"متوازن سیاست” کی اصطلاح اُن خوبصورت اور قیمتی تصورات میں سے ایک ہے جسے امارت اسلامیہ کی قیادت نے اسلامی نظام کے لیے ایک مثال کے طور پر اختیار کیا ہے اور مختلف مواقع اور حالات میں ہمیشہ اسے اپنی عملی پالیسی کی بنیاد بنایا ہے۔ ممکن ہے بعض لوگ یہ گمان کریں کہ یہ محض ایک نعرہ ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اگر انصاف اور گہری نظر سے اس کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں اسلامی نظام کی فتح کے ابتدائی دنوں سے لے کر آج تک یہ اصطلاح صرف گفتار تک محدود نہیں رہی، بلکہ عملی میدان میں بھی یہ ثابت کیا گیا ہے کہ ان کے قول و فعل میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
امارت اسلامیہ افغانستان کی متوازن اور عادلانہ پالیسی سب پر واضح ہے۔ متعلقہ ذمہ داران بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اسلامی شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے نظام چلائیں گے، افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، اور نہ ہی کسی فرد یا گروہ کو افغانستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت دی جائے گی۔ اگر کسی وقت ملک کے امن اور عوام کے سکون میں خلل پڑنے کا خطرہ پیدا ہو، تو ایسے افراد اور گروہوں کے خلاف فوری اور ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
حالیہ دنوں میں بعض حلقوں، بالخصوص پاکستانی فوجی رجیم، نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ روس جیسے ممالک کے ساتھ افغانستان کے تعلقات دوسروں کے لیے خطرہ ہیں، اور حسبِ سابق افغانستان کے بارے میں منفی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ لیکن اس نوعیت کی کوششیں کئی مرتبہ ناکام ہو چکی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کی خارجہ پالیسی توازن، باہمی احترام، دوسروں کے معاملات میں عدم مداخلت اور ملک کے جائز مفادات کے تحفظ پر قائم ہے، اور وہ تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات اسلامی اصولوں اور قومی مفادات کی روشنی میں استوار کرتا ہے۔
اسی طرح افغانستان ایک خودمختار ملک ہونے کے ناطے یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات اور اسلامی اصولوں کی بنیاد پر دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات قائم کرے۔ روس، چین یا کسی اور ملک کے ساتھ روابط کا مطلب کسی دوسرے فریق سے دشمنی نہیں، بلکہ یہ ایک متوازن خارجہ پالیسی کا حصہ ہے جو باہمی احترام کے اصول پر استوار ہے۔
اسلامی شریعت بھی حکمت، وعدوں کی پاسداری، خودمختاری کے تحفظ اور مسلمانوں کے مصالح کے حصول پر زور دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی مبارک زندگی میں مختلف قبائل، گروہوں اور ریاستوں کے ساتھ معاہدے اور تعلقات قائم کیے اور ہمیشہ امت کے مفاد کو پیشِ نظر رکھا۔
لہٰذا دیگر ممالک کے ساتھ جائز تعلقات اور معاہدات کا قیام، جب تک وہ افغان قوم کی عزت، آزادی اور اسلامی نظام کے لیے نقصان دہ نہ ہوں، ایک قابلِ قبول اور مشروع امر سمجھا جاتا ہے۔
امارت اسلامیہ کی متوازن اور معیشت پر مبنی پالیسی تمام ممالک کے ساتھ مثبت تعامل، دوسروں کے معاملات میں عدم مداخلت اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے اصولوں پر قائم ہے۔ یہ طرزِ فکر ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان دنیا کے تمام فریقوں کے ساتھ تعاون اور تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن ان تعلقات کو اسلامی شریعت، قومی خودمختاری اور ملک کے جائز مفادات کے دائرے میں آگے بڑھاتا ہے۔

