Site icon المرصاد

دہشت گردی سے پاک افغانستان اور دہشت گرد پاکستانی فوج کی بے بسی

افغانستان اپنی جغرافیائی اور تاریخی ساخت کے لحاظ سے ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد پہاڑی جغرافیہ اور قبائلی و قومی ڈھانچے پر قائم ہے۔ اس نے اپنی طویل تاریخ میں اپنی قدرتی پہاڑی جغرافیہ اور قومی و قبائلی معاہدوں کی بنیاد پر اپنا دفاع کیا ہے۔ اسی طرح وہ حکومتیں جو انہی اقوام کے اندر سے ابھریں، عوام نے ان کا ساتھ دیا اور پوری جرات کے ساتھ ان کی حمایت کی۔

امارت اسلامیہ افغانستان بھی افغان قوم کے دین اور ثقافت سے وابستگی کی بنیاد پر قائم ہونے والی حکومت ہے، جس نے اپنی پوری قوت کے ساتھ اپنے عوام اور سرزمین کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے اور کر رہی ہے۔

جیسا کہ عوام اپنی ذمہ داری کے احساس کے تحت نظام کے ساتھ کھڑے ہیں، اس لیے وہ کبھی کبھی دہشت گردانہ حملوں کا بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح پاکستانی فوجی رجیم نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے، اپنے دہشت گردانہ اقدامات کو جاری رکھنے، اور اسے سونپی گئی دہشت گردانہ منصوبہ بندیوں کی کامیابی و تکمیل کے لیے ایک بار پھر فرضی ڈیورنڈ لائن کے قریب خوست، پکتیکا اور کنڑ صوبوں میں عوام کے گھروں پر بمباری کی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر مالی و جانی نقصان ہوا ہے۔

پاکستان کا دہشت گرد ادارہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے دہشت گرد مراکز کو نشانہ بنایا ہے، اور ان مراکز سے مراد وہ مقامات ہیں جہاں سے پاکستانی فوج کے کرائے کے سپاہیوں کو پاکستان کے اندر ان کی چوکیوں پر ہلاک کیا گیا۔ پاکستانی دہشت گرد فوج کے مطابق یہ مراکز ٹی ٹی پی مجاہدین کے مراکز ہیں۔ حالانکہ ان حملوں میں عورتیں، بچے اور بزرگ شہید ہوئے ہیں، جبکہ عام گھروں اور عمارتوں کو تباہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب افغان حکومت نے بارہا عملی طور پر دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد کی مثالیں پیش کی ہیں؛ جیسا کہ ایک ہفتہ قبل افغان عوام نے ایک مثالی پُرامن عید دیکھی۔

پاکستانی دہشت گرد فوج افغانستان میں ٹی ٹی پی کے مراکز اور مرتد فوج پر ان کے حملوں کا ذکر ایسے وقت میں کرتی ہے جب تقریباً چھ ماہ سے افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تمام سرحدیں بند ہیں اور فرضی لائن پر دونوں جانب سخت نگرانی جاری ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد پاکستانی ادارے کے خلاف اپنے ہی عوام کی ناراضگی، معاشی مشکلات، صوبوں کے درمیان کٹھ پتلی حکومت کا امتیازی رویہ، علمائے کرام کی شہادتیں، عام بااثر شخصیات کے قتل، آئی ایس آئی خفیہ ادارے کی جانب سے قبائلی و قومی رہنماؤں کو غائب کرنا، اور دیگر بے شمار مظالم اس بات کا سبب بنے ہیں کہ کرائے کے اور دہشت گرد پاکستانی ادارے کے حکام راستہ بھٹک چکے ہیں، اپنی ناکامی کا الزام افغان حکومت پر ڈال رہے ہیں اور اپنا انتقام افغان عوام سے لے رہے ہیں۔

Exit mobile version