Site icon المرصاد

خوارج کے جانشین! دوسری قسط

پہلی جماعت جس نے مسلمانوں کو کافر قرار دیا

داعش کی فکری اور عملی ماہیت کو درست طور پر سمجھنے کے لیے تاریخِ اسلام میں پیدا ہونے والے پہلے گمراہ فرقے، یعنی خوارج، کی طرف رجوع کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ یہ رجوع محض ایک تاریخی مطالعہ نہیں، بلکہ وہ بنیادی کنجی ہے جو داعش کے بہت سے رویّوں، فتوؤں، فکری ساخت اور تکفیری طریقۂ کار کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ اس دعوے کی وجہ واضح ہے، خوارج وہ لوگ تھے جنہوں نے امتِ مسلمہ میں مسلمانوں کی تکفیر کا دروازہ کھولا، جبکہ داعش نے ذرائع ابلاغ، ورچوئل دنیا اور جدید عسکری سازوسامان جیسے عصری وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اسی دروازے کو مزید وسیع کیا اور اسے تشدد و جرائم کی آخری انتہا تک پہنچا دیا۔

بعض محققین اور تجزیہ نگاروں کے نزدیک داعش دراصل خوارج کی فکر کا جدید دور میں ازسرِنو ظہور ہے، البتہ اس بار ریاستی قالب میں۔ یعنی وہی وسیع پیمانے پر تکفیر، وہی ظاہر بینی اور نصوص کے ظاہر سے چمٹے رہنے کا رجحان، اور وہی منظم تشدد، فرق صرف یہ ہے کہ اب یہ سب کچھ اعلیٰ معیار کی ویڈیوز اور وسیع سوشل میڈیا کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔

لفظ خوارج، خارجي کی جمع ہے اور عربی مادہ «خَرَجَ» سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں: نکلنا یا باہر ہونا۔ لغوی اعتبار سے خارجی اس شخص کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز سے نکل گیا ہو یا اس سے الگ ہو گیا ہو۔

لیکن عقائد، علمِ کلام اور تاریخ کی اصطلاح میں اس لفظ نے ایک خاص مفہوم اختیار کر لیا ہے اور ان افراد یا گروہوں کے لیے استعمال ہونے لگا جو مسلمانوں کی جائز حکومت کے خلاف بغاوت کریں۔ علمائے دین میں سے شہرستانی نے اپنی معروف کتاب «الملل والنحل» میں خوارج کی ایک جامع تعریف پیش کی ہے۔ ان کے مطابق ہر وہ شخص یا جماعت جو ایسے برحق امام کے خلاف خروج کرے جس پر مسلمانوں کا اتفاق و اجماع ہو اور اس کی اطاعت سے سرکشی اختیار کرے، خارجی کہلاتا ہے۔ یہ تعریف ظاہر کرتی ہے کہ خوارج کا مفہوم صرف ایک مخصوص تاریخی دور تک محدود نہیں، بلکہ ایک عمومی عنوان ہے جو ہر زمانے میں جائز حکمران کے خلاف بغاوت کرنے والوں پر صادق آ سکتا ہے۔

دیگر مسلم متکلمین اور مؤرخین نے بھی اپنے اپنے زاویۂ نظر سے اس مفہوم کو واضح کیا ہے۔ ابوالحسن اشعری اپنی کتاب «مقالات الإسلاميين» میں اس نام کی تاریخی بنیاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی وجہ سے اس نام سے مشہور ہوئے۔ عبدالقاہر بغدادی نے «الفرق بين الفرق» میں عقیدے کے اعتبار سے خوارج کو وہ لوگ قرار دیا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں کے کفر کے قائل تھے اور ان کی تکفیر کرتے تھے۔

ایک اور تعریف کے مطابق خوارج وہ اولین گروہ تھے جنہوں نے مسلمانوں کو کافر قرار دیا، عملی تشدد کا راستہ اختیار کیا اور اپنے مخالفین کے قتل کو جائز سمجھا۔ اس تعریف میں خوارج کی تین بنیادی خصوصیات پر زور دیا گیا ہے: تکفیر، عملی تشدد، اور مخالف مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھنا۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ داعش نے بھی انہی تین خصوصیات کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ جس طرح خوارج مسلمانوں کی تکفیر کرنے والا پہلا گروہ تھا، اسی طرح داعش نے شیعوں، صوفیوں، اخوانیوں بلکہ دیگر جہادی جماعتوں تک کی وسیع پیمانے پر تکفیر کرکے خوارج کے فکری ورثے کو آگے بڑھایا ہے۔

اسی طرح جس طرح خوارج نے عملی تشدد کو اختیار کیا اور مخالفین کے قتل کو جائز قرار دیا، داعش نے بھی اجتماعی پھانسیوں، سروں کو قلم کرنے، قیدیوں کو زندہ جلانے اور عورتوں و بچوں کو غلام بنانے جیسے اقدامات کے ذریعے منظم تشدد کو اپنی انتہا تک پہنچایا۔

لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ خوارج تاریخی اعتبار سے (حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت)، عقیدے کے اعتبار سے (مخالفین کی تکفیر) اور عملی اعتبار سے (تشدد اور مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھنا) اسلام کی تاریخ میں پیدا ہونے والی تمام تکفیری تحریکوں کی بنیادی جڑ سمجھے جاتے ہیں۔

داعش بھی اسی سلسلے کی سب سے خونریز اور شدت پسند معاصر صورتوں میں شمار ہوتی ہے۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے وصال سے قبل ایسے گمراہ اور منحرف گروہوں کے ظہور کی پیش گوئی فرمائی تھی اور امت کو ان کے فتنے سے خبردار کیا تھا۔ بعد میں یہی نبوی ہدایات اسلامی فقہاء کی ان آراء اور فتاویٰ کی بنیاد بنیں جن میں خوارج اور تاریخ کے مختلف ادوار میں ان جیسے گروہوں کی سخت مذمت کی گئی ہے۔

Exit mobile version