Site icon المرصاد

اسلامی روح سے عاری خلافت! ساتویں قسط

داعش میں اخلاقی زوال:
اگر ہم کسی دینی، سیاسی، فکری یا ثقافتی تحریک یا مجموعی طور پر کسی بھی نظریے کی حقیقت کو درست اور گہرائی سے پہچاننا چاہیں، تو اس کی شناخت کا ایک بہترین معیار اس جماعت اور نظریے کے اخلاق ہوتے ہیں؛ کیونکہ اخلاق ہر دین اور نظریے کی بنیاد، اساس اور روح سمجھے جاتے ہیں۔ جس دین یا نظریے میں اخلاق نہ ہوں، وہ بے روح خول اور بے بنیاد نعروں کا مجموعہ بن کر رہ جاتا ہے۔

اسلام میں رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد اخلاقی فضیلتوں کی تکمیل قرار دیا اور فرمایا:
»إنما بُعثتُ لأُتمّم مکارم الأخلاق«
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اسلام کا پیغام، نظامی یا سیاسی ہونے سے پہلے ایک اخلاقی پیغام ہے۔ اسلامی منطق میں انسانی کرامت اصل ہے، انسانی جان حرمت رکھتی ہے، اور جھوٹ، ظلم، خیانت، فریب اور اندھا تشدد بڑے گناہوں میں شمار ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی اخلاق تین بنیادی ستونوں پر قائم ہیں: رحمت، عدل اور عقلانیت۔

سچا مسلمان وہ ہے جو دشمنی کی حالت میں بھی انصاف سے منحرف نہ ہو۔ قرآنِ کریم صاف الفاظ میں فرماتا ہے:
»ولا یجرمنّکم شنآنُ قومٍ علی ألاّ تعدلوا، اعدلوا هو أقرب للتقوی«
ترجمہ: کسی قوم سے دشمنی تمہیں انصاف سے دور نہ کرے؛ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔
اسلامی منطق میں کوئی مقدس مقصد کبھی ناپاک ذرائع کو جائز نہیں ٹھہرا سکتا۔ کوئی بھی مقصد اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ انسانوں کو جھوٹ، دہشت اور فریب کی بھینٹ چڑھایا جائے۔

اب اگر انہی اخلاقی معیاروں پر داعش کے گروہ کو پرکھا جائے تو گہری اور شرمناک کمیوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اخلاقی اعتبار سے داعش نہ صرف اسلامی جماعت نہیں، بلکہ سراسر اسلام سے متصادم ہے۔ اس گروہ کے اخلاق تین بنیادوں پر کھڑے ہیں: دل کی سختی، منظم فریب اور وسیع پیمانے پر تکفیر۔

داعش کے لغت میں انسان نہ مقصد ہے اور نہ قدر؛ بلکہ محض ایک ذریعہ ہے۔ اس منحوس گروہ کے نزدیک بے گناہ جانیں صرف معاشرے میں خوف پھیلانے، تباہی مچانے اور پوشیدہ طاقت کے مظاہرے کا ایک آلہ ہیں۔

داعش کے اخلاقی نظام میں عام لوگوں اور شہری آبادی کا قتل، مسجدوں اور بازاروں میں دھماکے، بچوں اور عورتوں کی ہلاکت، اور جرائم کو جائز ٹھہرانے کے لیے قرآنِ کریم کی آیات میں تحریف—یہ سب نہ صرف جائز بلکہ حتیٰ کہ مقدس بنا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ حالانکہ اسلام میں ایک بے گناہ انسان کی جان پوری انسانیت کے برابر سمجھی جاتی ہے۔ قرآنِ کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے:
»مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا«
ترجمہ: یعنی جو شخص کسی انسان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد پھیلایا ہو؛ قتل کرے، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔

اس قرآنی معیار کے مطابق، ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ لیکن داعش مسجدوں اور بازاروں میں دھماکوں، بچوں اور عورتوں کے قتل اور اندھے حملوں کے ذریعے اس عظیم الٰہی حرام کو ’’جہاد‘‘ کے نام پر جائز ٹھہراتی ہے، حالانکہ قرآن ایسے رویّے کو کھلا ہوا فساد قرار دیتا ہے۔

اسلامی اخلاق کے اصیل منطق میں مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں؛ مگر داعش کے منطق میں ’’سچا مسلمان‘‘ وہ ہے جو زیادہ قتل کرے، زیادہ خوف پھیلائے اور زیادہ تباہی مچائے۔ مفاہیم کی یہی الٹ پھیر اور تحریف داعش کا سب سے خطرناک فکری جرم ہے—تشدد کو فضیلت اور رحمت کو کمزوری میں بدل دینا۔ اس بیمار فکری نظام میں رحمت کمزوری کی علامت اور قساوتِ ایمان کی نشانی بنا دی جاتی ہے۔

اسی طرح اسلامی اخلاق صداقت، خلوصِ نیت اور شفافیت پر قائم ہیں؛ جبکہ داعش کے اخلاق جھوٹ، اسٹیج سازی اور میڈیا فریب پر مبنی ہیں۔ وہ گھڑی ہوئی تصویروں، مسخ شدہ روایات اور جعلی کہانیوں کے ذریعے نادان نوجوانوں کے ذہنوں کو زہر آلود کرتے ہیں۔ اسلام کی منطق میں نیت اور عمل دونوں کا پاک ہونا لازم ہے؛ مگر داعش کے منطق میں فریب کو جہاد اور جرم کو بہادری کہا جاتا ہے۔

داعش میں اخلاقی دیوالیہ پن کی ایک اور علامت عقل سے دشمنی ہے۔ اسلام عقل کو انسان کا باطنی حجت قرار دیتا ہے، جبکہ داعش عقل کو ایمان کا دشمن بتاتی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ عقل سوال کرتی ہے، تجزیہ کرتی ہے اور فریب میں نہیں آتی۔ داعش باشعور انسان سے خوف کھاتی ہے اور صرف اندھی تقلید کرنے والے، بے سوال پیروکار چاہتی ہے۔ اسی لیے تعلیم، غور و فکر اور سوال اٹھانا داعشی فکر میں کوئی جگہ نہیں رکھتے۔

نتیجتاً، اگر اخلاق کو معیارِ فیصلہ بنایا جائے تو داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ یہ گروہ نہ رسولِ اکرم ﷺ کا وارث ہے اور نہ صالحین کے راستے کا تسلسل۔
داعش اسلام کے وارثین کے بجائے نفرت، تاریخی عقدوں، دینی جہالت اور بین الاقوامی منصوبوں کی پیداوار ہے۔

لہٰذا وہ خلافت جو خون، جھوٹ اور خوف پر قائم ہو، خلافت نہیں؛ وہ تو موت کی دکان ہے۔ اور وہ خلافت جس میں اخلاق نہ ہوں، اسلامی روح سے خالی ہے؛ خواہ وہ ہزار بار اسلام کا نام ہی کیوں نہ لے۔ آج حقیقی اسلام اور داعشی اسلام کے درمیان ٹکراؤ دراصل دو جہان بینیوں کا تصادم ہے: نبوی اخلاق کی دنیا بمقابلہ داعشی قساوت کی دنیا۔ اور یہ مقابلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک لوگ، خصوصاً نوجوان نسل، اسلام کی اصل حقیقت کو داعش کی تحریف سے الگ کر کے نہ پہچان لیں۔

Exit mobile version