افغانستان کی تاریخ، جو برصغیر اور وسطی ایشیا کو جوڑنے والی ایک اہم کڑی کی حیثیت سے منفرد جغرافیائی و سیاسی مقام رکھتی ہے، اس بات کی گواہ ہے کہ اس سرزمین کی سیاسی تبدیلیوں نے ہمیشہ عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ بیس سالہ طویل جدوجہد اور غیر ملکی قبضے کے خاتمے کے بعد جب افغانستان میں امارت اسلامیہ کا نظام قائم ہوا تو دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کابل کی نئی قیادت دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس فریم ورک اور کس پالیسی کی بنیاد پر منظم کرے گی؟
آج افغانستان کی خارجہ پالیسی ایسی پختگی، اعتدال اور اسلامی شریعت کی روشنی میں آگے بڑھ رہی ہے جو نہ صرف افغان عوام کے قومی مفادات کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے بھی ایک اہم ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ تاہم بدقسمتی سے اس مثبت پیش رفت کو بعض ممالک کے فوجی اور خفیہ اداروں کے حلقے، بالخصوص پاکستانی فوج، شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ وہ مسلسل یہ کوشش کرتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کے سامنے افغانستان کو ایک ممکنہ خطرے کے طور پر پیش کریں، ایسی کوششیں جو نہ حقائق سے مطابقت رکھتی ہیں اور نہ ہی منطق کے تقاضوں پر پوری اترتی ہیں۔
امارت اسلامیہ افغانستان کی خارجہ پالیسی کا پہلا اور بنیادی اصول اسلامی شریعت کے احکام اور عہدِ نبوی کے سیاسی و سفارتی اصول ہیں۔ اسلام ایک جامع دین ہے جو دنیا کے تمام ممالک، خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، کے ساتھ امن، تجارت اور سیاسی تعلقات قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے، بلکہ بعض مواقع پر اسے ضروری بھی قرار دیتا ہے۔ اسلامی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی اسلامی سلطنت کے قیام کے بعد مختلف غیر مسلم قبائل اور سلطنتوں کے ساتھ معاہدے کیے، جن میں ’’میثاقِ مدینہ‘‘ اور ’’صلح حدیبیہ‘‘ نمایاں مثالیں ہیں۔
انہی شرعی مثالوں کی روشنی میں امارت اسلامیہ ہر اس ملک کے ساتھ باہمی احترام، مساوات اور متوازن تعلقات (Engagement) کے لیے تیار ہے جو افغان عوام کے حقوق اور افغانستان کی قومی خودمختاری کا احترام کرے۔ روس کے ساتھ حالیہ سکیورٹی اور دفاعی تعاون، یا چین کے ساتھ اقتصادی اور معدنیاتی منصوبے، سب ایسے اقدامات ہیں جو اسلامی شریعت کے متعین اصولوں اور حدود کے اندر رہتے ہوئے کیے گئے ہیں۔ اس تعاون کا مقصد ملک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور بیرونی جارحیت و مداخلت کا سدباب کرنا ہے۔
یہاں اس نکتے پر خاص توجہ ضروری ہے کہ افغانستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کسی عالمی بلاک کا حصہ نہیں اور نہ ہی کسی مخصوص محور کے خلاف تشکیل دی گئی ہے، بلکہ یہ مکمل طور پر ایک آزاد اور غیر جانبدار (Non-Aligned) پالیسی ہے۔ ماضی کی کٹھ پتلی حکومتوں کے برعکس، جو بیرونی طاقتوں کی خواہشات کے مطابق قائم کی گئی تھیں اور جنہوں نے افغان سرزمین کو سیاسی و سفارتی رقابتوں کا میدان بنا دیا تھا، موجودہ نظام افغانستان کو ایک آزاد اور خودمختار نظام کے طور پر متعارف کراتا ہے۔
روس اور چین کے ساتھ تعلقات کی توسیع کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کابل نے امریکہ یا مغربی دنیا کے ساتھ تصادم اور دشمنی کی راہ اختیار کر لی ہے۔ امارت اسلامیہ واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ وہ مغربی ممالک سمیت دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مثبت سیاسی اور اقتصادی تعلقات کی خواہش مند ہے، بشرطیکہ وہ افغانستان کے داخلی معاملات اور اسلامی نظام میں مداخلت نہ کریں۔
