جب پاکستانی فوج کے حمایتی حلقوں کی جانب سے یہ تاثر پیش کیا جاتا ہے کہ:
“پاکستانی فوجی رجیم کی طرف سے نام نہاد دہشت گردی کے بہانے کی جانے والی جارحانہ کارروائیاں اور شکست خوردہ امریکہ کا چھوڑا ہوا اسلحہ، جسے گویا پاکستان کے ذریعے دوبارہ حاصل کیا جا رہا ہے، دراصل ’امریکہ کے نامکمل مشن‘ کی تکمیل کے مترادف ہے”،
تو اس معاملے کو محض ایک سیاسی نعرہ، وقتی جذباتی ردِعمل یا خود ساختہ انتقامی اظہار کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس قسم کا بیان اپنے اندر ایک ایسا تصوراتی فریم ورک تخلیق کرتا ہے جو ریاست کی ماہیت، نظریاتی بنیادوں اور بنیادی اصولوں سے متعلق کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ سوالات وقتی سیاست سے آگے بڑھ کر ریاست، خودمختاری، اخلاقی اصولوں اور علاقائی امن کے تصور سے جُڑ جاتے ہیں۔
ان سوالات پر غور کرنے سے پہلے یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ پاکستان کے مختلف سیاسی اور فوجی حلقوں کی جانب سے “امریکہ کے نامکمل مشن کی تکمیل” جیسے بیانات مختلف اوقات میں سامنے آتے رہے ہیں۔
یہ بات کسی ایک واقعے یا مخصوص وقت تک محدود نہیں رہی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک منظم بیانیے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر، گزشتہ سال اکتوبر کے پہلے عشرے میں، جب پاکستانی فوج نے افغانستان کے وزیرِ خارجہ کے دورۂ ہند کے دوران کابل میں نام نہاد اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے جارحانہ اقدام کیا، تو اس کارروائی کے جواز میں بعض فوجی اور فوج کے حمایتی حلقوں کی طرف سے یہ کہا گیا کہ: “پاکستانی فوج نے وہ کام کر دکھایا جو امریکہ بیس سال میں نہ کر سکا”۔
یہ جملہ ایک طرف غیر اسلامی فخر کا اظہار تھا، تو دوسری طرف اس نے ایک فکری دعویٰ بھی قائم کیا، ایسا دعویٰ جو عملی میدان میں اس پورے بیانیے کی بنیاد بنتا ہے، جس کے تحت امریکہ کے سابق صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے بگرام ایئر بیس کے حوالے نہ کیے جانے پر یہ دھمکی دی تھی کہ: “طالبان بہت برے واقعات دیکھیں گے”۔
یہاں “امریکہ کے نامکمل مشن کی تکمیل” کے بیانیے کی روشنی میں سب سے پہلا اور بنیادی سوال خودمختاری (Sovereignty) کا ہے۔
پاکستان خود کو ایک “مسلم ایٹمی طاقت” اور ایک بڑی “فوجی ریاست” کے طور پر پیش کرتا ہے، اور اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیاں آزادانہ اور قومی مفادات کی بنیاد پر مرتب کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
ایسی صورت میں، اگر سرکاری یا نیم سرکاری بیانات کے ذریعے پاکستان سے باہر کی گئی کارروائیوں کو “امریکہ کے نامکمل مشن کی تکمیل” سے جوڑا جائے، تو یہ ایک نیا تصور اور تاثر پیدا کرتا ہے۔ یہ تاثر گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں کے تاریخی تجربات، پاکستانی سیاست دانوں اور سابق فوجی حکام کے بیانات کی روشنی میں مزید تقویت پاتا ہے۔
یوں یہ سوال پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ کیا واقعی پاکستانی فوجی رجیم اپنی علاقائی پالیسیاں قومی مفادات کی بنیاد پر تشکیل دیتا ہے؟ یا یہ پالیسیاں عالمی کفریہ طاقتوں کی اسٹریٹیجک ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگی میں ترتیب دی جاتی ہیں؟
یہ سوال محض الزام نہیں، بلکہ ریاستی خودمختاری کے تصور پر ایک فکری سوالیہ نشان ہے۔
