Site icon المرصاد

ابوعبیدہ تقبّلَهُ‌ اللّٰه؛ اُمتِ مسلمہ کا حقیقی فرزند!

جب مدینہ منورہ میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں اسلامی اصولوں پر قائم نبوی حکومت کی بنیاد رکھی گئی، تو اسی دن سے ریاستِ نبوی کے دائرے میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان مختلف ذمہ داریاں تقسیم کر دی گئیں۔ چونکہ حالات جنگی اور عسکری نوعیت کے تھے اور نبوی ریاست دنیا کے کفار اور طاغوتی قوتوں کے ساتھ برسرِ پیکار تھی، اس لیے اکثر ذمہ داریاں فوجی اور جہادی نوعیت کی تھیں۔ بہت سے صحابہؓ کو سریّات کی قیادت، علم برداری، دائیں اور بائیں لشکر کی کمان اور اس طرح کی دیگر ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

اسی دور میں ایک نہایت اہم اور ناگزیر ذمہ داری شاعری بھی تھی، جو آج کے زمانے میں ترجمان کے کردار سے مشابہ حیثیت رکھتی تھی۔ ریاستِ نبوی میں جنگوں اور عسکری سرگرمیوں کی ترجمانی، فتوحات کو نمایاں کرنا، مشرکین اور کفار کی کمزوریوں کو آشکار کرنا اور ان کے مذموم اعمال کو بے نقاب کرنا؛ یہ سب امور شعری زبان میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ذمے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگی خبروں کے ابلاغ کے موقع پر حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی حوصلہ افزائی فرماتے تو ان کے لیے یہ دعا کیا کرتے تھے: ’’اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ‘‘
ترجمہ: اے اللہ! روحُ القدس کے ذریعے ان کی تائید فرما۔

اسی طرح ایک اور موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’اهْجُهُمْ – أَوْ هَاجِهِمْ – وَجِبْرِيلُ مَعَكَ‘‘
ترجمہ: ان کی برائیوں کو بیان کرو، اور جبرئیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں۔

چنانچہ مسلمانوں کی فتوحات، کفّار کے مظالم کو آشکار کرنا، اور اسلامی کامیابیوں اور فتوحات کو عوام الناس تک پہنچانا ریاستِ نبوی میں نہایت اہم ذمہ داریاں شمار ہوتی تھیں اور ان کا بڑا اجر و فضیلت بیان کی گئی ہے۔

آج کے دور میں اسلام کے سخت گیر اور بے رحم دشمنوں کے ساتھ؛ قبلہ اول کی حرمت اور انبیائے کرام کے وطن پر قریباً ستر برس سے ایک شدید اور فیصلہ کن معرکہ برپا ہے۔ اس بابرکت جنگ میں حماس کی عسکری شاخ، کتائب القسام نے نمایاں کردار ادا کیا ہے؛ ہزاروں یہودیوں کو انجام تک پہنچایا، فلک بوس عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنایا، اور مسجدِ اقصیٰ کے مبارک حرم سے دشمن کا سکون چھین لیا۔ اسی طرح انہوں نے ہزاروں جان نثار مجاہدین قربانی کے میدان میں پیش کیے اور درجنوں قائدین نے جامِ شہادت نوش کیا۔
انہی عظیم قائدین میں سے ایک اُمت کے حقیقی فرزند اور اسلام کا جری سپہ سالار، کمانڈر حذیفہ الکحلوت (ابو عبیدہ) بھی تھا۔ ابو عبیدہ اسلام کے سپہ سالاروں میں سے ایک تھا، جو اپنی پُرعزم اور جلالی زبان کے ذریعے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے مشن سے مشابہ فریضہ انجام دے رہا تھا۔ اس نے اپنی پوری زندگی عظیم فریضۂ جہاد کی ادائیگی میں بسر کی۔

