Site icon المرصاد

اسلام؛ اعتدال اور میانہ روی کا دین! چوتھی قسط

دین میں زیادتی اور افراط کا مطلب یہ ہے کہ انسان نبی کریم ﷺ کی سیرت، صحابۂ کرامؓ اور دین کے جلیل القدر علما کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کر جائے۔ جبکہ تفریط یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ، صحابۂ کرامؓ اور دین کے بزرگان کی سیرت کو ترک کر دیا جائے اور اس سے پیچھے رہ جایا جائے۔

گزشتہ حصوں میں یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ زندگی اور عبادت کے تمام معاملات میں اعتدال اور میانہ روی ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے؛ کیونکہ اعتدال ایک ایسی صفت ہے جو انسان کے تمام اعمال پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی بنا پر اعتدال کی مختلف اقسام ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے:

۱۔ دین اور عقیدے میں اعتدال:
دین میں اعتدال سے مراد یہ ہے کہ عقائد، عبادات، اخلاق اور دینی اعمال میں میانہ روی، توازن اور افراط و تفریط سے اجتناب اختیار کیا جائے؛ اس طرح کہ نہ تو دین کو سختی اور شدت کی انتہا تک پہنچایا جائے اور نہ ہی سستی اور لاپرواہی کی گہرائی میں گرا دیا جائے۔ اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک اعتدال یہ ہے کہ انسان قرآنِ عظیم الشان اور سنتِ نبوی ﷺ سے وابستہ رہے، سلفِ صالحین کے فہم کی روشنی میں دین کو سمجھے اور بندوں کی مصلحتوں کو پیشِ نظر رکھے۔

مختصر یہ کہ عقیدے میں اعتدال کا تقاضا یہ ہے کہ بے جا تکفیر اور اشخاص کے بارے میں غلو سے بچا جائے؛ لیکن افسوس کہ آج ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اسلام کے نام پر اس قدر افراط اور شدت پسندی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ اپنے سوا کسی اور کو مسلمان تسلیم نہیں کرتے اور بے بنیاد و کمزور دلائل کی بنیاد پر دیگر مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔

علماء اسلام کے نزدیک دین میں اعتدال کا مفہوم یہ ہے کہ انسان بصیرت اور شعور کے ساتھ قرآنِ عظیم الشان اور سنتِ نبوی ﷺ کی پابندی کرے، سلفِ صالحین کے فہم کی روشنی میں چلے اور افراط و تفریط سے بچے۔ یہ اعتدال نہ باطل کے ساتھ سمجھوتہ ہے اور نہ ہی شدت پسندی؛ بلکہ وہ راستہ ہے جو دینِ اسلام کو زندہ، متحرک اور ہر زمان و مکان میں قابلِ عمل بناتا ہے۔

قرآنِ عظیم الشان نے امتِ مسلمہ کو اس کی میانہ روی کی وجہ سے سراہا ہے:
﴿وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾(البقرہ: ۱۴۳)
ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک درمیانی امت بنایا۔

امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وسط‘‘ سے مراد عادل اور بہترین ہے؛ نہ افراط کرنے والے اور نہ ہی کوتاہی برتنے والے۔
اور ابنِ کثیر رحمہ اللہ کے مطابق امتِ مسلمہ شریعت اور منہج کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتدل امت ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:
﴿لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ﴾ (النساء: ۱۷۱)
ترجمہ: اپنے دین میں غلو نہ کرو۔

رسولِ اکرم ﷺ نے بھی صراحت کے ساتھ افراط اور شدت پسندی سے منع فرمایا ہے:
«إيّاكم والغلوّ في الدِّين، فإنما أهلك من كان قبلكم الغلوّ في الدِّين»
ترجمہ: دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں یہی غلو ہلاک کر گیا۔

خلاصہ یہ کہ اسلام کی بنیادی ہدایات میں سے ایک یہ ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کی جائے، اور جو لوگ اس راستے میں افراط یا تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں وہ یا تو اسلام کی صحیح سمجھ نہیں رکھتے، یا پھر شیطان کے فریب میں مبتلا ہو چکے ہوتے ہیں۔

Exit mobile version