Site icon المرصاد

خوارج کے جانشین! پہلی قسط

تاریخِ اسلام میں ہمیشہ ایسے گروہ اور تحریکیں ابھرتی رہی ہیں جنہوں نے دین کے نام پر، مگر مکمل طور پر انحراف کی راہ اختیار کرتے ہوئے، امتِ مسلمہ کے فکری اور معاشرتی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ ان میں سب سے پہلا اور سب سے زیادہ اثر رکھنے والا گروہ وہ تھا جو پہلی صدی ہجری میں خوارج کے نام سے ظاہر ہوا۔

خوارج نے پہلی بار مسلمانوں کی تکفیر کا دروازہ کھولا اور «لا حُکمَ إِلَّا لِلّٰہ» کے ظاہری نعرے کے تحت اسلامی معاشرے سے الگ ہو گئے۔ انہوں نے ان تمام مسلمانوں کا خون حلال قرار دیا جو ان کے نظریات سے متفق نہیں تھے۔ اگرچہ اپنے زمانے میں انہیں شکست دے دی گئی، لیکن ان کی فکر اور عقیدہ ختم نہ ہو سکا اور تاریخ کے مختلف ادوار میں نئی جماعتوں اور فرقوں کی شکل میں بار بار زندہ ہوتا رہا۔

آج دنیا جس گروہ کو "دولتِ اسلامیہ عراق و شام” (داعش) کے نام سے جانتی ہے، درحقیقت وہ اسی قدیم انحرافی فکر کا تسلسل ہے۔ داعش نئی شکل اور جدید ذرائع کے ساتھ انہی نظریات کی پیروی کرتی ہے جن کی بنیاد خوارج نے رکھی تھی، یعنی مخالف مسلمانوں کی وسیع پیمانے پر تکفیر، جائز حکمرانوں کے خلاف خروج، دین کے فہم میں سطحی ظاہر بینی، اور ہر اس شخص کا خون حلال سمجھنا جو ان سے اتفاق نہ کرے۔

خوارج اور داعش کے درمیان بنیادی فرق صرف وسائل اور ٹیکنالوجی کا ہے، فکر اور بنیاد کا نہیں۔ خوارج تلوار اور خطابت کے ذریعے جنگ کرتے تھے، جبکہ داعش نے جدید عسکری سازوسامان، ورچوئل دنیا، پروفیشنل میڈیا اور اعلیٰ معیار کی فلمی پروڈکشنز کے ذریعے معاصر تاریخ کے بعض بدترین اور سفاکانہ جرائم اسلام کے نام پر انجام دیے ہیں۔

داعش کی درست شناخت اور اس کی حقیقی ماہیت کو سمجھنے کے لیے صرف عراق اور شام کے حالیہ برسوں کے واقعات کا مطالعہ کافی نہیں۔ یہ تکفیری گروہ تین بنیادی اور باہم مربوط عوامل کے پیچیدہ تعامل کا نتیجہ ہے۔

پہلا پہلو اس کی تاریخی اور کلامی جڑیں ہیں، جو خوارج کی تحریک تک پہنچتی ہیں۔ ان جڑوں کو سمجھے بغیر داعش کا کوئی بھی فکری تجزیہ نامکمل رہے گا۔

دوسرا پہلو وہ علاقائی اور سیاسی حالات ہیں جو عراق اور شام میں امریکی قبضے، فوجی ڈھانچے کے انہدام، فرقہ وارانہ امتیازات اور خانہ جنگیوں کے بعد پیدا ہوئے اور جنہوں نے منظم تشدد کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔

تیسرا پہلو اقتدار کا وہ خلا ہے جو مرکزی حکومتوں کی کمزوری اور طویل و تھکا دینے والی جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ اسی خلا نے داعش کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ ایک خفیہ اور غیر اعلانیہ تنظیم سے تبدیل ہو کر ایک خودساختہ "ریاست” کی شکل اختیار کر لے، ایسی ریاست جس نے وسیع جغرافیائی علاقے اور اربوں ڈالر کی آمدنی پر قبضہ حاصل کر لیا۔

اس تحریر اور اس سلسلے میں شائع ہونے والے آئندہ مضامین میں سب سے پہلے داعش کے ظہور کی جڑوں اور اسباب کا جائزہ لیا جائے گا اور یہ واضح کیا جائے گا کہ علاقائی حالات، اقتدار کے خلا اور اس سے پہلے موجود تکفیری تحریکوں نے اس کے وجود میں آنے میں کیا کردار ادا کیا۔

اس کے بعد توحید، تکفیر، خلافت اور جہاد جیسے تصورات کے حوالے سے داعش کے فکری اصولوں اور نظریات کا مطالعہ اور تنقیدی جائزہ پیش کیا جائے گا۔

پھر اس گروہ کے عملی طریقۂ کار اور میکانزم کا جائزہ لیا جائے گا، جن میں منظم تشدد، میڈیا پروپیگنڈا، افراد کی بھرتی اور ورچوئل دنیا کے استعمال جیسے پہلو شامل ہیں۔

اس کے بعد افغانستان میں داعش کی موجودگی اور سرگرمیوں، نیز غیر ملکی قبضے کے دوران اس گروہ کے ارتکاب کردہ سنگین جرائم کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

آخر میں افغان معاشرے اور عالمی برادری کی سطح پر اس تحریک کے سکیورٹی، معاشرتی، فکری اور ثقافتی اثرات کا تجزیہ کیا جائے گا۔

اس تحقیق کا مقصد یہ ہے کہ اس تکفیری تحریک پر تنقیدی مطالعے کے لیے ایک علمی اور مستند بنیاد فراہم کی جائے اور عوام کو اس گروہ کی فکری اور عملی گمراہیوں سے آگاہ کیا جائے۔

Exit mobile version