاتا ہے، جب قوم اسے اپنی نظر میں غیرمشروع قرار دے، اور یہ کام صرف ایمان اور حق کی طلب ہی سے ممکن ہوتا ہے۔

آزادی کے بعد سب سے خطرناک مرحلہ:
جب حملہ آور اور ان کے ٹینک مقبوضہ زمین سے نکل جاتے ہیں مگر ان کے نظریات باقی رہ جاتے ہیں؛ جب یلغار ختم ہو جاتی ہے لیکن اس کا ثقافتی اثر بدستور زندہ رہتا ہے، تو یہی مرحلہ کسی بھی قوم کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اسی مرحلے میں:
۱۔ انتقام، عدل کی جگہ لے لیتا ہے۔
۲۔ داخلی اختلاف، خارجی دشمن کی جگہ سنبھال لیتا ہے۔
۳۔ لوگ تھکن اور مایوسی کے عالم میں اپنی قدریں سستے داموں بیچ دیتے ہیں۔
اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ آزادی محض کامیابی نہیں، بلکہ ایک بڑا امتحان بھی ہے۔

علماء کی تاریخی ذمہ داریاں:
بیرونی جارحیت کے خلاف جنگ میں ہر مجاہد صفِ اوّل میں ہوتا ہے؛ لیکن بعد کے مرحلے میں سب سے بڑی ذمہ داری عالمِ دین پر عائد ہوتی ہے۔ ایسے نازک وقت میں علماء کی بنیادی ذمہ داریاں یہ ہیں:
۱۔ زخموں کا علاج:
یلغار کے بعد علماء کی ذمہ داری صرف جسمانی زخموں کے علاج تک محدود نہیں ہوتی؛ بلکہ فکری اور روحانی زخم اس سے کہیں زیادہ توجہ کے مستحق ہوتے ہیں، کیونکہ اس مرحلے پر جنگ کی ہولناکیوں سے نکلنے والی قوم کو نرم گفتاری، حکمت اور صبر کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔
۲۔ اقتدار اور عوام کے درمیان توازن:
عالم کو نہ اقتدار کا غلام بننا چاہیے اور نہ فتنہ بھڑکانے والا۔ عالم کا مقام یہ ہے کہ وہ حق کا خیرخواہ ہو، اور باطل کو روکنے والا ہو۔
۳۔ تفرقے کی روک تھام:
تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان ہر بار پہلے داخل سے کمزور ہوا اور پھر دشمن اس پر غالب آیا۔ لہٰذا علماء کو ایسے مواقع پر وحدت کی آخری فصیل بننا چاہیے، نہ یہ کہ اپنے انفرادی افکار کے نفاذ کے لیے اجتماعی منبر استعمال کریں اور ذاتی ذوق کی خاطر قومی حدود پامال کریں۔
۴۔ آزادی کی شرعی تعریف:
آزادی محض خارجی یلغار سے نجات کا نام نہیں؛ بلکہ حقیقی آزادی یہ ہے کہ فیصلے، قانون، ثقافت اور اقدار اسلام اور قومی ضمیر کی بنیاد پر قائم ہوں۔ اس حقیقت کو سب سے بہتر علماء سمجھتے ہیں اور اسی بنا پر اس کی سب سے بڑی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔
۵۔ اگر علماء خاموش ہو جائیں تو تاریخ خود کو دہراتی ہے:
علمائے کرام کو خاموش نہیں رہنا چاہیے؛ ہر اہم معاملے میں متعلقہ اداروں سے رجوع کریں، مضبوط علمی دلائل کے ساتھ بات کریں، حق کے لیے ڈٹ جائیں اور عوام کو باخبر رکھیں۔ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جب علماء خاموش ہو جاتے ہیں تو میدان جاہلوں کے ہاتھ آ جاتا ہے؛ نصیحت ترک کر دی جائے تو استبداد جنم لیتا ہے، اور جب عدل خاموش ہو جائے تو فتنہ بولنے لگتا ہے۔ اس لیے علماء کی خاموشی خود دشمن کی جارحیت سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔

نتیجہ:
الحمدللہ، عصرِ حاضر میں افغانستان پر جارحیت اور یلغار کرنے والے افغان جرأت و استقامت کے سامنے ٹک نہیں سکے اور شکست کھا گیے؛ ان مجاہدین کی جدوجہد، قربانیوں اور شجاعتوں سے ایک بڑا سبق اخذ کرنا ضروری ہے، اور وہ یہ کہ افغانستان اسی وقت حقیقی معنوں میں آزاد اور دوسروں کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہے، جب:
• افغانوں کے اذہان میں ’’ڈانگ اور ٹینک‘‘ کی روح زندہ رکھی جائے،
• ایمان اور توکل کی فلسفیانہ روح باقی رہے،
• اور علماء اس سرزمین کے زخموں پر مرہم بنیں، نئے زخموں کا سبب نہ بنیں۔
اگر یہ تینوں عناصر یکجا ہو جائیں، تو ان شاء اللہ العزیز، آئندہ کبھی کوئی اس سرزمین پر یلغار کا خواب بھی نہیں دیکھ سکے گا اور یہ فریضہ سب سے بہتر طریقے سے علماء کرام ہی انجام دے سکتے ہیں، یہی ان کی عظیم ذمہ داری ہے۔

Exit mobile version