جب بھی وہ الجزیرہ کی اسکرین پر نمودار ہوتا، اپنے ساتھ فیصلہ کن پیغامات لاتا؛ اسرائیلی فوجیوں کو للکارتا، اور اس کی ملکوتی حنجرے سے نکلنے والی آواز یہودیوں کے دلوں میں خوف بٹھا دیتی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ عرب دنیا میں ایک نہایت مؤثر اور باوقار شخصیت کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔

ابو عبیدہ کا اصل نام حذیفہ سمیر عبداللہ الکحلوت تھا۔ وہ ۱۹۸۵ء میں غزہ کی پٹی میں پیدا ہوئے۔ دیگر اہلِ غزہ کی طرح اس نے بھی بچپن ہی سے اسرائیلی دشمنی کے سائے میں زندگی گزاری۔ ۲۰۰۴ء میں اسے کتائب القسام کا ترجمان مقرر کیا گیا، اور اسی وقت سے اس نے اسرائیل کے خلاف منظم میڈیا جدوجہد کا آغاز کیا۔ وہ قسام کی میڈیا سرگرمیوں کا مرکزی چہرہ اور فکری محور سمجھے جاتے تھے۔

ابو عبیدہ پہلی مرتبہ اس وقت میڈیا پر نمایاں ہوئے جب اس نے اسرائیلی فوجی گلعاد شالیت کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ وہ ہمیشہ فوجی لباس میں نظر آتا؛ سر پر سرخ کوفیہ، چہرے پر نقاب جس پر کلمۂ طیبہ تحریر ہوتا، اور اس کے نیچے ’’کتائب القسام‘‘ درج ہوتا تھا۔ کوفیے کے وسط میں کتائب القسام کا سرکاری نشان آویزاں ہوتا۔

۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو ابو عبیدہ نے طوفانُ الاقصیٰ کے آپریشن کا اعلان کیا، یہودی فوج کو کھلی وارننگ دی، اور عالمِ اسلام سے مسجدِ اقصیٰ کے دفاع کے لیے عملی اقدام کا مطالبہ کیا۔ بالآخر حماس کی اسلامی تحریک نے ۲۹ دسمبر کو ابو عبیدہ کی شہادت کا اعلان کیا اور ان کی جگہ نئے ترجمان کے تقرر کی خبر دی۔

ابو عبیدہ تقبّلَہُ اللہ کی وہ چند مشہور تقاریر (قیمتی موتی) جو عالمِ اسلام میں غیر معمولی شہرت رکھتی ہیں، یہ ہیں:

۱۔ ’’ہماری جدوجہد اپنے عوام کے حقوق کے لیے اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک قبضہ ختم نہیں ہو جاتا، محاصرہ اٹھا نہیں دیاجاتا، اور بے گھر کیے گئے لوگ اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ آتے‘‘۔

۲۔ ’’جو کچھ دشمن میدانِ جنگ میں حاصل نہ کر سکا، وہ دھمکیوں اور فریب کے ذریعے بھی حاصل نہیں کر پائے گا‘‘۔

۳۔ ’’دشمن کو جنازوں اور لاشوں کا سامنا کرنا پڑے گا، یہاں تک کہ قبضے کی وحشت اور جنگ کا خاتمہ ہو جائے‘‘۔

۴۔ ’’ہمارے مجاہدین نے آزادی کی راہ میں بے مثال جرأت اور قربانی کا مظاہرہ کیا ہے، اور دشمن کے خلاف کامیاب حملے تاریخ میں ثبت ہوچکے ہیں‘‘۔

۵۔ ’’طوفانُ الاقصیٰ کی جنگ نے خطے میں نئے توازن قائم کیے اور دشمن کو واضح پیغام دیا کہ وہ اتنا طاقتور نہیں جتنا وہ دعویٰ کرتا ہے‘‘۔

۶۔ ’’اسلامی اور عرب اُمت کے قائدین، اہلِ دانش اور علماء پر لاکھوں بے گناہوں کے خون کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ انہوں نے ان لوگوں کو دشمن کے مقابلے میں تنہا چھوڑ دیا‘‘۔

Exit mobile version