خوارج وہ پہلا فرقہ تھا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت اور اس کے بعد برپا ہونے والے فتنوں کے نتیجے میں مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوا۔ حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان تحکیم (ثالثی) کے واقعے کے بعد انہوں نے ’’لا حکم إلا للہ‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے مسلمانوں کی صف سے علیحدگی اختیار کر لی اور حروراء کے علاقے میں جمع ہو گئے۔
ان کی سب سے نمایاں فکری خصوصیت یہ تھی کہ وہ مسلمانوں کو گناہوں یا اجتہادی آراء و فہم کی بنیاد پر کافر قرار دیتے تھے۔
انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور متعدد دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو کافر قرار دیا اور مسلمانوں کے خون اور مال کو مباح سمجھا۔
خوارج دینی نصوص کے فہم میں انحراف کا شکار ہو گئے تھے۔ وہ قرآنِ کریم کی بعض آیات کے ظاہری مفاہیم سے چمٹے رہتے تھے، لیکن نبوی سنت اور صحابۂ کرام کے فہم کو نظر انداز کر دیتے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے بہت سے ایسے احکام کو رد کر دیا جو سنت سے ثابت تھے، اور مسلمانوں کو انتہائی آسانی کے ساتھ کافر قرار دیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ قرآنِ کریم پڑھیں گے، لیکن اس کے حقیقت اور روح سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے، اور ’’مسلمانوں کو قتل کریں گے اور مشرکوں کو چھوڑ دیں گے۔‘‘
خوارج اور ان کے ہم فکر گروہوں کے امت مسلمہ پر پڑنے والے نقصانات کو درج ذیل نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے:
1. مسلمانوں کے درمیان تکفیر کے رجحان کو فروغ دینا اور شرعی دلیل کے بغیر لوگوں کو اسلام سے خارج قرار دینا۔
2. مسلمانوں کا خون بہانا اور اسلامی معاشرے میں بدامنی اور انتشار پیدا کرنا۔
3. امت کے اتحاد کو کمزور کرنا اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور تقسیم کو بڑھانا۔
4. قرآنِ کریم کی آیات سے غلط استدلال کرنا اور شرعی نصوص کی غلط تشریح کرنا۔
5. نبوی سنت اور صحابۂ کرام کے فہم سے بے اعتنائی برتنا، جو عقیدے اور عمل میں گمراہی کا سبب بنتی ہے۔
6. امت مسلمہ کی قوت اور ہیبت کو کمزور کرنا اور دشمنوں کے اثر و رسوخ کے لیے راہ ہموار کرنا۔
7. دنیا کے سامنے اسلام کا ایک سخت گیر اور غلط تصور پیش کرنا۔
8. مسلمانوں کو باہمی تنازعات اور جنگوں میں الجھائے رکھنا، بجائے اس کے کہ وہ اصل مسائل اور حقیقی دشمنوں کا مقابلہ کریں۔
داعش اور خوارج کی فکری مشابہت
بہت سے علماء نے فکری اعتبار سے داعش کو خوارج سے مشابہ قرار دیا ہے، کیونکہ اس گروہ نے بھی متعدد مواقع پر مسلمانوں کی تکفیر، دین میں غلو، بے ضابطہ تشدد، بے گناہ افراد کا خون بہانے اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کو اپنا طریقۂ کار بنایا ہے۔ اس قسم کی فکر اور طرزِ عمل کا نتیجہ امت مسلمہ کے اتحاد کی کمزوری، اسلام کی بدنامی اور مسلمانوں کے دشمنوں کے لیے مواقع پیدا ہونے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
لہٰذا امت مسلمہ کی نجات اور کامیابی کا راستہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم اور نبوی سنت کو مضبوطی سے تھاما جائے، صحابۂ کرام اور سلفِ صالحین کے فہم کی پیروی کی جائے، افراط و تفریط سے بچا جائے، مسلمانوں کے اتحاد کو مضبوط بنایا جائے اور بلا دلیل تکفیر سے اجتناب کیا جائے۔

