شام کی وزارت داخلہ نے بیان دیا ہے کہ دارالحکومت دمشق میں داعشیوں کے ٹھکانوں پر آپریشنز کے دوران دو داعشیوں کو ہلاک اور چھ دیگر کو زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
نئی حکومت کی وزارت داخلہ نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ یہ کارروائیاں گزشتہ روز پیر (23 جون/26 ذوالحجہ) کو دمشق کے حرستا اور کفربطنا علاقوں میں ان گھروں پر کی گئیں جہاں داعشی چھپے ہوئے تھے۔
اعلامیہ کے مطابق، کارروائی کے نتیجے میں داعشیوں کے ایک نیٹ ورک کے سرغنہ سمیت چھ افراد کو زندہ گرفتار کر لیا گیا جبکہ دو دیگر کو ہلاک کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں ایک وہ شخص بھی شامل تھا جس نے مار الیاس گرجا گھر پر حملہ آور کو داخل کرانے میں براہ راست کردار ادا کیا تھا۔
شامی سیکیورٹی حکام نے مزید بتایا کہ ان ٹھکانوں سے ایک خودکش جیکٹ, موٹرسائیکل، بارودی سرنگیں، دھماکہ خیز مواد، ہتھیار اور دیگر گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ شامی سیکیورٹی فورسز نے دمشق میں داعشی خوارج کے ٹھکانوں پر یہ آپریشنز اس وقت کیے جب اتوار کے روز مار الیاس نامی گرجا گھر میں ایک شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور درجنوں افراد کو ہلاک و زخمی کر دیا۔ اس کارروائی کی ذمہ داری براہ راست داعشیوں نے قبول نہیں کی، لیکن سرایا انصار السنہ نامی ایک نئی بننے والی گروہ نے کہا کہ یہ حملہ انہوں نے کیا۔ اس گروہ نے داعشی خوارج کے منہج اور اعمال کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے خوارج کے ساتھ براہ راست تعلقات ہیں۔

