Site icon المرصاد

شرعی اصولوں کی روشنی میں متوازن خارجہ پالیسی

حال ہی میں افغانستان اور روس کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی تعاون کا ایک معاہدہ طے پایا ہے۔ اس معاہدے کو دونوں فریقوں نے سکیورٹی اور تکنیکی تعاون کے فروغ کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ امارت اسلامیہ افغانستان کے مطابق یہ معاہدہ افغانستان کی سکیورٹی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور اسے کسی دوسرے ملک کے خلاف ترتیب نہیں دیا گیا۔

اسلامی شریعت مسلمانوں کو یہ ہدایت دیتی ہے کہ وہ دیگر اقوام اور حکومتوں کے ساتھ عدل، حکمت اور متوازن تعلقات کی پالیسی اختیار کریں۔ اسی اصول کی بنیاد پر امارت اسلامیہ اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن تعامل، باہمی احترام اور قومی مفادات کے مطابق آگے بڑھا رہی ہے۔ افغانستان نہ کسی عالمی بلاک کا حصہ ہے اور نہ ہی یہ چاہتا ہے کہ وہ دیگر ممالک کے مابین مسابقت اور کشمکش کا میدان بنے، بلکہ وہ روس، چین، عالمِ اسلام کے ممالک اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ باہمی مفادات اور احترام کی بنیاد پر تعلقات کا خواہاں ہے۔

امارت اسلامیہ کا مؤقف یہ ہے کہ افغانستان ہر اُس ملک کے ساتھ اقتصادی، سیاسی، سکیورٹی اور تجارتی تعاون کے لیے تیار ہے جو افغانستان کی خودمختاری، اسلامی اقدار اور قومی حاکمیت کا احترام کرتا ہو۔ یہ وہ پالیسی ہے جو اسلامی سیاست کے اصولوں سے بھی ہم آہنگ ہے اور ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

وہ پروپیگنڈا جو افغانستان اور دیگر ممالک کے درمیان جائز تعلقات کو خطرہ یا تهدید کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، خطے کی زمینی حقائق سے ناواقفیت کا مظہر ہے۔ افغانستان جنگوں اور محاذ آرائیوں کے بجائے متوازن تعلقات، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کا خواہاں ہے۔

آج امارت اسلامیہ کی خارجہ پالیسی اس اصول کی ترجمان ہے: "سب کے ساتھ تعامل، مگر شریعت کے دائرے میں، سب کے ساتھ تعلقات، مگر افغانستان کے وقار، خودمختاری اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے ساتھ۔”

یہی متوازن اور خودمختار پالیسی افغانستان کو علاقائی تعاون، اقتصادی ربط اور پائیدار استحکام کی جانب رہنمائی کر سکتی ہے۔

Exit mobile version