کئی برسوں سے خطے اور دنیا میں داعش کے نام پر ایک کھیل جاری ہے۔ لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے، شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، مسلمان علماء کو شہید کیا جا رہا ہے، مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دی جا رہی ہے، ایک دوسرے کو کافر قرار دیا جا رہا ہے، گھروں اور شہروں کو تباہ کیا جا رہا ہے، اور مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ یہ تمام جرائم اسلام اور اسلامی خلافت کے نام پر ایک ایسی جماعت (داعش) کی طرف سے انجام دیے جا رہے ہیں جس کی حقیقت میں واضح ہے اور نہ ہی اس کا مقصد معلوم ہے۔
تاریخ کے اوراق میں بہت سے خوارج گزرے ہیں، مگر ان خوارج اور موجودہ داعشی خوارج میں نمایاں فرق یہ ہے کہ سابقہ خوارج اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے باعث اس راستے پر چلے گئے تھے اور انہوں نے کفار و مشرکین کے ساتھ نہ خفیہ تعلقات قائم کیے اور نہ علانیہ؛ لیکن داعشی خوارج کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ ان کی شدت پسندانہ فکر ان کی اپنی فہم کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ایک مصنوعی نظریہ ہے جو صہیونی عناصر کی جانب سے تیار کیا گیا ہے، اور ذہنی تربیت (برین واشنگ) کے بعد انہیں دیا گیا ہے تاکہ اپنے مخصوص مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔
محترم مسلمان بھائیو!
جب ۱۹۴۸ء میں مقبوضہ فلسطین میں تل ابیب کو مرکز بنا کر صہیونیوں کی جانب سے ایک غاصب ریاست (اسرائیل) کو تمام انسانی اور بین الاقوامی قوانین کے برخلاف قائم کیا گیا، تو اس کے قیام نے عرب اور عالمِ اسلام میں شدید ردِعمل پیدا کیا۔ کچھ لوگوں نے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا، جبکہ بعض دیگر نے مذاکرات اور عالمی دباؤ کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ مسئلہ اس قدر سادہ نہ تھا کہ آسانی سے حل ہو جاتا۔
روز بروز فلسطینی عوام پر اسرائیلی یہودیوں کے مظالم میں اضافہ ہوتا گیا، یہاں تک کہ ۱۹۶۷ء میں مصر کی قیادت میں چھ عرب ممالک نے اسرائیل پر حملہ کیا تاکہ فلسطین کو آزاد کرایا جا سکے۔ یہ جنگ تاریخ میں عرب اسرائیل جنگ کے نام سے معروف ہے، جس کے نتیجے میں عرب اتحاد کو شکست ہوئی اور اسرائیلی ریاست پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ہو گئی۔
اگرچہ اسرائیل اس جنگ میں اپنے مخالفین کو شکست دینے میں کامیاب ہو گیا، لیکن ایک ایسے ماحول میں مستقل طور پر رہنا جہاں اس کے تمام پڑوسی دشمن ہوں، اس کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ تھا۔ نہ اسرائیل فلسطین چھوڑنے پر آمادہ تھا اور نہ ہی اس کے پڑوسی ممالک خطے سے کہیں جا سکتے تھے۔ چنانچہ اسرائیل نے اپنی بقا اسی میں دیکھی کہ مشرقِ وسطیٰ میں بدامنی اور کشمکش کو فروغ دیا جائے، تاکہ ہمسایہ اسلامی ممالک آپس کے تنازعات میں الجھے رہیں اور اسرائیل خود محفوظ رہے۔
