پاکستانی فوجی رجیم اور اس سے وابستہ حلقوں نے حسبِ روایت ایک بار پھر اپنے اندھے فیصلوں اور دہرائے جانے والے تشدد کا اعادہ کیا، جس کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ شہری، جن میں اکثریت بچوں، خواتین اور بزرگوں کی تھی، جان کی بازی ہار گئے۔ اس کے بعد بھی اس اقدام کو درست ثابت کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا گیا اور اپنی داخلی ناکامیوں کی ذمہ داری بیرونی عوامل پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔
چند برسوں سے افغانستان ایک ایسی متوازن، باوقار اور ذمہ دارانہ پالیسی پر عمل پیرا ہے جس نے ہمیشہ خطے اور دنیا میں ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ افغانستان نہ کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا خواہاں ہے اور نہ ہی سیاسی یا دیگر میدانوں میں کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہماری پالیسی واضح ہے: ہم نہ کسی کے لیے ضرر چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت رکھتے ہیں۔
اس کے باوجود بعض ممالک اور حلقے امارتِ اسلامیہ افغانستان کے حسنِ نیت، تحمل اور متوازن سیاسی رویّے سے غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور بین الاقوامی فورمز پر افغانستان کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں۔ افغانستان کو دہشت گردوں کی آماجگاہ قرار دینا اور اس نوعیت کے دیگر الزامات عائد کرنا ایسی دعوے ہیں جنہیں اگر تحقیق اور غیر جانب دارانہ جائزے کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو حقیقت خود آشکار ہو جاتی ہے۔ جن ممالک پر دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی یا ان کے قیام میں کردار ادا کرنے کے الزامات موجود ہیں، ان کی داخلی سلامتی اور سیاسی حیثیت بھی پاکستان کی طرح کمزور اور غیر مستحکم دکھائی دیتی ہے۔
امارتِ اسلامیہ افغانستان اپنی سیاسی، اقتصادی اور جائز ترقی کے باعث روز بروز نئے تغیرات، معاشی نمو، دفاعی استحکام اور سیاسی وقار کی نئی منزلیں طے کر رہی ہے۔ یہی بڑھتا ہوا مقام اور اثر و رسوخ بعض ہمسایہ ممالک کے لیے ناقابلِ برداشت بن چکا ہے، اسی لیے وہ اپنی داخلی مشکلات، ناکامیوں اور بگڑتی ہوئی صورتحال کا بوجھ افغانستان کے کندھوں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آپ نے مولانا فضل الرحمٰن کا وہ بیان یقیناً سنا ہوگا جس میں انہوں نے کہا تھا: ’’دہشت گرد بنوں اور دیگر علاقوں میں فوجی مراکز اور تنصیبات پر قبضہ کرتے ہیں اور ان پر حملے کرتے ہیں، مگر پاکستانی فوج ان گروہوں کا نام اور ٹھکانہ افغانستان سے جوڑ دیتی ہے۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ اپنی غلط حکمتِ عملیوں اور ناقص اندازوں کے باعث وہ خود اپنے ملک کی سیاسی قیادت کی تنقید اور تمسخر کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ امر خود افغانستان کے مؤقف کی صداقت اور پاکستانی فوجی حلقوں کی غلط اندازہ آرائی کو نمایاں کرتا ہے۔
جو دہشت گردی کو پروان چڑھائے گا، اس کے نتائج بھی اسے ہی بھگتنا ہوں گے!
دہائیوں سے پاکستانی فوجی رجیم داعش اور دیگر تخریبی گروہوں کی سرپرستی اور پرورش میں ملوث رہا ہے، جس کے حوالے سے عالمی سطح پر بھی متعدد شواہد پیش کیے جا چکے ہیں۔ اپنی تاریخی روش کے مطابق اس رجیم نے ہمیشہ اپنے اقتدار اور اثر و نفوذ کے تحفظ کے لیے دہشت گردی، جبر اور تشدد کو بطورِ پالیسی استعمال کیا اور برسوں تک دوسروں کے خلاف تخریب اور ظلم کے منصوبوں کو آگے بڑھایا۔ آج وہ انہی پالیسیوں کے نتائج خود بھگت رہا ہے۔ پاکستان میں داعش کے مسلسل حملے اور دیگر مسلح گروہوں کی جانب سے اس رجیم کے خلاف مزاحمت دراصل انہی اقدامات اور پالیسیوں کا منطقی انجام ہے۔
الحمد للہ، افغانستان آج ایک ایسا ملک سمجھا جاتا ہے جہاں امن و امان کی صورتحال قابلِ اعتماد ہے اور جہاں دہشت گردی اور بدامنی کے بیشتر اسباب کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔ آج کا افغانستان نہ تو قابض قوتوں کا مرکز ہے اور نہ ہی بیرونی خفیہ منصوبوں کا اڈہ، جیسا کہ پاکستانی فوجی رجیم خود غیر ملکی طاقتوں اور ان کے خفیہ منصوبوں کے لیے ایک عملی میدان بن چکا ہے۔
افغانستان نہ کوئی مقبوضہ ملک ہے اور نہ ہی کوئی اسے دہشت گردی، غیر ملکی عناصر یا مسلح گروہوں کے لیے اپنے مفادات کے آلے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ آج تک کوئی ایک بھی معتبر ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا کہ افغانستان نے کسی ہمسایہ یا دوسرے ملک کے خلاف تخریبی کردار ادا کیا ہو۔ ہمارے چھ ہمسایہ ممالک ہیں، لیکن آج تک کسی ایک نے بھی اپنی داخلی بدامنی یا سیاسی بحرانوں کی ذمہ داری افغانستان پر عائد نہیں کی اور نہ ہی اپنے داخلی مسائل کو کسی بیرونی ملک کے کھاتے میں ڈالا ہے۔ صرف پاکستانی فوجی رجیم ہی ایسا ہے جو اپنی مشکلات، کمزوریوں اور داخلی ناکامیوں کا ملبہ افغانستان پر ڈالنے کی روش اختیار کیے ہوئے ہے۔
الحمد للہ، جس طرح افغانستان کسی دوسرے کی جانب سے نقصان برداشت کرنے پر آمادہ نہیں، اسی طرح وہ کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف مسلح گروہوں کی سرپرستی یا تخریبی سرگرمیوں کی حمایت کا بھی ارادہ نہیں رکھتا۔ البتہ جاری مظالم، جارحیت اور قومی حریم کی پامالی کا حساب کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اسے بے جواب چھوڑا جائے گا۔
پاکستانی فوجی رجیم جب اپنی داخلی مشکلات اور مخالف گروہوں کی موجودگی کو افغانستان سے منسوب کرتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بغیر ثبوت اور دلیل کے پروپیگنڈا کرتا ہے تو ہم اسے اپنی سیاسی خودمختاری اور قومی وقار کے خلاف کھلی بے احترامی تصور کرتے ہیں۔ اگرچہ ہمارے پاس اپنے مؤقف کے حق میں شواہد اور دلائل موجود ہیں، تاہم حسنِ ہمسائیگی اور باہمی تعلقات کے احترام کے پیشِ نظر ہم نے اب تک تحمل اور خاموشی کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔

