Site icon المرصاد

سلطان صلاح الدین ایوبی کے لشکر میں افغان مجاہدین

کیا آپ سلطان صلاح الدین ایوبی کے ساتھ بیت المقدس کی فتح اور حطین کی جنگ میں شریک افغان مجاہدین کو جانتے ہیں؟ کیا آپ کو فلسطین میں افغانوں کے کسی گاؤں کا علم ہے؟ کیا افغانوں اور پشتونوں کو اُن صلیبی جنگوں کی تاریخ پڑھنے کی ضرورت ہے، جو عرب اور ترک علاقوں میں پیش آئیں؟ ذیل کی تحریر انہی سوالات کا جواب ہے۔

مختصر اور عمومی جواب یہ ہے کہ ہم سب مشترکہ عقائد رکھنے والے اور ایک ہی مشترکہ تقدیر سے دوچار امت ہیں۔ صلیبی جنگوں نے نہ صرف مسلمانوں پر منفی اثرات ڈالے بلکہ اس خطے کی دیگر اقوام کو بھی متاثر کیا، یہاں تک کہ عالمی تعلقات اور سیاست کی نوعیت بھی انہی سے متعین ہوئی۔

مورخین کہتے ہیں کہ ان طویل جنگوں نے مشرق اور مغرب کے درمیان اتنی گہری خلیج پیدا کر دی کہ اگر اسے بھرنے میں صدیاں بھی لگا دی جائیں تو بھی یہ مکمل طور پر نہیں بھر سکتی۔ لہٰذا اس موضوع کو کسی ایک مخصوص خطے کا مسئلہ سمجھنا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ خطرناک نتائج کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

تاہم تفصیلی اور خاص جواب یہ ہے کہ عام لوگوں کے گمان کے برخلاف، صلیبی جنگوں کے دوران افغان کوئی غیر جانب دار اور الگ تھلگ قوم نہیں تھے، بلکہ انہوں نے مختلف محاذوں پر صلیبیوں کے خلاف جدوجہد کی۔ مثال کے طور پر تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ محمد بن منصور ابو سعد الہروی نامی ایک شخصیت، جسے تقدیر نے اس خطے سے اٹھایا اور دمشق کا قاضی القضاۃ مقرر کر دیا، وہ پہلا شخص تھا جس نے بڑے پیمانے پر اور حقیقی معنوں میں صلیبیوں کے خلاف مسلمانوں کی سوئی ہوئی طاقت یعنی “جہاد” کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ اس نے ردعمل اور بیداری کی ایک نئی صورت پیدا کی، جسے بعد میں ابن الخشاب جیسے افراد نے اپنایا اور آگے بڑھایا۔

ابو سعد الہروی ایک جید عالمِ دین، ادیب، شاعر اور پرجوش خطیب تھے۔ وہ امراء و سلاطین کے درباروں اور عوام کے درمیان جب مصیبت اور ذلت کی حالت پر گفتگو کرتے تو کسی کے پاس خاموش رہنے کا کوئی جواز نہ رہتا۔ جو مسلمان ان کے اثر انگیز خطبات سن کر روتے، وہ ان سے کہتے کہ اب آنسوؤں کا نہیں بلکہ تلوار اور جہاد کا وقت ہے۔ شعراء ان کے خطبات کو قصیدوں کی شکل دیتے، اور وہ مسلمانوں میں “زین الاسلام” کے لقب سے معروف ہو گئے تھے۔

لیکن افسوس کہ ایسے عظیم لوگوں کو آج ان کی اپنی قوم بھی نہیں جانتی، تو پھر ان گمنام افغان مجاہدین کو کون پہچانے گا جو بیت المقدس کی آزادی کی جنگوں میں، خاص طور پر فیصلہ کن معرکہ حطین میں، سلطان صلاح الدین ایوبی کے شانہ بشانہ لڑے۔ فتح کے بعد انہیں بیت المقدس کے اطراف میں زمینیں بھی دی گئیں، اور ان کی بعض نسلیں آج تک وہاں آباد ہیں اور افغانوں کے نام سے جانی جاتی ہیں۔

قدس شریف کے جنوب مغرب میں “حی الافغانی” کے نام سے ایک علاقہ آج بھی اسی نام سے موجود ہے۔ عثمانی دور میں تعمیر کی گئی ایک زاویہ (خانقاہ) جس میں ایک چھوٹی مسجد بھی ہے، اب بھی “زاویہ الافغانیہ” کے نام سے موجود ہے، اور اس کے متولی آج بھی اپنے ناموں کے ساتھ “الافغانی” لگاتے ہیں۔

صہیونیوں کو ان لوگوں سے اس قدر نفرت ہے کہ 24 دسمبر 2016ء کو انہوں نے عائشہ الافغانی نامی 34 سالہ خاتون کو صرف اس جرم میں 15 سال قید کی سزا سنائی کہ اس کے پاس چاقو پایا گیا تھا۔

حطین کی جنگ میں افغانوں کی شرکت کے بارے میں زیادہ تر روایات زبانی ہیں۔ چونکہ صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ نے بیت المقدس کی آزادی کے لیے تمام مسلمانوں میں نفیرِ عام کی تھی، اس لیے شواہد کی روشنی میں ان جنگوں میں افغانوں کی شرکت یقینی معلوم ہوتی ہے۔ آج بھی اگر کوئی فلسطین جائے تو فلسطینیوں کی زبانی اس کی تصدیق سن سکتا ہے۔ اگرچہ اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں، لیکن یہاں بطور نمونہ ایک ہی مثال پیش کی جاتی ہے:

محمد عزیزی نامی ایک افغان نژاد برطانوی کے یادداشتوں میں آتا ہے کہ جب وہ 2017 میں برطانیہ سے برطانوی اور امریکی مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کا دورہ کرنے گئے، تو وہاں حطین کی جنگ میں افغانوں کے کردار کی وجہ سے انہیں اپنے ساتھیوں کی نسبت زیادہ عزت دی گئی، اور ان جنگوں کی کہانیاں انہیں سنائی گئیں۔ ان کے یہ یادداشتیں سوشل میڈیا پر بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔

ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ افغانوں کے شام (یعنی وہ علاقے جن میں موجودہ شام، اردن، لبنان، فلسطین، قبرص، ترکی کے بعض جنوبی علاقے اور مصر کا مشرقی حصہ شامل ہیں) اور دیگر خطوں میں درخشاں کارنامے موجود ہیں، جن پر اب تک مستقل تحقیق نہیں کی گئی۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مختلف معتبر ذرائع سے ان معلومات کو جمع کر کے ان پر تحقیق کی جائے، تاکہ آئندہ کسی کو یہ سوال پیدا نہ ہو کہ ہمیں ان واقعات کو کیوں پڑھنا چاہیے۔

کیونکہ اس طرح ہم امت مسلمہ کے ساتھ اپنے تعلقات کی تاریخ سے بھی آگاہ ہوں گے، بعض ردعمل اور دشمنیوں کے اسباب کو بھی سمجھ سکیں گے، اور خود شناسی و مسائل کے حل کے لیے بھی ایک نیا باب کھلے گا۔ اس لیے کہ اگر موجودہ حالات اور واقعات کو محدود نہیں بلکہ وسیع اور گہری نظر سے دیکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ حالات ایک زنجیر کی کڑیوں کی طرح ماضی کے بہت سے تاریخی واقعات سے جڑے ہوئے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ مزید پھیلتے گئے ہیں اور نئے پہلو پیدا کر رہے ہیں۔

Exit mobile version