افغانستان اس کے بجائے کہ کسی عالمی طاقت کے مقاصد کا آلہ کار بنے، یہ کوشش کر رہا ہے کہ خطے کی تجارت اور معیشت کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ مرکز (Transit Hub) بن جائے۔ وسطی اور جنوبی ایشیا کو باہم جوڑنے کے لیے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کی ترقی اسی وژن کی واضح مثال ہے۔
اگرچہ امارت اسلامیہ کی خارجہ پالیسی تعمیر و ترقی، توازن اور امن کے اصولوں کے گرد گھومتی ہے، لیکن پاکستان کا فوجی اور حکمران نظام حالیہ عرصے میں عالمی برادری، بالخصوص امریکہ، کے سامنے افغانستان کے بارے میں ایک مصنوعی خطرے کا تصور (Threat Perception) پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستانی فوج یہ پراپیگنڈہ کر رہی ہے کہ روس کے ساتھ افغانستان کے دفاعی تعلقات خطے میں ایک نئے سکیورٹی بحران کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگر اس مسئلے کا منطقی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو یہ موقف پاکستانی فوجی رجیم کی ایک بڑی اور سنگین سفارتی غلطی قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کا اصل مقصد اپنی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی ناکامیوں سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔
پاکستان کے حکمران حلقے طویل عرصے سے ’’افغان کارڈ‘‘ استعمال کر کے مغربی ممالک سے مالی اور سیاسی مراعات حاصل کرتے رہے ہیں، اور اب بھی وہ اسی پرانی حکمتِ عملی کے ذریعے امریکہ کے سامنے اپنی سیکورٹی اہمیت ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ پالیسی نہ صرف اخلاقی اعتبار سے کمزور ہے بلکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے مفادات کے بھی خلاف ہے۔
پاکستانی پروپیگنڈے کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ایک مضبوط، مستحکم اور دفاعی لحاظ سے خود کفیل افغانستان پورے خطے کی سلامتی اور سکون کی ضمانت ہے۔ روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ کابل کا سکیورٹی اور دفاعی تعاون کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بلکہ افغانستان کی سرزمین کے تحفظ اور بیرونی مداخلتوں کی روک تھام کے لیے ہے۔ امارت اسلامیہ متعدد مرتبہ دنیا کو یقین دہانی کرا چکی ہے اور عملی طور پر بھی یہ ثابت کیا ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
لہٰذا پاکستانی فوج کی جانب سے افغانستان کے جائز دفاعی اقدامات کو شک کی نگاہ سے دیکھنا اور انہیں خطرے کے طور پر پیش کرنا درحقیقت خطے کی سلامتی کو نئے خطرات سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔ امارت اسلامیہ افغانستان کی خارجہ پالیسی حقیقت پسندی، قومی مفادات اور سب سے بڑھ کر اسلامی شریعت کے مضبوط اصولوں پر استوار ہے۔
عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ افغانستان کو دوسرے ممالک یا مخصوص فوجی بیانیوں کی عینک سے دیکھنے کے بجائے کابل کے سرکاری موقف اور قیادت کے ساتھ براہِ راست اور مخلصانہ تعامل کے ذریعے سمجھے۔
اسی طرح عالمی طاقتوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات اور پروپیگنڈا زیادہ تر اس کے مالی اور سیاسی مفادات کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ امارت اسلامیہ کا بنیادی مقصد افغان عوام کی فلاح و بہبود، اقتصادی ترقی اور خطے میں مشترکہ امن کا قیام ہے۔ جو بھی ملک باہمی احترام اور عدم مداخلت کی بنیاد پر افغانستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے گا، کابل کو وہ ہمیشہ ایک قابلِ اعتماد، اصول پسند اور اپنے عہد کا پابند شراکت دار پائے گا۔

