Site icon المرصاد

اسلام؛ اعتدال اور میانہ روی کا دین! پانچویں قسط

اسلام ایک ایسا دین ہے جو اعتدال، عدل اور مساوات پر قائم ہے، اور زندگی کے تمام شعبوں میں افراط و تفریط سے منع کرتا ہے۔ اسلام عقیدے، طرزِ عمل اور سماجی تعلقات میں میانہ روی پر زور دیتا ہے اور انسان کو دنیا اور آخرت کے درمیان توازن اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اسلام کی نظر میں تمام مسلمان انسانی وقار کے اعتبار سے برابر ہیں، اور فضیلت کا معیار نہ نسل ہے اور نہ قومیت، بلکہ تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔

گذشتہ قسطوں میں یہ بات واضح کی گئی کہ اسلام ہر معاملے میں اعتدال کا مطالبہ کرتا ہے۔ نیز یہ بھی سامنے آیا کہ حتیٰ کہ عقیدہ اور دین کے باب میں بھی اعتدال اور میانہ روی کی راہ اپنانی چاہیے۔ دینِ اسلام اپنے پیروکاروں کو زندگی کے تمام امور میں توازن اور اعتدال اختیار کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ اسی اصول کی وضاحت آئندہ قسطوں میں کی جائے گی۔

۲۔ اخراجات میں اعتدال
اخراجات میں اعتدال اسی وقت ممکن ہے جب انسان اسراف سے بھی بچے اور بخل سے بھی دور رہے۔ اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ اس سلسلے میں ارشاد فرماتے ہیں:
﴿وَلا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا﴾(الاسراء: ۲۹)
ترجمہ: اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ ہی اسے بالکل کھول دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ملامت زدہ اور پشیمان ہو کر بیٹھ رہو۔
حتیٰ کہ دینِ اسلام مال خرچ کرنے میں اعتدال کو عبادالرحمن اور نیک بندوں کی نمایاں صفات میں شمار کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ قرآنِ عظیم الشان میں ان کی یوں تعریف فرماتے ہیں:
﴿وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا﴾ [الفرقان: ۶۷]
ترجمہ: اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی، بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہیں۔

اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ نے آمدنی اور اخراجات کے معاملے میں میانہ روی پر بہت زور دیا ہے اور فرمایا ہے:
«الاقتصاد في النفقة نصف المعيشة»
ترجمہ: خرچ میں اعتدال اختیار کرنا آدھی معیشت ہے۔
پس مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام نے زندگی اور عبادت کے تمام پہلوؤں میں اعتدال کی راہ اپنائی ہے۔ حتیٰ کہ معاشی معاملات اور اخراجات میں کفایت شعاری انسان کو تنگ دستی اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رکھتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جو شخص اپنے خرچ میں اعتدال کا لحاظ رکھتا ہے، وہ فقر و افلاس کا شکار نہیں ہوتا؛ اور اس کے برعکس جو اپنی دولت کے استعمال میں حد سے تجاوز کرتا ہے، یہی افراط اسے فطری طور پر غربت اور دوسروں پر انحصار کی طرف لے جاتا ہے اور وہ لوگوں پر بوجھ بن جاتا ہے۔

۳۔ کھانے پینے اور لباس میں اعتدال
اسی طرح اسلام مسلمان کو کھانے، پینے اور حتیٰ کہ لباس میں بھی میانہ روی کا حکم دیتا ہے۔ نبیِ اکرم ﷺ نے خوراک اور مشروبات میں اسراف سے منع فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا:
’’انسان کسی برتن کو اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرتا۔ انسان کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کے جسم کو سنبھالے رکھیں۔ اگر زیادہ کھانا ہی ہو تو ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے ہونا چاہیے۔‘‘ [ترمذی اور ابن ماجہ]

اسی طرح مسلمان کے لیے مناسب ہے کہ وہ لباس پہننے میں بھی اعتدال کو نظر انداز نہ کرے۔ رسولِ اللہ ﷺ نے اس بارے میں فرمایا:
"جو شخص شہرت کا لباس پہنتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ویسا ہی لباس پہنائیں گے، پھر اس سے آگ کے شعلے بھڑکیں گے۔”

اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان بے ڈھنگے یا پیوند لگے کپڑے پہنے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ اپنے لباس میں قیمت، رنگ اور انداز کے اعتبار سے بھی اعتدال اور سادگی کو اختیار کرے۔

Exit mobile version