Site icon المرصاد

۹ سنبلہ: قبضے کی آخری رات اور طلوعِ صبحِ آزادی کا آغاز!

تاریخ میں کچھ دن اور لمحات ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف ایک خطے کے مقدر کا فیصلہ کرتے ہیں بلکہ ایک قوم کے عزم، قربانی اور غیرت کا ثبوت بھی دیتے ہیں۔ ۹ سنبلہ ۱۴۰۰ ہجری شمسی بمطابق ۳۱ اگست ۲۰۲۱ء بھی ایک ایسا ہی دن تھا، جب افغانستان کی سرزمین سے قبضے کا آخری نشان، امریکی فوجی "کرس ڈوناہو” نکلا اور ہماری قوم کی آزادی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔

امریکہ کا افغانستان پر حملہ، جو ۷ اکتوبر ۲۰۰۱ء کو "دہشت گردی کے خلاف جنگ” کے عنوان سے شروع ہوا، انصاف اور قانون کے ہر اصول کے خلاف تھا۔ یہ حملہ درحقیقت ایک قبضہ تھا، جس نے نہ صرف فوجی موجودگی قائم کی بلکہ ثقافت، معیشت، ارادے اور آزادی کو بھی نشانہ بنایا۔

بیس سال تک وحشت، قید خانوں، بے گناہوں کے قتل، رات کے چھاپوں اور قوم کے مقدس حریم کی بے حرمتی کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ لیکن افغان قوم کا غیرت مند ضمیر کبھی بھی قیام، جدوجہد اور مزاحمت سے تھکا نہیں۔

امریکہ، جو خود کو دنیا کی سپر پاور سمجھتا ہے، بیس سالہ جنگ، اربوں ڈالر خرچ کرنے اور ہزاروں فوجیوں کے ساتھ بھی اس قوم کو زیر نہ کر سکا جو حق پر قائم تھی۔ یہ انخلا ایک اعتراف تھا کہ طاقت، ٹیکنالوجی اور پروپیگنڈا کبھی قوموں کے ارادوں کو توڑ نہیں سکتے۔

کرس ڈوناہو کا نکلنا ایک ناکام حکمت عملی، ایک قابض سوچ اور جھوٹے عالمی انصاف کے زوال کا واضح ثبوت تھا۔ وہ رات جب آخری امریکی فوجی، کرس ڈوناہو، کابل کے ہوائی اڈے سے نکلا، وہ امریکہ کے بیس سالہ قبضے کی آخری گھڑی تھی۔ یہ رات دنیا کی سپر پاور کے لیے فخر کی نہیں، بلکہ اپنی شکست کے اعتراف کی رات تھی۔ یہ اعتراف ناکامی، شکست اور افغان قوم کی ناقابل تسخیر مزاحمت کے سامنے زوال کا اعتراف تھا۔

ڈوناہو رات کے اندھیرے میں بغیر فخر، بغیر اعزاز، بغیر شان کے، صرف ایک عاجز اور شکست خوردہ لشکر کے آخری نمائندے کی طرح نکلا۔ اس کے قدم امریکہ کے ان نعروں کی موت تھے، جنہوں نے آزادی، انسانی حقوق اور ترقی کے نام پر ہماری قوم کو استعماری غلام بنانے کی کوشش کی۔

ڈوناہو اپنے ساتھ نہ پرچم لے گیا، نہ فتح اور نہ کوئی کامیابی، بلکہ ایک سبق آموز درس چھوڑ گیا کہ کوئی بھی قبضہ خواہ کتنا ہی طاقتور ہو، قوموں کے ارادوں کو توڑ نہیں سکتا۔

افغان قوم نے، جس نے اپنی ایمانی غیرت کے زور پر بیس سال تک قربانیوں کی داستان لکھی، بالآخر ایک عظیم قبضے کا آخری باب بھی ختم کر دیا۔ یہ انخلا تاریخ کی یادداشت میں امریکہ کے لیے ایک سیاہ داغ، لیکن افغان قوم کے لیے فخر کا ایک سنہری لمحہ بن کر رہ گیا۔

Exit mobile version