اسی مقصد کے تحت اسرائیل نے مشرقِ وسطیٰ میں مختلف منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا تاکہ خطے کے ممالک کو باہمی دشمنیوں میں مبتلا رکھا جا سکے۔ انہی منصوبوں میں ایک منصوبہ داعشی خوارج کا بھی ہے۔ چنانچہ ابتدا میں امریکہ اور اسرائیل نے یہ محسوس کیا کہ خطے کے تمام پڑوسی ممالک چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی، اسرائیل کے خلاف معاندانہ موقف رکھتے ہیں، لہٰذا پہلے مرحلے میں انہوں نے ممالک کے درمیان جنگیں بھڑکانے کی کوشش کی، جیسا کہ عراق اور ایران کی جنگ، جو آٹھ برس تک جاری رہی۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ بات واضح ہو گئی کہ ریاستوں کے درمیان جنگوں کے مقابلے میں نظریاتی اختلافات (خصوصاً سنی اور شیعہ کے درمیان) کو ہوا دینا زیادہ مؤثر ہے۔ کیونکہ ممالک کے درمیان تنازعات کسی نہ کسی مرحلے پر حل ہو سکتے ہیں، مگر دو نظریات یا مسالک کے درمیان بھڑکائی گئی آگ کو بجھانا نہایت دشوار ہوتا ہے۔
اسی بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے سب سے پہلے مشرقِ وسطیٰ میں تکفیر کے نظریے کو فروغ دیا، اور بعد ازاں اپنے خفیہ ایجنٹوں کے ذریعے داعشی خوارج کی تنظیم قائم کی۔ یہ وہ گروہ ہے جس نے نظریاتی سطح پر مشرقِ وسطیٰ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اسے باہمی خانہ جنگیوں میں مبتلا کر دیا۔ حالانکہ قرآنِ کریم میں یہ حقیقت واضح ہے کہ یہود اسلام کے سخت ترین دشمن ہیں، مگر داعشی خوارج نے اپنی ترجیحات بدل ڈالیں۔ انہوں نے قابض قوتوں کے خلاف لڑنے کے بجائے دیگر مسلمانوں کو کافر قرار دینا شروع کیا، یہاں تک کہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلمان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی کشمکش کی جگہ شیعہ اور سنی کے درمیان ایک وسیع جنگ نے لے لی، جس نے عالمِ اسلام کو بے شمار نقصانات سے دوچار کیا۔
جب امریکہ اور اسرائیل نے یہ دیکھا کہ داعشی خوارج کا یہ منصوبہ مشرقِ وسطیٰ میں اسلام کو کمزور کرنے اور اسرائیل کے تحفظ کے لیے مؤثر ثابت ہو رہا ہے، تو انہوں نے اسے عالمِ اسلام کے دیگر خطوں تک بھی پھیلا دیا۔ اگر غور کیا جائے تو داعش کے ظہور کے چند ہی برس بعد یہ گروہ مختلف علاقوں میں سرگرم ہو گیا۔
کیا یہ سب داعش کی اپنی قوت و صلاحیت کا نتیجہ تھا؟ اگر ایسا ہوتا تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ داعش عراق سے افغانستان تک تو پہنچ سکتی ہے، مگر اسرائیل تک کیوں نہیں پہنچتی؟ حتیٰ کہ شام میں ایسے حالات بھی دیکھنے میں آئے جہاں داعشی خوارج اور اسرائیلی افواج کے درمیان محض ایک دیوار کا فاصلہ تھا، لیکن اس کے باوجود کوئی براہِ راست تصادم نہیں ہوا۔ داعش کابل، ماسکو، ترکی، لبنان، بغداد، دمشق، بھارت، تہران اور مصر میں حملے کر سکتی ہے، مگر تل ابیب میں نہیں۔ یہ صورتِ حال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس کے اقدامات کسی نہ کسی سطح پر خفیہ اداروں کے زیرِ اثر ہیں؛ جب ضرورت ہو تو اسے فعال کر دیا جاتا ہے اور جب ضرورت نہ ہو تو اسے محدود کر دیا جاتا ہے۔
جیسا کہ حالیہ عرصے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اسرائیل یہ کوشش کر رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی طرح جنوبی ایشیا میں بھی شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کو ہوا دی جائے، تاکہ اس خطے کے مسلمان آپس کی کشمکش میں الجھے رہیں اور اسرائیل خود محفوظ رہے۔ تمام مسلمانوں کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ آج مسلمانوں کے درمیان مختلف ناموں سے جو اختلافات کو ابھارا جا رہا ہے، وہ دراصل صہیونی فکر کے وہ منصوبے ہیں جن کا مقصد امتِ مسلمہ کو تقسیم کرنا ہے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان سازشوں سے ہوشیار رہیں اور اپنے اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھیں۔

