Site icon المرصاد

تفصيل

آج بروز ہفتہ ملک کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں میں ڈیورنڈ کی فرضی لائن کے ساتھ واقع ان فوجی تنصیبات پر مربوط آپریشنز شروع کیے گئے جو افغانستان کی حدود کی خلاف ورزی میں استعمال ہوتے تھے۔

معلومات کے مطابق، آج ہفتہ کی شام کو کنڑ، ننگرہار، پکتیا، پکتیکا، خوست، ہلمند، قندھار اور زابل صوبوں میں ڈیورنڈ کی فرضی لائن کے ساتھ امارت اسلامیہ افغانستان کی فوج نے پاکستانی ملیشیا کی ان چوکیوں پر آپریشنز شروع کیے جو وقتاً فوقتاً افغانستان کی فضائی حدود اور ارضی سالمیت کی خلاف ورزی میں استعمال ہوتی تھیں اور فرضی لائن کے اِس پار عام شہریوں پر حملے کرتی تھیں۔

آپریشنز کے دوران اب تک درج ذیل پیش رفت ہوئی ہے:

– کنڑ کے ضلع ڈنگام کے علاقے بنشی کے قریب 3 چوکیاں قبضے میں لے لی گئیں، 5 پاکستانی فوجی ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے، جبکہ دیگر فوجی فرار ہو گئے۔
– پکتیا کے ضلع ڈنڈپٹان کے قریب بنائے گئے گیٹ اور فوجی تنصیبات کو ٹینکوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔
– ضلع ڈنڈپٹان میں فرضی لائن کے پار گیوی نامی چوکی پر کم از کم 6 پاکستانی فوجیوں کو ہلاک و زخمی کیا گیا۔
– خوست کے ضلع زازی میدان کے قریب 3 چوکیاں قبضے میں لی گئیں اور وہاں موجود پاکستانی فوجیوں کو ہلاک و زخمی کیا گیا۔
– ننگرہار کے علاقے باندر کے قریب پاکستانی ملیشیا اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہو گئی، جبکہ ضلع دوربابا میں فرضی لائن کے پار ایک چوکی کو قبضے میں لینے کے بعد بموں سے اڑا دیا گیا۔
– پکتیا کے ضلع زازی ایریوب کے قریب پاکستانی ملیشیا کی 4 چوکیاں گولہ بارود سمیت قبضے میں لی گئیں، جہاں 8 پاکستانی فوجی ہلاک اور 6 زخمی ہوئے۔
– صوبہ کنڑ کے علاقے غاشی کنڈو کے قریب پاکستانی ملیشیا اپنی چوکیوں سے فرار ہو گئی۔
– ہلمند کے ضلع بہرامچہ میں پاکستانی ملیشیا کی 3 چوکیاں گولہ بارود سمیت قبضے میں لی گئیں، کم از کم 12 فوجی ہلاک ہوئے اور چوکیوں کو ٹینکوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔
– زابل کے ضلع شملزئی کے علاقے ولگئی میں فرضی لائن کے پار پاکستانی ملیشیا کی ایک چوکی قبضے میں لی گئی۔
– قندھار کے اضلاع معروف اور ارغسان کے قریب پاکستانی ملیشیا کی چوکیوں پر حملے میں 6 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے۔

حملے اب بھی جاری ہیں اور تفصیلی رپورٹ بعد میں جاری کی جائے گی۔

Exit mobile version