دوسرا سوال تاریخی پس منظر سے متعلق ہے۔ افغانستان میں امریکہ کی بیس سالہ جنگ ایسی شکست کے ساتھ ختم ہوئی جس نے امریکی بیانیے کے لیے ایک شکست خوردہ اور تشویش ناک انخلا کی صورت اختیار کی۔ خود امریکہ میں بھی اس جنگ کو ایک مہنگا، ناکام اور بے نتیجہ تجربہ تسلیم کیا گیا ہے۔ امریکی معاشرے، میڈیا اور تحقیقی اداروں کی جانب سے اسے بارہا ایک اسٹریٹجک ناکامی قرار دیا گیا ہے۔
اگر امارت اسلامیہ افغانستان کے سامنے ایک عالمی کفریہ طاقت، اپنی وسیع عسکری، اقتصادی اور سیاسی طاقت کے باوجود، اپنے اہداف حاصل نہ کر سکی، تو منطقی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خطے کا کوئی دوسرا ملک، جو وسائل اور عالمی اثر و رسوخ کے لحاظ سے اس درجے تک نہیں پہنچتا، کس منطق، کس سوچ اور کس اخلاقی جواز کے تحت اسی ہدف کو ایک اسلامی امارت کے مقابل حاصل کرنے کے قابل سمجھتا ہے؟
تیسرا سوال اخلاقی اور انسانی پہلو سے متعلق ہے۔
افغانستان محض ایک ہمسایہ ملک نہیں، بلکہ ایسا خطہ ہے جس کے ساتھ پاکستان کے مذہبی، ثقافتی، نسلی اور خاندانی روابط صدیوں سے قائم ہیں۔ سرحدیں سیاسی ہو سکتی ہیں، مگر انسانی رشتے جغرافیے سے ماورا ہوتے ہیں۔
کوئی بھی فوجی آپریشن، بالخصوص وہ جس میں شہریوں کے جانی نقصان کے ثابت شدہ دعوے موجود ہوں، محض “سکیورٹی آپریشن” کے محدود دائرے میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس قسم کی کارروائیاں نسلوں کی زندگیوں پر اثر ڈالتی ہیں، نفسیاتی زخم چھوڑتی ہیں، معاشرتی نفرت کو جنم دیتی ہیں اور علاقائی عدم استحکام کو مزید گہرا کرتی ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا علاقائی امن بندوق، بم اور طاقت کے ذریعے آئے گا؟ یا باہمی احترام، سفارتی تعلقات، مذاکرات اور اعتماد سازی کے نرم راستوں سے حاصل کیا جائے گا؟
یہ بھی اہم نکتہ ہے کہ امارت اسلامیہ کی جانب سے “پاکستانی قوم” اور “فوج کے مخصوص پالیسی ساز جرنیلوں” کو ایک ہی خانے میں نہیں رکھا جاتا۔ بعض ریاستی فیصلے ہمیشہ پوری قوم کے مشترکہ ارادے کی نمائندگی نہیں کرتے، بلکہ اکثر محدود پالیسی ساز حلقوں کی اسٹریٹجک سوچ کا اظہار ہوتے ہیں۔
اسی لیے یہ فرق بار بار واضح کیا جاتا ہے، تاکہ تنقید کسی قوم یا عوام پر نہیں بلکہ مخصوص جارحانہ پالیسیوں اور ان کے معماروں پر ہو۔ مقصد یہ ہے کہ تنقید معقول اور استدلالی سطح پر رہے اور ایسی دشمنی کی شکل اختیار نہ کرے جو دونوں ممالک کے عوام، خصوصاً مسلمانوں کے لیے خدانخواستہ مشترکہ نقصان کا باعث بنے۔
چنانچہ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر پاکستانی فوجی رجیم کی کسی مخصوص جارحانہ پالیسی کا دفاع سیاسی، عسکری اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ وہ کسی عالمی، بالخصوص کفریہ طاقت کے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کر رہی ہے، تو یہ خود اس پالیسی کے اخلاقی، سیاسی اور نظریاتی جواز پر سوال اٹھا دیتا ہے۔
ایسی صورت میں اس پالیسی کا ازسرِنو جائزہ ناگزیر ہو جاتا ہے، کیونکہ قومی وقار، علاقائی استحکام اور اسلامی ہمسائیگی، تینوں براہِ راست اس سے متاثر ہوتے ہیں۔
لہٰذا محض طاقت کے اظہار اور کسی کو زیر کرنے کے خواب دہرانے کے بجائے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ خطے کا مستقبل کس سمت جا رہا ہے؟ فوجی کارروائیوں، طاقت کے مظاہرے اور جبر کے تسلسل کی طرف؟ یا سیاسی بصیرت، مذاکرات، باہمی احترام اور حکمت پر مبنی سفارت کاری کی طرف؟
تاریخ گواہ ہے کہ امن کی تلاش جارحیت کے ذریعے مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ اس لیے کھویا ہوا حقیقی امن صرف حکمت، تدبر، مکالمے اور اخلاقی شعور کے ذریعے ہی واپس لایا جا سکتا ہے۔

