روس کے ساتھ امارت اسلامیہ کا ہونے والا معاہدہ افغانستان کو بہت جلد مزید مضبوط اور عسکری و تکنیکی شعبوں میں وسیع فوائد فراہم کرے گا۔ امارت اسلامیہ نے بار بار عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ اسی وجہ سے، اگر پاکستانی رجیم روس اور افغانستان کے درمیان اس معاہدے کی وجہ سے تشویش ظاہر کرتی ہے اور اپنے لیے خطرہ محسوس کرتی ہے، تو یہ تشویش شاید اس لیے ہے کہ اس نے افغانستان کی سرزمین پر مداخلت کی ہے اور مستقبل میں بھی اس کا مقصد نیک اور پرامن نہیں، اور وہ یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ امارت اسلامیہ روس جیسے بڑے اور طاقتور ملک کے ساتھ تعلقات رکھے، کیونکہ یہ تعلقات ان کے موقف کے خلاف ایک مضبوط دھچکے کے مترادف ہیں۔
افغان حکومت کو یہ جائز حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک کی سلامتی، استحکام اور دفاع کے لیے اپنی صلاحیتیں مضبوط کرے اور ہر ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے خود کو تیار رکھے۔
امارت اسلامیہ شرعی اصولوں، قومی مفادات اور متوازن خارجہ پالیسی کی روشنی میں تمام ممالک کے ساتھ مناسب اور باہمی تعلقات کی خواہاں ہے، چاہے وہ تعلقات روس کے ساتھ ہوں، چین کے ساتھ ہوں یا دیگر ممالک کے ساتھ۔
روس کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ روس نے موجودہ افغان حکومت پر اعتماد حاصل کر لیا ہے۔ پہلے روس کو منشیات کی اسمگلنگ، عدم استحکام اور داعشی گروہوں کی سرگرمیوں کے بارے میں تشویش تھی، لیکن امارت اسلامیہ نے اپنے وسائل کے دائرے میں ان مسائل کے تدارک اور روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے، جس کی وجہ سے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد بڑھا اور تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے۔
کچھ مخالف حلقے امارت اسلامیہ پر تنقید کرتے ہیں کہ طالبان نے ماضی میں روس کے ساتھ پچھلی حکومتوں کے تعلقات کی مذمت کی اور انہیں اسلام کے نظریے کے خلاف قرار دیا، لیکن اب وہ خود روس کے ساتھ تعلقات رکھ رہے ہیں؟
اس اعتراض کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ پچھلی حکومتوں کے تعلقات غیر ملکی مداخلت کو تقویت دینے اور اپنے مسلمان عوام کے خلاف تھے، لیکن امارت اسلامیہ کے موجودہ تعلقات ملک کے قومی مفادات، اقتصادی ترقی، سکیورٹی استحکام اور افغانستان کی سرزمین کے دفاع کے لیے ہیں۔
غیر مسلم ملک کے ساتھ تعلقات قائم کرنا شریعت کے لحاظ سے
امارت اسلامیہ اب اس ضرورت کو سنجیدگی سے محسوس کرتی ہے کہ اپنا نظام مزید مضبوط، مستحکم اور ممکنہ جنگوں کے لیے تیار رکھے۔
ایک طرف ضرورت اور مصلحت موجود ہے، اور دوسری طرف روس پر کافی حد تک اعتماد اور باہمی تفاهم بھی موجود ہے۔ یہ دونوں وہ شرائط ہیں جو کئی فقہاء نے غیر مسلموں سے تعاون کی اجازت کے لیے بیان کی ہیں۔
فقہائے کرام یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن صفوان بن امیہ سے مدد لی، حالانکہ وہ ابھی تک مشرک تھے۔ اسی طرح فتح کے سال قبیلہ خزاعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قریش کے خلاف نکلا، اور وہ بھی مشرک تھے۔
جواز کے دلائل میں یہ بھی شامل ہے کہ قزمان اُحد کے دن صحابہ کے ساتھ نکلا، حالانکہ مشرک تھا، اور مشرکوں کی صف میں اس نے تین علم بردار افراد کو قتل کیا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"بے شک اللہ تعالیٰ کبھی کبھار اس دین کی مدد فاجر انسان کے ذریعے بھی کرتا ہے۔”
جیسا کہ علمائے سیرت نے ثابت کیا ہے۔

