داعشی خوارج کی خراسان شاخ کو افغانستان میں شدید نقصان پہنچنے اور اس کی قیادت سمیت عسکری نیٹ ورک تقریباً مکمل طور پر ختم ہونے کے بعد، اب خوارج مجبور ہو گئے ہیں کہ اپنے باقی ماندہ عناصر کو بچانے کے لیے ساری توجہ پیسوں کے جمع کرنے پر مرکوز کریں۔
اس بات کا واضح ثبوت خراسان شاخ کے ’’العزائم‘‘ رسالے کی پچھلے ایک سال میں شائع ہونے والی متعدد اشاعتیں ہیں، جن میں ہر شمارے میں لوگوں کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ انہیں پیسے بھیجیں، اور مسلسل اپنے اکاؤنٹس بھی شائع کرتے رہے ہیں۔
چند دن پہلے العزائم کے شعبہ افتاء نے ازخود ایک فتویٰ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ کفار کے بینک اکاؤنٹس ہیک کرنا اور ان سے پیسے چرانا جائز ہے۔ کفار کے بینک اکاؤنٹس سے پیسے چرانے کو جائز قرار دینے کا مقصد، خراسان شاخ کا خاص طور پر اور داعش کا عمومی طور پر یہ ہے کہ اپنے حمایتی عناصر کو اس کام کی ترغیب دیں اور اسی ذریعے سے اپنی مالی ضروریات پوری کریں۔
مالی مشکلات نے خوارج کو خصوصاً شام اور افغانستان میں اس بات پر بھی مجبور کیا ہے کہ وہ اغوا اور تاجروں کو ڈرانے دھمکانے کا سہارا لیں۔ تاجروں اور ان کے رشتہ داروں کو اغوا کرنا اور پھر پیسے لے کر رہا کرنا خوارج کے مالیاتی نیٹ ورک کا حصہ ہے، حالیہ دنوں میں جب دیگر ذرائع مسدود یا مشکل ہو گئے ہیں، تو انہوں نے اغوا کا راستہ اختیار کیا ہے، کیونکہ یہ کام دیگر ذرائع کے مقابلے میں آسان ہے اور کم محنت سے زیادہ مال حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خوارج نے اپنے نام نہاد شیوخ اور ذمہ داران سے بینک اکاؤنٹس کی چوری جیسی کارروائیوں کے علاوہ پہلے ہی لوگوں کے اغوا کی اجازت بھی لے رکھی تھی۔ مثال کے طور پر ۱۴۴۳ ہجری قمری میں خوارج کے شام وِلايت کے والی نے تمام ذمہ داروں کو ہدایت دی تھی کہ مالیاتی سرگرمیاں دوبارہ فعال کریں، خود ان کا انتظام کریں اور مکمل رازداری کے ساتھ ان کا تسلسل یقینی بنائیں۔ اس خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اغوا اور دیگر مالیاتی ذرائع کو فعال بنانے کے لیے درکار اشیاء جیسے گاڑیاں، گھر، رقم وغیرہ کی فہرست اس کے ساتھ شیئر کریں۔
خوارج اپنے باقی ماندہ اثر و رسوخ کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے مالیاتی نیٹ ورک کی جانب سے انجام دیے گئے غیر شرعی اعمال جیسے اغوا، تاجروں کو دھمکانا اور پیسوں کے لیے ان پر حملے کرنا خفیہ رہیں اور وہ کبھی بھی ان کارروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ المرصاد نے اپنے ذرائع سے خراسان ولايت میں خوارج کے مالیاتی نیٹ ورک کی جانب سے کیے گئے اغوا کے مستند شواہد اور معلومات حاصل کر لی ہیں، جو مناسب وقت پر شائع کی جائیں گی۔

