Site icon المرصاد

امن کے فرشتوں کی پناہ میں عید

خوشی کی حقیقی لذت وہی جانتا ہے جس نے عمر بھر غموں کا بوجھ اٹھایا ہو، اور امن کی قدر وہی پہچانتا ہے جس کی عیدیں، خوشیاں، شادمانیاں، فراغت کے لمحات، سفر اور زندگی کی دیگر سرگرمیاں دل کے خون سے رنگی گئی ہوں۔ افغان بھی دنیا کے اُن اقوام اور امتِ مسلمہ کے اُن حصوں میں شمار ہوتے رہے ہیں جنہوں نے کئی دہائیوں تک دیگر خوشیوں کے ساتھ ساتھ عیدیں بھی بمباریوں، دھماکوں، چھاپوں اور شہداء کے جنازوں کے سائے میں منائیں۔ عید کی رات ہوتی تھی، لیکن صبح عید کی نماز کے بجائے شہداء کے جنازوں کے اعلانات سنائی دیتے تھے۔ نوجوان، بہنیں، بھائی اور معصوم بچے عید کے نئے لباسوں کے بجائے سفید کفن پہن کر اپنے ربِّ کریم کی بارگاہ کی طرف روانہ ہو جاتے تھے۔

الحمد للہ! قریب پانچ برس سے افغانوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہے کہ انہیں دنیا کے بہت سے خطوں سے مختلف ایک ایسا پاکیزہ نظام نصیب ہوا ہے جو اسی قوم کی آغوش سے ابھرا ہے۔ اس نظام کے ذمہ دار خود کو عوام کا خادم سمجھتے ہیں۔ وہ قوم کی جان، مال، عزت، آبرو، خوشی اور غم کو اپنا سمجھتے ہیں، اور صرف اپنا سمجھنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں، تاکہ دینی، معاشی، سیاسی، ثقافتی، معاشرتی اور دیگر ضروری شعبوں میں لوگوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں، اور اس مقصد کے لیے ان کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

اس کی ایک نمایاں مثال عید الاضحیٰ کے مبارک ایام میں امن و امان کا قیام ہے۔ امارت اسلامیہ افغانستان کی تینوں سکیورٹی فورسز، یعنی وزارتِ داخلہ کے ماتحت دستوں، وزارتِ دفاع کے ماتحت یونٹوں اور انٹیلی جنس اداروں کے اہلکاروں نے ملک کے اندر اور سرحدوں پر امن کے قیام اور عوام کے ساتھ حسنِ سلوک کے حوالے سے ایسی جرات، فداکاری اور مستعدی کا مظاہرہ کیا جس نے نہ صرف لوگوں کے دل جیت لیے بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ آج دنیا میں اس درجے کا امن کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے، اور افغانستان کی تاریخ میں بھی اس قدر پرامن تقریبات شاذ و نادر ہی منعقد ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ امارت اسلامیہ افغانستان کے ذمہ داران اور عوام کے امن کے لیے کوشاں تمام قوتوں کو استقامت اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔

اس کے ساتھ افغانوں کی ایک اور خوش نصیبی یہ ہے کہ امن کے ماحول کے ساتھ ساتھ ان کے تمام مذہبی مناسک اور سماجی تقریبات بھی اسی انداز میں ادا کی جاتی ہیں جیسا کہ دینِ اسلام کی تعلیمات میں بیان کیا گیا ہے۔ افغانوں کے دینی، ثقافتی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کے دائرے میں یہ اصول حکومت اور عوام دونوں کے لیے قابلِ قبول ہیں، اور اسی وجہ سے اس مثالی مادی اور نفسیاتی امن کے قیام کے لیے سازگار ماحول میسر آیا ہے۔

گزشتہ عیدوں کے مقابلے میں اس عید کا ایک نمایاں فرق یہ بھی رہا کہ ماضی میں داعشی خوارج یا اسلامی نظام کے باغی عناصر کسی نہ کسی قسم کی تخریبی سرگرمی کی کوشش کرتے تھے، لیکن ملک کے بہادر مجاہدین ان کے منصوبوں کو بروقت ناکام بنا دیتے تھے۔ تاہم اس عید پر نہ خوارج اور نہ ہی باغی عناصر ایسی کسی جرات کا مظاہرہ کر سکے۔ الحمد للہ، یہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں ایسے شرپسند عناصر کا وجود بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے۔

دیگر قریب و بعید مسلم اقوام کے مقابلے میں افغانستان کا امتیاز یہ ہے کہ یہاں حکومت اور قوم ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا حصہ ہیں، جبکہ دنیا کے بہت سے مسلم ممالک میں عوام کی بڑی تعداد اپنے حکمرانوں کو اپنا نمائندہ نہیں سمجھتی۔ اسلام اور مسلمان عریانی، بے حیائی، فحاشی، شراب نوشی، قمار بازی اور فضول و بے جا اخراجات سے نفرت کرتے ہیں، لیکن بہت سی حکومتوں نے ان امور کے بارے میں بے حسی اختیار کر رکھی ہے، جبکہ امارت اسلامیہ افغانستان نے عوام کی دینی خواہشات اور اسلامی اقدار کے مطابق ایسی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

لہٰذا ہم افغانستان کے باسیوں کو چاہیے کہ ایسے نظام پر شکر گزار ہوں، بلکہ سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ کئی دہائیوں کے بعد ہمیں اس قسم کا مادی اور معنوی امن نصیب ہوا ہے۔ ہم اپنی روزمرہ زندگی کے معاملات امن کے ساتھ انجام دے رہے ہیں، اور اپنے دینی و ذاتی مراسم بھی اطمینان اور سکون کے ماحول میں مناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔”

Exit mobile version