حالیہ دنوں میں، خطے کے ممالک کے ساتھ افغانستان کے سفارتی تعلقات اور روابط میں توسیع کے ساتھ ساتھ بعض حلقوں اور گروہوں، بالخصوص پاکستانی فوجی رجیم، نے شکوک و شبہات کی فضا پیدا کرنے اور خطرے کے تصور کو ہوا دینے کی کوشش کی ہے، تاکہ خطے اور دنیا کے ممالک کے سامنے امارت اسلامیہ افغانستان کی خارجہ پالیسی کو مشکوک بنایا جا سکے۔ یہ کوششیں خاص طور پر اُس وقت زیادہ نمایاں ہوئیں جب افغانستان نے بعض علاقائی ممالک، بشمول روس، کے ساتھ اپنے سیاسی اور سکیورٹی تعاون اور باہمی مفاہمت کو وسعت دی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امارت اسلامیہ کی خارجہ پالیسی اسلامی شریعت کے ثابت شدہ اصولوں، ملکی خودمختاری کے تحفظ، قومی مفادات کے دفاع اور عالمی برادری کے ساتھ متوازن تعلقات پر استوار ہے، اور ان روابط و تعلقات اور اسلامی اقدار کے درمیان کسی قسم کا کوئی تضاد یا تصادم موجود نہیں ہے۔
اسلام ایسا دین نہیں جو دنیا اور اقوام کے ساتھ تعلقات اور تعامل کی مخالفت کرتا ہو، بلکہ اسلامی شریعت نے بین الاقوامی تعلقات کے لیے ایک واضح اور جامع دائرۂ کار متعین کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾
ترجمہ: اللہ تعالیٰ تمہیں اُن لوگوں کے ساتھ بھلائی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
یہ قرآنی اصول واضح کرتا ہے کہ دیگر اقوام اور ممالک کے ساتھ روابط، تعاون اور تعلقات، جب تک مسلمانوں کی عزت اور امتِ مسلمہ کے مفادات کو نقصان نہ پہنچائیں، نہ صرف جائز ہیں بلکہ بعض مواقع پر ضروری اور مطلوب بھی ہیں۔
اسی اصول کی بنیاد پر امارت اسلامیہ نے اپنی خارجہ پالیسی میں نہ تنہائی کی راہ اختیار کی ہے اور نہ ہی عالمی طاقتوں کی تابعداری قبول کی ہے۔ امارت اسلامیہ کی پالیسی تمام ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات پر مبنی ہے، خواہ وہ روس ہو، چین ہو یا دنیا کا کوئی اور ملک۔ ان تعلقات میں بنیادی معیار باہمی احترام، داخلی معاملات میں عدم مداخلت، افغانستان کی خودمختاری کا تحفظ اور اسلامی اصولوں کی پاسداری ہے۔ امارت اسلامیہ کا یہ مؤقف ہے کہ افغانستان اپنے دینی اقدار، قومی حاکمیت اور سیاسی خودمختاری سے دست بردار ہوئے بغیر دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات قائم کر سکتا ہے۔
اسلامی خارجہ پالیسی کے اہم اصولوں میں سے ایک عہد و پیمان کی پاسداری بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے عہد و پیمان پورے کرو۔
اسی لیے ہر وہ معاہدہ اور تعاون جو اسلامی شریعت، قومی مصالح اور جائز قومی مفادات کے دائرے میں انجام پائے، اسلام کی نظر میں قابلِ قبول اور قابلِ حمایت ہے۔ مختلف ممالک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی روابط بھی اسی تناظر میں سمجھے جاتے ہیں، جن کا مقصد استحکام و امن کا قیام، معاشی ترقی اور خطے و دنیا میں افغانستان کے مقام کو مضبوط بنانا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی فوجی رجیم، جس پر گزشتہ کئی دہائیوں سے دوغلے پن اور افغانستان کے معاملات میں وسیع مداخلت کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، خطے کے ممالک کے ساتھ امارت اسلامیہ کے آزادانہ اور متوازن تعلقات کے فروغ سے خوش دکھائی نہیں دیتی۔ یہ رجیم افغانستان کو ایک خطرے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے بعض عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل کر سکے۔ لیکن زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آج کا افغانستان پہلے سے کہیں زیادہ علاقائی استحکام، اقتصادی تعاون اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے اور کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں سمجھا جاتا۔
امارت اسلامیہ متعدد بار اعلان کر چکی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اور اس کے بدلے میں وہ توقع رکھتی ہے کہ دیگر ممالک بھی افغانستان کی حاکمیت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے۔ یہ پالیسی اسلامی تعلیمات اور حسنِ ہمسائیگی کے اس اصول سے ماخوذ ہے جس پر اسلام نے خصوصی زور دیا ہے اور جسے انسانی معاشروں کے امن و سکون کے قیام کے بنیادی اسباب میں شمار کیا گیا ہے۔
آج افغانستان کو اسلامی نظام کے سایے میں یہ موقع ملا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو عزت، حکمت اور مصلحت کے اصولوں پر استوار کرے، وہی اصول جنہیں علمائے دین نے قرآنِ کریم کی اس مبارک آیت: “ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ” اور رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ سے اخذ کیا ہے۔
اسلام کے عظیم پیغمبر ﷺ نے بھی مدینہ کی اسلامی حکومت کے دور میں مختلف قبائل، سلطنتوں اور اقوام کے ساتھ تعلقات، معاہدات اور روابط قائم کیے تھے، جن کا مقصد مسلمانوں کے مفادات، امن اور استحکام کا تحفظ تھا۔
لہٰذا امارت اسلامیہ کی خارجہ پالیسی نہ مشرقی محور کے گرد گھومتی ہے اور نہ مغربی محور کے، بلکہ یہ افغانستان کے جائز قومی مفادات اور اسلامی شریعت کے ثابت شدہ اصولوں پر مبنی ہے۔ امارت اسلامیہ دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تعامل، تعاون اور خوشگوار تعلقات کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ یہ تعلقات باہمی احترام، عدم مداخلت، خودمختاری کے تحفظ اور اسلامی اقدار کی پاسداری پر قائم ہوں۔ یہی متوازن اور حکیمانہ پالیسی افغانستان کو علاقائی تعاون کا پل، اقتصادی روابط کے استحکام کا مرکز اور مسلم ممالک و عالمی برادری کے درمیان اپنے مقام کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔
بلاشبہ، افغانستان کی خارجہ پالیسی جتنی زیادہ شریعت کے اصولوں، اسلامی وقار، سیاسی حکمت اور قومی مفادات پر مبنی ہوگی، اتنی ہی زیادہ وہ دباؤ، منفی پروپیگنڈے اور دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں مضبوط اور ثابت قدم رہے گی۔ افغانستان کا مستقبل دنیا کے ساتھ ذمہ دارانہ تعامل، آزادانہ فیصلہ سازی کے تحفظ اور اسلامی اقدار سے وابستگی کے محور پر گردش کرتا ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جسے امارت اسلامیہ اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصول کے طور پر اختیار کیے ہوئے ہے۔

