Site icon المرصاد

تزکیۂ نفس کے لیے روزے کے ۳۰ دروس تیسری قسط

سحر: دعا اور مناجات کا وقت
روزے کی بابرکت راتوں کے قلب میں ایک سنہری اور بے مثال لمحہ پوشیدہ ہوتا ہے، جب اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ اپنے بندوں پر رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہ لمحہ سحر کا ہے، وہ وقت جب رات کی تاریکی سپیدۂ صبح کی دہلیز پر سکون اور پاکیزگی سے بھرا ماحول پیدا کرتی ہے۔ یہ وقت صرف سحری کھانے کے لیے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ سے راز و نیاز اور ربّ العالمین کی بارگاہ میں عاجزانہ دعا کی خاص گھڑی ہے۔ سحر عاشقوں کی خلوت اور مؤمنوں کی آہ و زاری اور استغفار کا وقت ہے، وہ لمحہ جب دل دنیاوی تعلقات سے جدا ہو جاتا ہے اور روح عالمِ ملکوت کی طرف پرواز کرتی ہے۔

اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے بارے میں فرماتا ہے:

«كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ» (الذاریات: 17–18)
یعنی: وہ لوگ رات کو کم سوتے تھے اور سحر کے وقت استغفار کرتے تھے۔

یہ مبارک آیت ان بندوں کی خوبصورت تصویر پیش کرتی ہے جو میٹھی نیند کو ترک کرکے اپنے ربّ جلّ جلالہ کی بارگاہ میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ سحر رحمت کے نزول اور گناہوں کی بخشش کا وقت ہے۔ ان قیمتی لمحوں میں گناہوں کی گرد دلوں سے صاف ہوتی ہے اور مغفرت کی نسیم روحوں کو معطر کرتی ہے۔

رمضان المبارک کی سحریوں کا ایک خاص ماحول ہوتا ہے؛ ایسا ماحول جس میں نہ صرف جسم بلکہ روح بھی روزہ دار ہوتی ہے۔ ان پاکیزہ ساعتوں میں غفلت کے پردے اٹھ جاتے ہیں اور انسان اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ کی عظمت کے سامنے اپنی حقیقت کو دوبارہ پا لیتا ہے۔ سحر وہ وقت ہے جب زمین آسمان کی خوشبو محسوس کرتی ہے اور فرشتے رات کو جاگنے والے بندوں کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور سپیدۂ صبح تک ان کے لیے اللہ متعال جلّ جلالہ کی بارگاہ سے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ یہ وہ لمحات ہیں جب اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے اور فرشتوں سے کہتا ہے: دیکھو میرے بندوں کو، جنہوں نے رات عبادت میں گزاری اور میرے سوا کسی نے انہیں بیدار نہیں کیا۔

رمضان کی سحریاں روح کی تجدید اور اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ سے ٹوٹے ہوئے تعلقات کو جوڑنے کا موقع ہیں۔ انہی لمحوں میں ٹوٹے دل سنبھلتے ہیں اور اشکبار آنکھیں روشنی پاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» (رواه مسلم)
یقیناً رات میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اسے پا لے اور اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ سے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا فرما دیتا ہے، اور یہ ہر رات ہوتی ہے۔ پس کتنا اچھا ہے کہ ہم رمضان کی سحریوں کو غنیمت جانیں اور اس الٰہی وعدے سے بہرہ مند ہوں۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے:

«يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ» (متفق علیہ)
اللہ تعالیٰ ہر رات جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے تاکہ میں اسے بخش دوں؟

یہ رحمت کا خاص اعلان رات کو جاگنے والے بندوں کے لیے الٰہی توجہ کا اظہار ہے۔

سحر اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ سے خلوت اور تنہائی کا وقت ہے۔ اس خلوت میں انسان گزشتہ گناہوں سے توبہ کر سکتا ہے، آئندہ کے لیے دعا مانگ سکتا ہے اور نیک بندگی کی توفیق طلب کر سکتا ہے۔ تزکیۂ نفس اس راز و نیاز کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ جب بندہ رات کے سکون میں اپنے ربّ جلّ جلالہ کے حضور کھڑا ہو کر اپنی کمزوری اور حاجت پیش کرتا ہے تو اس کی روح پاکیزہ ہو جاتی ہے اور گناہوں کا زنگ دل سے اتر جاتا ہے۔ سحر روحانی رزق کی تقسیم کا وقت ہے، ان ساعتوں میں اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ اپنے بندوں پر خاص فضل فرماتا ہے اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔

آئیے اس رمضان المبارک میں سحر کے لمحات کو ضائع نہ کریں۔ سحری کے لیے اٹھنے سے پہلے چند منٹ دعا، استغفار اور مناجات کے لیے مخصوص کریں۔ اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اپنے صالح بندوں میں شامل فرمائے اور اس بابرکت مہینے کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا کرے۔ رمضان المبارک کی سحریاں ایک عظیم روحانی سرمایہ ہیں، ان کی قدر پہچانیں۔ بہت سے بندے انہی سحریوں میں قربِ الٰہی کے بلند درجات تک پہنچے ہیں اور بے شمار گناہ انہی بابرکت لمحوں میں معاف کیے گئے ہیں۔

Exit mobile version