Site icon المرصاد

۸ ثور، داستانِ شجاعت کی یاد اور عبرت آموز پہلو!

ماہ ثور کی ۸ تاریخ افغانستان کی معاصر تاریخ میں نہایت اہم اور ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتی ہے۔ ہر سال یہ دن افغان قوم کی جانب سے منایا جاتا ہے اور اس پر بے شمار تحریریں لکھی جا چکی ہیں۔ تاکہ یہ تحریر بھی محض تکرار کا حصہ نہ بن جائے، اس میں مختصر اشاروں کے ساتھ موجودہ حالات کی روشنی میں چند خاص نصیحتیں اور عبرت آموز پہلو بیان کیے جاتے ہیں۔

کمیونسٹوں نے تقریباً نصف صدی قبل (۱۳۵۷ھ ش) کو انتہائی سطحی اور خام سوچ کے ساتھ سابق سوویت اتحاد کے سیاسی نظریے کے زیرِ اثر ایک فوجی بغاوت کی، جس کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان کو ترقی اور آزادی کی طرف لے جایا جائے، مگر حقیقت میں انہوں نے ایک نسبتاً پُرامن اور خودمختار ملک کو اپنی سیاسی خواہشات کی بھینٹ چڑھا دیا اور ایک مردود کمیونسٹ فکر کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ دوسری طرف افغان مسلمان قوم نے اس حساس صورتِ حال کو بخوبی سمجھا اور پورے حوصلے اور غیرت کے ساتھ جدوجہد اور قربانی کے میدان میں اتر آئی۔ انہوں نے نہ صرف ماسکو سے آنے والے قابض افواج کے خلاف بلکہ ان کے مقامی کمیونسٹ حامیوں کے خلاف بھی جہاد اور مزاحمت کی۔

بالآخر چودہ سالہ مقدس جہاد کے بعد سوویت افواج ذلت آمیز شکست کے ساتھ افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہو گئیں اور ماہ ثور کے آٹھویں دن افغان قوم نے ایک عظیم فتح حاصل کی۔ لیکن یہ فتح کسی کی عطا کردہ نہیں تھی، بلکہ لاکھوں بے سروسامان مجاہدین کی قربانیوں اور شہادتوں کا نتیجہ تھی۔ تاہم اس فتح کی روح، اس کے تقدس اور اس قومی اعزاز کا صحیح احترام نہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک خانہ جنگی کے اندھیروں میں جا گرا اور جہادی رہنما اپنی خود غرضیوں اور اقتدار کی کشمکش کے باعث اس عظیم نعمت کی ناقدری کے مرتکب ہوئے اور بدنامی و رسوائی کا شکار بنے۔

ماہ ثور کی ۸ تاریخ کوئی عام دن یا سالگرہ نہیں، بلکہ تاریخ کے دل میں دبی ایک ایسی داستانِ شجاعت ہے جو عالمی استعمار اور طاقتور قوتوں کے مقابلے میں ایک کمزور مگر باایمان قوم کی جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ آزادی حاصل کرنا اور قابض قوتوں کو شکست دینا محض نعرے یا دعوے سے ممکن نہیں، بلکہ یہ قربانی، ایثار اور دین و وطن پر جان نچھاور کرنے کا تقاضا کرتا ہے؛ جس کا عملی مظاہرہ افغان قوم نے اس دور میں کیا اور ایمان و مادیت کے درمیان ایک عظیم تاریخی معرکہ رقم کیا۔

بعد ازاں جب بعض تنظیمی رہنما اقتدار کی کشمکش میں مبتلا ہو کر باہمی اختلافات اور لڑائیوں کا شکار ہو گئے تو یہ دراصل جہاد کی عظمت سے انحراف کا نتیجہ تھا۔ آج بھی ان میں سے بعض افراد ندامت اور سرگرداںی میں زندگی گزار رہے ہیں اور عوامی عزت و احترام سے محروم ہو چکے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی رسوائی اور ذلت سے دوچار ہیں۔

موجودہ نسل اور ذمہ دار افراد کے لیے اس تاریخی دن کے چند اہم پیغامات درج ذیل ہیں۔
اول:
قدیم لوگوں کا یہ مقولہ بالکل درست ہے کہ آزادی چھینی جاتی ہے، دی نہیں جاتی۔ افغان مجاہدین نے یہ ثابت کیا کہ دین اور وطن سب سے بڑی دولت اور سرمایہ افتخار ہیں، اور کسی بھی قبضے سے نجات اور حفاظت کا واحد راستہ آزادی اور مزاحمت ہی ہے۔

دوم:
آزادی کی حفاظت بھی آزادی حاصل کرنے کی طرح ایک عظیم روحانی فن ہے۔ اگر ہم آزادی کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھیں تو اس کی ناقدری دراصل ناشکری اور گناہ کے زمرے میں آتی ہے۔ آزادی کی بقا جہاد کے اصولوں سے وفاداری، اخلاقی بلندی اور خودغرضی سے اجتناب میں پوشیدہ ہے۔

سوم:
تقریباً پانچ سال قبل امارتِ اسلامیہ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ خدشات پائے جاتے تھے کہ کہیں ملک دوبارہ فتنوں اور خانہ جنگی کی طرف نہ چلا جائے، لیکن امارت کی دور اندیش قیادت نے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ ماضی کی تلخیاں دوبارہ نہیں دہرائی جائیں گی اور آزادی کی حفاظت کو ایک عظیم ذمہ داری کے طور پر نبھایا جائے گا۔

چہارم:
آٹھویں ثور کو مجاہدین کی فتح کے فوراً بعد اگر جنگ سے تباہ ہونے والے ملک کی تعمیر و ترقی پر توجہ دی جاتی تو آج افغانستان خطے کا ایک خوشحال اور روشن ملک ہوتا۔ اسی حقیقت کے پیش نظر امارتِ اسلامیہ نے اپنے دوبارہ قیام کے ابتدائی مہینے ہی سے تعمیرِ وطن اور عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کی اور آج بھی متوازن ترقی کے ذریعے ملک کی ہمہ جہت تعمیر کا عمل جاری ہے۔

پنجم:
آٹھویں ثور کے موقع پر جہادی اور قومی جذبہ نہایت بلند، باوقار اور زندہ تھا، مگر تنظیمی رہنماؤں کی خودغرضیوں اور غلط رویوں نے اس روح کو اس قدر نقصان پہنچایا کہ دشمنانِ اسلام کو تنقید اور طعن کا موقع مل گیا۔

اسی تاریخی تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے امارتِ اسلامیہ کے دوبارہ قیام کے بعد نہ صرف جہاد اور فتح کی قدروں کو بلند رکھا گیا بلکہ انہیں آج تک پورے احترام کے ساتھ محفوظ رکھا جا رہا ہے اور نئی نسل کے ذہنوں میں ایک مقدس امانت کے طور پر منتقل کیا جا رہا ہے، کیونکہ قیادت نے قول و فعل کے تضاد کو ختم کرتے ہوئے نعروں کو عملی حقیقت میں ڈھال دیا ہے۔
آخر میں یہی امید کی جاتی ہے کہ آٹھویں ثور کا دن افغان مجاہد قوم کے لیے ایک عظیم فخر کا دن اور ہر اس قوت کے لیے عبرت کا سبق بنے گا جو افغانستان پر حملے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ حقیقت تاریخ نے بار بار ثابت کی ہے کہ اس سرزمین پر قبضہ آسان نہیں، اور اسے حقیقی معنوں میں مسخر کرنا ناممکن ہے۔

Exit mobile version