Site icon المرصاد

اطاعت اور اتحاد؛ امارتِ اسلامیہ کے استحکام اور کامیابی کے ستون

جب کامیاب قوموں اور تحریکوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اتحاد، باہمی ہمدردی اور قیادت کے ساتھ وفاداری ان کی کامیابی اور سربلندی کے بنیادی اسباب میں شامل رہے ہیں۔ الحمد للہ، آج امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ذمہ داران اور وابستگان کے درمیان اتحاد، یکجہتی اور اطاعت کی نمایاں مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں، اور یہ سب دینی شعور اور مضبوط ایمان کا ثمرہ ہے۔

آج ہم اپنے کانوں سے سنتے اور اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ للہ الحمد، امارتِ اسلامیہ کے قائدین اور کارکنان کے درمیان پائی جانے والی اطاعت اور فرمانبرداری اسلام کے صدرِ اول کے مبارک دور کی یاد تازہ کر دیتی ہے۔ جب امیرالمؤمنین کا کوئی حکم یا تقرری سامنے آتی ہے تو نہ کہیں اعتراض دکھائی دیتا ہے، نہ اختلاف اور نہ ہی نافرمانی؛ اور یہی طرزِ عمل ان کی اطاعت، وابستگی اور اپنے موقف کی صداقت کا آئینہ دار ہے۔ کوئی بھی ادارہ یا نظام داخلی ہم آہنگی، باہمی نظم و ضبط اور ایک مشترک مرکز سے وابستگی کے بغیر بڑے مسائل اور چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔

افغانستان کے عوام کی جہادی جدوجہد اور طویل مزاحمت کے تجربے میں بھی یہ حقیقت پوری طرح نمایاں ہو چکی ہے۔ وہ عنصر جس نے نہایت دشوار حالات میں مجاہدین کی صفوں کو متحد رکھا اور انہیں اپنے مقاصد کی جانب ثابت قدمی کے ساتھ گامزن رکھا، وہ اخوت، اتحاد اور اطاعت کا جذبہ تھا۔ جب کسی نظام کے افراد ذاتی مفادات اور انفرادی ترجیحات کو پسِ پشت ڈال کر اجتماعی مفاد کو مقدم رکھتے ہیں تو ترقی، استحکام اور کامیابی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔

اسلام نے بھی اسی اصول پر خاص زور دیا ہے۔ قرآنِ مجید مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کی دعوت دیتا ہے اور انہیں تفرقہ و انتشار سے روکتا ہے، کیونکہ تفرقہ کمزوری، انتشارِ قوت اور زوال کا سبب بنتا ہے۔ اسی لیے ایک مضبوط، منظم اور کامیاب معاشرے کی بنیاد باہمی اتحاد، نظم و ضبط اور مشترکہ مقصد سے وابستگی پر استوار ہوتی ہے۔

انہی ربانی ہدایات کی روشنی میں، جب بھی کوئی اسلامی معاشرہ اتحاد و اتفاق اور اپنے امیر کی مشروع اطاعت کے گرد جمع ہو جاتا ہے تو وہ مشکلات کا مقابلہ کرنے اور بحرانوں سے نکلنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے۔ بلاشبہ ہر نظام میں نظم و ضبط، انسجام اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے باہمی اعتماد، احساسِ ذمہ داری اور اجتماعی فیصلوں کو قبول کرنے کا جذبہ درکار ہوتا ہے۔ جتنی زیادہ یہ روح معاشرے میں مضبوط ہوتی ہے، اتنا ہی امن، استحکام اور ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اختلاف، انتشار اور خود غرضی کمزوری اور نقصان کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔

آج بھی معاشرے کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اتحاد و یکجہتی کو محفوظ رکھا جائے، تعاون اور باہمی مدد کے جذبے کو فروغ دیا جائے، اور ان اصولوں اور اقدار سے وفاداری قائم رکھی جائے جو عزت، قوت اور استحکام کا سرچشمہ ہیں۔ اگر یہ اقدار محفوظ رہیں تو معاشرہ زیادہ اعتماد اور اطمینان کے ساتھ ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی جانب پیش قدمی کر سکتا ہے۔

اسی بنا پر اتحاد اور اطاعت کو ہر کامیاب تحریک اور نظام کے اہم ترین روحانی اور عملی سرمایوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ وہ قیمتی سرمایہ ہے جس کے سائے میں مشکلات آسان ہو جاتی ہیں، چیلنجز کا مقابلہ ممکن ہو جاتا ہے، اور کامیابی، عزت اور سربلندی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔

Exit mobile version