Site icon المرصاد

بلوچستان میں داعش کے مراکز اب بھی فعال ہیں

بلوچستان میں موجود ان مراکز میں رہتے ہوئے داعش نے نوشکی میں اپنے حالیہ حملے میں دو لیویز اہلکاروں کو قتل کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ اہلکار گزشتہ بدھ کے روز نوشکی کے غریب آباد علاقے میں مسلح افراد کے ہاتھوں ہلاک ہوئے، اور بعد میں ان کی ہلاکت کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ دونوں اہلکار اُس تھانے میں ملازم تھے، جس کے اہلکاروں نے خفیہ اداروں سے ہم آہنگی کے بغیر داعش کے ایک لاجسٹک قافلے کی ترسیل روک دی تھی۔

ذرائع کے مطابق یہ اہلکار ایسے وقت میں مارے گئے جب بلوچستان کے علاقے مستونگ اور دیگر علاقوں میں اب بھی داعش کے کچھ مراکز فعال ہیں۔ اگرچہ ان مراکز میں داعشی جنگجو تربیت حاصل کرتے اور حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، پھر بھی پاکستانی فوجی حکومت اس پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے تاکہ اپنے مخالفین کے خلاف انہیں بطور ہتھیار استعمال کرے اور مغربی حمایت حاصل کرنے کے لیے انہیں ایک منصوبہ جاتی پروجیکٹ کے طور پر پیش کرے۔

چند ماہ قبل بلوچستان کے ضلع مستونگ میں داعش کے مراکز کے خلاف وسیع کارروائیاں کی گئی تھیں۔ ان کارروائیوں میں متعدد غیر ملکیوں کے ساتھ درجنوں ایسے جنگجو بھی مارے گئے جو تربیت حاصل کرنے کے لیے مستونگ آئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق منصوبہ یہ تھا کہ تربیت مکمل ہونے کے بعد ان افراد کو اسی مرکز سے خطے اور دنیا کے دیگر ممالک، خاص طور پر افغانستان اور مغربی ملکوں میں حملوں کے لیے بھیجا جائے۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان میں داعش کے زیادہ تر حملے اُن افراد پر کیے گئے ہیں جو پاکستانی حکام کے خلاف سیاسی یا عسکری سرگرمیوں میں ملوث سمجھے جاتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے امارتِ اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ داعش خراسان کے سربراہ شہاب المہاجر اور اُس کے قریبی ساتھی عبدالحکیم توحیدی، سلطان عزیز عزام اور داعش کی مرکزی قیادت سے روابط قائم کرنے والے اور نام نہاد ’’مکتبِ صدیق‘‘ کے انچارج صلاح الدین رجب پاکستان میں موجود اور روپوش ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ انہی جگہوں سے افغانستان، خطے اور دنیا بھر میں حملوں کی منصوبہ بندی اور حملہ آوروں کو تربیت دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔

Exit mobile version