Site icon المرصاد

ابوعبیدہ تقبله الله: امت کی حقیقی آواز

ایسے دور میں جب ظلم اور ناانصافی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور کفار کے ظالمانہ اور غیر انسانی قوانین ہر چیز پر سایہ فگن ہیں، ہم پوری دنیا میں انہی جھوٹے حکمرانوں اور عالمی اداروں کے ہاتھوں بے شمار مظالم، قتل و غارت اور دہشت کے مناظر دیکھ رہے ہیں۔

برسوں سے امت مسلمہ، بالخصوص فلسطین کے مظلوم عوام، جبر، تشدد اور اذیت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہزاروں بچے، خواتین اور عام مسلمان نہایت وحشیانہ اور ظالمانہ طریقے سے شہید کیے گئے، اور ان پر ہر قسم کے تشدد اور عذاب آزمائے گئے۔ وہ ادارے جو انسانی حقوق کے دعوے دار ہیں، محض تماشائی بنے رہے۔ یوں ان کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا، ایسے حقوق جو صرف انہی کے لیے ہیں، مسلمانوں کے لیے نہیں۔

لیکن امت میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے اسلام، سرزمین، عزت اور ناموس کے دفاع کی راہ میں برسوں سے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ گزشتہ برسوں میں حماس کے مجاہدین نے نہ صرف اصل مجرموں اور تاریخ کے جلادوں کے سامنے ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا، بلکہ مسلمانوں کی عزت و وقار کی حفاظت بھی کی، امت کی نمائندگی کرتے ہوئے غزہ کے مظلوم عوام کا دفاع کیا اور ظالم صہیونی رجیم کو کاری ضرب لگائی۔

ان مجاہدین میں ایک عظیم آواز، شہیدِ امت حذیفہ الکحلوت المعروف ابوعبیدہ تقبله الله تھے، جو حماس کے ترجمان اور مظلوم عوام کی فریاد کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ وہ محض ایک ترجمان نہیں تھے، بلکہ ایک ایسی آواز تھے جو غزہ کی تاریک راتوں سے غم، استقامت اور درد کی داستانیں دنیا تک پہنچاتی تھی۔ وہ ان ماؤں کی چیخیں، ان بچوں کی بے بسی اور ان باپوں کا خوف بیان کرتے تھے جو ہر صبح موت کا سامنا کرتے تھے۔

انہوں نے دین اور امت کے سامنے اپنی ذمہ داری ادا کی، اور اسی ایمان اور وفاداری کی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ نے انہیں شہادت کی عظیم نعمت سے نوازا۔ بلا شبہ یہ جدائی اس تھکی ہوئی امت کا غم ہے، وہ امت جو برسوں سے امید اور تکالیف کے درمیان اللہ کی رحمت کی منتظر ہے۔

ابوعبیدہ تقبله الله صرف ایک عسکری شخصیت نہیں تھے، بلکہ وہ ایک پیغام تھے، ایسا پیغام جو مزاحمت، وقار، صبر اور یقین کی داستان سناتا تھا۔ ان کے الفاظ ایمان کی خوشبو رکھتے تھے اور ان کے جملے صبر کی آیات اور نصرت کے وعدوں سے جڑے ہوئے تھے۔ ان کی ہر بات اس حقیقت کو تازہ کرتی تھی کہ امت آج بھی زندہ ہے، اگرچہ زخمی اور تنہا ہے، مگر نہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹتی ہے اور نہ اپنے ایمان سے دستبردار ہوتی ہے۔

جیسا کہ وہ گہرے الفاظ کہے گئے تھے:

> “أنتم خصومُنا أمامَ الله عزوجل”

آج یہ الفاظ ہر مسلمان کے ذہن میں گونج رہے ہیں اور اس کا ضمیر خود کو ملامت کر رہا ہے۔

شہید ابوعبیدہ تقبله الله اسلام کے محافظ تھے، نعروں میں نہیں، بلکہ تکلیفیں سہنے، اصولوں پر ثابت قدم رہنے اور اپنے عہد کی وفاداری میں۔ شہادت نے ان کی آواز کو خاموش نہیں کیا، بلکہ بیدار ضمیروں میں ہزاروں آوازیں پیدا کر دیں۔

ان کا خون اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ عدل کا راستہ موت سے بند نہیں ہوتا اور حق کی آواز کبھی خاموش نہیں ہوتی، بلکہ اور زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے:

> «إن قُتل زید فجعفر، وإن قُتل جعفر فعبدالله بن رواحة»
> “اگر زید قتل ہو جائیں تو جعفر موجود ہیں، اور اگر جعفر قتل ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ موجود ہیں۔”

آج امت نے اپنا ایک بیٹا کھو دیا ہے، لیکن اس نے امت کے لیے وہ راستہ چھوڑ دیا ہے جو ایمان، صبر اور بصیرت کی روشنی میں آگے بڑھتا رہے گا۔ ابوعبیدہ تقبله الله، جن کا چہرہ چھپا ہوا تھا مگر روح روشن تھی، ہمیں یہ سبق دے گئے کہ عزت استقامت میں ہے اور وقار عدمِ تسلیم میں۔

اگرچہ ہم سب مسلمان فلسطین کے مظلوم عوام کے سامنے خود کو ذمہ دار سمجھتے ہیں، لیکن ہم اپنے دلوں میں اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ ایسی نسل کی تربیت کریں گے جو عزت، غیرت اور ثابت قدمی کے ورثے کو زندہ رکھے گی، اور غزہ کے شہداء کی یاد کبھی فراموش نہیں کی جائے گی، ان شاء اللہ۔

Exit mobile version