Site icon المرصاد

شکست خوردہ جواری کی نفسیات

دنیا کا کوئی بھی سمجھ دار کھلاڑی جب مسلسل ہارنے لگے، اس کے مہرے پِٹ رہے ہوں اور جیب خالی ہو چکی ہو تو وہ کچھ دیر کے لیے رُکتا ہے، اپنی غلطیوں پر غور کرتا اور کھیل کی حکمتِ عملی بدل لیتا ہے… لیکن جوئے کی لت ایک ایسی بدقسمتی ہے، جہاں انسان ہوش و خرد سے عاری ہو جاتا ہے۔

جب ایک شکست کے بوجھ سے دماغی طور پر تھکا ہوا جواری دیکھتا ہے کہ بازی اُس کے ہاتھ سے نکل چکی ہے تو وہ کھیل سے پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید اندھا دھند ہو کر ایک بڑا داؤ لگاتا ہے… اِس لایعنی امید کے ساتھ کہ شاید قسمت کی کوئی ایک چال اس کی پرانی تمام عبرت ناک شکستوں کا حساب برابر کر دے۔

اگر ہم اِس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کی ذہنی و نفسیاتی کیفیت کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو جی ایچ کیو اور اُس کے ماتحت اسلام آباد کے سیاسی حلقوں کی حالت بعینہٖ اُس ہارے ہوئے حواس باختہ جواری جیسی نظر آتی ہے، جو اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اب کشمیر اور افغانستان کے معصوم لوگوں کی زندگیوں پر آخری داؤ لگا رہا ہے۔
اس مہم جوئی کو سمجھنے کے لیے ہمیں ‘بحرانوں کی اُس صنعت’ کو دیکھنا ہوگا، جسے راولپنڈی اور اسلام آباد کے بند کمروں میں دہائیوں سے پالا جا رہا ہے۔
ایک ایسی ریاست کہ جس کی معیشت طویل عرصے سے آئی ایم ایف کے وینٹی لیٹر پر آخری سانسیں لے رہی ہو… جہاں سیاسی عدمِ استحکام کا طوفان تھمنے کا نام نہ لے رہا ہو اور داخلی سکیورٹی کا گراف دن بہ دن پاتال میں گر رہا ہو، وہاں عوام کا بیدار ہونا اور سوال اُٹھانا فطری امر ہے۔
جب عام شہری روٹی، کپڑا، مکان اور اپنے بنیادی آئینی حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنے لگتے ہیں تو اس جواری حاکمِ وقت کا پورا نظام لرز اٹھتا ہے۔

ایسے میں عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے اور ان کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ اپنے جادوئی پٹارے سے ہمیشہ ایک خود ساختہ ‘خارجی خطرہ’ نکال کر ٹی وی اسکرینوں پر چلا دیتی ہے۔
عوام کو ڈرایا جاتا ہے کہ ملک دشمن طاقتیں سرحدوں پر کھڑی ہیں، انڈیا کشمیریوں کو استعمال کر رہا ہے، کشمیری رہنماؤں کے گھروں سے انڈین کرنسی برآمد ہوئی ہے، افغانستان بھی پاکستان میں نظام کی تبدیلی کے لیے پَر تول رہا ہے، یوں پاکستان کی سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے… اس لیے معیشت، جمہوریت اور حقوق کی بات چھوڑو اور فوجی بندوق کو سہارا دینے کے لیے اس کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔

یہ پاکستانی فوج کی جانب سے مظلوم و سادہ لوح عوام کو ذہنی طور پر ہپناٹرم اور ماؤف کرنے کا ایک پرانا اور فرسودہ عسکری حربہ ہے۔
تاہم جب اتنا کچھ حربہ اختیار کرنے کے باوجود کھیل اندرونی طور پر بالکل ہی ہاتھ سے نکل جائے اور تاش کے پتے بکھرنے لگیں تو پھر سرحد پار مہم جوئی کی شکل میں جواری کی آخری چال سامنے آتی ہے۔

خوست، کنڑ اور پکتیکا کے پُرامن دیہاتوں پر گرائے جانے والے بم دراصل پاکستان کے کسی گہرے دفاعی منصوبے کا حصہ نہیں تھے، بلکہ یہ اُس خوف زدہ فوجی نظام کا ایک اضطراری اور اندھا داؤ تھا… جو عالمی شطرنج کی بساط پر جُوا ہارتی پاکستانی فوج کی طرف سے معصوم افغان شہریوں، خواتین اور بچوں کے خون کی آخری بازی لگائی گئی تھی۔

پاکستانی فوج کی جانب سے اس جاراحانہ مہم جوئی کے پیچھے دو بھیانک مقاصد تھے۔
اوّل یہ کہ داخلی سطح پر اس کا مقصد عوام کے اندر دوبارہ وہی مصنوعی قوم پرستانہ جنون اُبھارنا تھا کہ فوج اب بھی سرحدوں کی محافظ ہے۔
جب کہ دوسرا مقصد سات سمندر پار عالمی آقاؤں کو یہ باور کرانا تھا کہ خطے کے سکیورٹی تھیٹر میں پاکستانی فوج اب بھی ایک ‘ناگزیر کھلاڑی اور اتحادی’ ہے، اس لیے مبینہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کھیل سے باہر کرنے کی غلطی نہ کی جائے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ پاکسانی فوج کی جانب سے افغانستان و ہندوستان کے ساتھ جو دائمی کشیدگی اور دشمنی کا ماحول بنا کر رکھا گیا ہے… وہ کوئی جغرافیائی مجبوری، قدرتی امر یا سیاسی دور اندیشی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی ‘فوجی ضرورت’ ہے۔

ذرا سوچیے ک اگر کل کو سرحدوں پر مستقل امن قائم ہو جائے، افغانستان و ہندوستان کے ساتھ تجارت کے دروازے کھل جائیں اور تعلقات معمول پر آ جائیں تو پھر اتنی بڑی فوج، اس خطیر دفاعی بجٹ اور اس جابرانہ سکیورٹی ریاست کے پورے ڈھانچے کا جواز ہی کیا رہ جائے گا؟

لہذا فوجی ذہنیت کے مطابق اس شاہانہ عسکری نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مستقل اور خوف ناک دشمن کا اسکرین پر چمکتے رہنا لازمی ہے، چاہے اس خوف کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے ہی عوام کی معیشت کا گلا گھونٹنا پڑے یا پڑوسی کلمہ گو مسلمانوں کی جانوں کا سودا کرنا پڑے…!
ایک پیشہ ور عسکری قوت اور ایک عام جواری میں یہی بنیادی فرق ہوتا ہے۔

ایک سچی فوج اصولوں، اخلاقیات اور خالص دفاع کے لیے لڑتی ہے، جب کہ ایک جواری صرف اپنی ہوس اور اقتدار کی بقا کے لیے مُہرے ہلاتا ہے۔
جب کوئی فوج دفاعی حکمتِ عملی کو ایک طرف رکھ کر تاش کے پتوں اور جوئے کے مہروں کی طرح بے گناہ انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگے تو وہ میدانِ جنگ سے پہلے اپنے ہی ضمیر کی عدالت میں اخلاقی اور تزویراتی جنگ ہار چکی ہوتی ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کی یہ حالیہ پالیسیاں کسی طاقت وَر اور مستحکم ریاست کی علامات ہرگز نہیں ہیں… یہ تو ایک ایسے جابر، خوف زدہ اور حواس باختہ نظام کی آخری ہچکیاں ہیں… جو بساط اُلٹنے کے خوف سے اب معصوموں کے خون کا جُوآ کھیلنے پر اُتر آیا ہے۔

Exit mobile version