خیبر پختونخوا میں پاکستانی فوجی رجیم کے مستبد حکام نے ڈیورنڈ کی فرضی لکیر کے ساتھ ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجیوں کے بعض وارثوں کو ایک تقریب میں مدعو کیا۔ اس موقع پر ایک ہلاک شدہ سپاہی کے والد کو تعزیت پیش کرنے کے بعد شیشے کے بنے ہوئے ایک نفیس اور پرتعیش صندوق میں اس کے بیٹے کی فوجی وردی اور رتبے کا نشان بطور تحفہ پیش کیا گیا۔
غریب اور مجبور باپ نے جب فوجی رجیم کے اس تحفے پر نظر ڈالی تو اس نے پیشانی پر ہاتھ رکھا اور وہیں زمین پر گر پڑا۔ فوجی فوراً اس کے گرد جمع ہو گئے اور اسے تسلی دینے لگے، مگر اس بے چارے کی سسکیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ شاید اس کا ضمیر اسے یہ تحفہ قبول کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ اس کا بیٹا ایک ایسی جنگ میں مارا گیا تھا جس کی قیادت ایسے شخص کے ہاتھ میں تھی جس کے سر پر اس دنیا کی رسوائی اور ندامت بھی ہے، اور وہ پاکستانی فوج کے نعروں کے تحت ایسے مشن میں مارا گیا جس کے دوران ماہِ مبارک رمضان میں افغان خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو شہید کیا گیا۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جو پاکستانی سوشل میڈیا اور مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے منظرِ عام پر آئی، لیکن سرکاری اور فوجی رجیم کے سنسر اور نگرانی کے تحت کام کرنے والی متعصب میڈیا نے اس واقعے کو ایک پاکستانی کے ایثار اور حب الوطنی کے جذبے کے طور پر پیش کیا۔ جس دن سے دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی جارحانہ کارروائیوں اور افغانستان کی جوابی جنگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اسی دن سے پاکستان کے سرکاری اور قومی ٹیلی وژن چینلز اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا بھی شروع ہو چکا ہے۔
اسی طرح کی پاکستانی میڈیا کی پروپیگنڈا زبان وہ نام نہاد صحافی اور تجزیہ کار استعمال کرتے ہیں جو فوجی حکومت کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (ISPR) کے کنٹرول میں کام کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستانی فوج سے پیسے لے کر سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔
وہ چوبیس گھنٹے اپنے ہی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں مصروف ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا افغان سرزمین پر فوجی رجیم کا حملہ جائز اور برحق ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے حملوں میں وہاں ٹی ٹی پی، امارتِ اسلامی کے رہنما، فوجی مراکز اور عسکری سازوسامان کو نشانہ بنایا گیا اور نہایت درستگی کے ساتھ انہیں تباہ کر دیا گیا۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جارح پاکستانی فوج نے اپنی اندھی بمباریوں، فائرنگ اور حملوں کے دوران نہ صرف اپنی مطلوبہ اہداف کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ عام شہریوں کو ہی نشانہ بنایا ہے۔ اس کی مثالیں ننگرہار کے بہسود میں ایک خاندان کی تباہی اور کنڑ میں سوگوار خاندانوں کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی حملوں کے شر سے افغان تاجروں کا مال، کاروبار اور دکانیں بھی محفوظ نہیں رہیں، جس کی حالیہ مثالیں اسپین بولدک میں سامنے آئی ہیں۔
پاکستانی فوج کے سرکاری اور غیر سرکاری ترجمان بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی فوج بیرونی منصوبوں کے لالچ میں اپنے ہی عوام اور اپنی سرزمین کا سودا کر رہی ہے۔ اب تک وہ سینکڑوں افغان شہریوں کو شہید کر چکی ہے اور عوامی مفاد کے اداروں کو نشانہ بنا چکی ہے۔ اگر ان میں ذرا سا بھی ضمیر باقی ہو تو شاید وہ اس حقیقت سے آنکھیں نہ چرا سکیں۔ لیکن فوجی رجیم نے طاقت اور دولت کے زور پر نہ صرف ان سے میڈیا، صحافتی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ اصول فروخت کروا لیے ہیں بلکہ ان سینکڑوں افغان خاندانوں کے دکھ اور مصائب کا بوجھ بھی ان کے سر ہے جن کے گھر، کیمپ اور روزگار پنجابی فوج کی اندھی گولیوں اور بمباریوں کی نذر ہو چکے ہیں۔
