Site icon المرصاد

تزکیۂ نفس کے لیے روزے کے ۳۰ دروس پہلی قسط

روزہ؛ حصولِ تقویٰ کا ذریعہ:
ایک بار پھر رمضان المبارک، اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ کی مہمانی کا مہینہ، آ پہنچا ہے؛ وہ مہینہ جس میں رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں مؤمن کی سانس تسبیح اور اس کی نیند عبادت شمار ہوتی ہے۔ یہ مہینہ ایک غیر معمولی موقع ہے کہ ہم خود کی طرف لوٹ آئیں اور اپنے وجود میں تقویٰ کی ایک بلند عمارت تعمیر کریں۔

اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ اس پہلی آیت میں، جس میں روزے کا حکم بیان ہوا ہے، اس عظیم عبادت کی حکمت کو یوں واضح فرماتا ہے:
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾ ( البقرۃ: ۱۸۳)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

روزے کا اصل مقصد تقویٰ کے بلند مقام تک پہنچنا ہے۔ تقویٰ وہ مستقل بیداری اور باطنی نگرانی ہے جو انسان کو نافرمانی سے بچاتی ہے اور اسے اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ کے احکام کی اطاعت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ روزہ، یہ بے مثال عبادت، ہمارے اندر اسی قیمتی صفت کی تربیت کا ایک عملی میدان ہے۔

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ایک حدیث میں فرماتے ہیں:
«الصَّوْمُ جُنَّةٌ»
یعنی روزہ ایک ڈھال ہے۔ روزہ اس سپر کی مانند ہے جو انسان کو گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے اور بالآخر اسے جہنم کی آگ سے بچاتا ہے۔

جس طرح ایک ڈھال میدانِ جنگ میں انسان کو دشمن کے تیروں اور واروں سے محفوظ رکھتی ہے، اسی طرح روزہ بھی نفس کی خواہشات اور شیطان کے وسوسوں کے مقابلے میں ایک مؤمن کو گناہوں اور برائیوں سے بچاتا ہے۔ یہ ڈھال صرف گناہوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ جہنم کی آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بھی ہے۔

رسولِ اکرم، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور حدیث میں فرمایا:
«مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا»
یعنی کوئی بندہ ایسا نہیں جو اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے مگر اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے بدلے اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر سال کی مسافت کے برابر دور کر دیتا ہے۔
یوں روزہ ہمارے اور جہنم کے درمیان ایک محفوظ فاصلہ قائم کر دیتا ہے، اور یہی وہ عظیم نجات ہے جس کی تلاش ہر مؤمن کو ہوتی ہے۔

مگر یہ ڈھال ہمیں کس طرح بچاتی ہے؟ روزہ بھوک اور پیاس کے ذریعے سرکش خواہشات کو کمزور کرتا اور انسان کی قوتِ ارادہ کو مضبوط بناتا ہے۔ جو شخص ایک ماہ تک حلال چیزوں، جیسے پانی، کھانا اور اپنی زوجہ سے قربت سے خود کو روک سکتا ہے، وہ رمضان کے بعد بھی حرام کے مقابلے میں ثابت قدم رہ سکتا ہے۔ یہ مسلسل مشق انسان کے اندر تقویٰ کی صفت کو پختہ اور راسخ کر دیتی ہے۔

نفس کا تزکیہ، جو اس پوری تربیت کا بنیادی مقصد ہے، ان عملی مشقوں کے بغیر ممکن نہیں۔
رمضان المبارک خود احتسابی اور اصلاحِ نفس کا مہینہ ہے؛ ایسا مہینہ جس میں انسان اپنے نفس کو ریاضت کے ذریعے پاک کرتا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ سب سے بڑا جہاد نفس کے خلاف جہاد ہے، اور روزہ اسی جہادِ اکبر کا عملی میدان ہے۔

پس آئیے، اس بابرکت مہینے میں خالص نیت اور مضبوط ارادے کے ساتھ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھائیں؛ اپنے اندر تقویٰ کی بنیاد کو مضبوط کریں اور خود کو بری عادتوں اور گناہوں کی زنجیروں سے آزاد کریں، تاکہ اس مہینے کے اختتام پر ہم ایک پاکیزہ دل اور زیادہ تیار روح کے ساتھ زندگی کے سفر کو جاری رکھ سکیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رک جانے کا نام نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ»
ترجمہ: جو شخص جھوٹی بات اور برے عمل کو نہ چھوڑے، تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑ دینے کی کوئی حاجت نہیں۔

حقیقی روزہ اعضاء کا روزہ ہے: آنکھوں کا روزہ حرام نظروں سے بچنا، زبان کا روزہ جھوٹ اور غیبت سے رکنا، کانوں کا روزہ باطل باتوں سے اجتناب، اور دل کا روزہ ہر اس چیز سے پاک ہونا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو۔ لہٰذا آئیے اس مقدس مہینے میں مکمل شعور اور اخلاص کے ساتھ روزہ رکھیں، تاکہ تقویٰ کی شیریں دولت نہ صرف رمضان میں بلکہ پوری زندگی میں حاصل ہو سکے۔

Exit mobile version