پاکستانی میڈیا اور ان سے وابستہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس کی ایک بڑی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ افغان سکیورٹی فورسز کی ردُّالظلم نام پر کی جانے والی جوابی کارروائیوں کے نتائج کو بھی چھپائیں اور ایسا ظاہر کریں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ وہ تو یہاں تک کرتے ہیں کہ بعض بین الاقوامی اور نسبتاً غیر جانب دار ذرائع ابلاغ — جیسے الجزیرہ، اسکائی نیوز، بی بی سی اور دیگر یورپی نشریاتی ادارے — کی وہ رپورٹس اور ویڈیوز بھی نظر انداز کر دیتے ہیں جن میں فوجی رجیم کے ظلم اور درندگی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
اگر افغان میڈیا اور میڈیا کے فعال افراد نے فوجی رجیم کے لیے ’’اسرائیلی فوج‘‘کی اصطلاح استعمال کی ہے تو یہ بے جا نہیں بلکہ اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔ ایک طرف پاکستان نے خود امریکہ کو یہ پیشکش کی کہ وہ غزہ میں اسرائیل کے تحفظ اور اہلِ غزہ کے خلاف کارروائیوں کے لیے معاوضے کے بدلے اپنی فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری طرف افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پاکستانی طیاروں کے حملوں سے تباہ ہونے والے گھروں، گلیوں اور رہائشی مقامات کی تصاویر — جن میں بچے، عورتیں اور بوڑھے مٹی اور خون میں لت پت دکھائی دیتے ہیں — غزہ کے مناظر سے کوئی مختلف نہیں۔ دونوں جگہ ایک ہی طرح کی درندگی جاری ہے، بلکہ کئی مواقع پر فوجی حکومت اپنے سرپرست سے بھی بڑھ کر وحشت کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہے۔
اگر پاکستان واقعی اپنی نام نہاد جمہوریت میں میڈیا کی آزادی کو ایک قوت سمجھتا ہے تو اسے یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ یہی قوت اب ان مظالم، جرائم اور زیادتیوں کو بے نقاب کرنے میں مصروف ہے جو اس نے اپنے عوام اور اپنے ہمسایوں کے خلاف انجام دیے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں نہ تو آزاد میڈیا موجود ہے اور نہ ہی معیاری اور خودمختار ماہرین۔ وہاں اکثر وہی بریگیڈیئر یا ریٹائرڈ فوجی تجزیہ کار بن کر سامنے آتے ہیں جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد تجزیوں اور تحقیق کے نام پر منصوبے دیے جاتے ہیں تاکہ وہ فوجی قیادت کو ہیرو کے طور پر پیش کریں۔
پاکستانی فوج کا سربراہ، جسے ٹرمپ اور آئی ایس آئی کی ذاتی حمایت حاصل ہے، میڈیا کے ذریعے خود کو ایک علاقائی اور عالمی سطح کا عظیم اسٹریٹجک رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے۔ سابق نگران وزیرِاعظم انوارالحق کاکڑ کے بقول:
’’وہ دنیا کی ایک اہم شخصیت ہے اور خطے کے ممالک کو اپنی حکمتِ عملی اور قیادت کی تشکیل میں اس سے مشورہ لینا چاہیے!‘‘۔
وہ خود کو حافظ اور دینی علم رکھنے والا بھی ظاہر کرتا ہے، لیکن افغان ماہرین نے اس کی دینداری پر بھی سوال اٹھائے ہیں، کیونکہ کئی مواقع پر اس نے قرآنِ کریم کی آیات غلط تلاوت کیں اور اپنے اقتدار کے دوام اور مفاد کے لیے ان کی غلط تشریح بھی کی۔
پاکستانی میڈیا اسی خصوصیت کو اس کی ذہانت اور غیر معمولی صلاحیت قرار دیتا ہے اور بار بار یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ گویا پاکستانی فوج ایک اسلامی فوج ہے جو پورے عالمِ اسلام کا دفاع کر رہی ہے۔ حقیقت میں یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے، کیونکہ یہ فوج ہمیشہ امریکی مفادات اور ڈالر کے لیے متحرک رہی ہے۔ دراصل یہ ایک ٹھیکیدار اور اجرتی فوج ہے جس کی تاریخ میں حقیقی بہادری کی کوئی نمایاں مثال موجود نہیں۔
پاکستانی میڈیا اور اس کا پروپیگنڈا بڑی بے شرمی سے یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ افغانستان آج بھی غیر محفوظ ہے۔ اپنے دعووں کے ثبوت کے طور پر وہ یا تو فوجی رجیم کے بیانات اور گمراہ کن پریس ریلیز پیش کرتے ہیں، یا پھر جمہوریت کے دور کے چند سابق سکیورٹی اہلکاروں کے تجزیے نقل کرتے ہیں جو اس وقت بیرونِ ملک کیمپوں میں مقیم ہیں اور افغانستان کی موجودہ صورتِ حال سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔
چونکہ پتھر کا جواب پتھر سے دیا جاتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ افغان میڈیا بھی ان کھوکھلے پروپیگنڈوں کا جواب دے۔ پرعزم افغان صحافی، سوشل میڈیا کے سرگرم رہنما اور لکھاری ہر ممکن ذریعے سے ان کا رد کریں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب تک انہوں نے یہ کام مؤثر انداز میں انجام دیا ہے، افغان عوام کو معلومات کے خلا سے نکالا ہے اور انہیں افغان دفاعی قوتوں کے حقانیت اور فوجی رجیم کے جرائم سے آگاہ کیا ہے۔




















































