تاریخ میں بعض افراد کی موت صرف ایک انسان کے رخصت ہونے کا واقعہ نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے عہد کے ایک عظیم تضاد کی علامت بن کر اُبھرتی ہیں۔ خلیل الرحمن حقّانی—جو ایک زمانے میں عالمی قوتوں کے تعاقب میں تھے اور جن کے سر پر لاکھوں ڈالر کا انعام رکھا گیا تھا—بالآخر اُن لوگوں کے ہاتھوں شہید ہوئے جو دینِ اسلام کی آڑ میں اپنی تلواریں مسلمانوں ہی کے سینوں میں پیوست کرتے ہیں۔ یہ وہ پستی ہے جسے تاریخ غداری کا سیاہ ترین باب قرار دیتی ہے۔
وہ ہاتھ جو مسلمان پر اٹھتا ہے، پہلے اپنے ایمان کی بینائی چھین لیتا ہے، پھر اُمت کے وجود کی رگیں کاٹ ڈالتا ہے۔ داعشی گروہ جو اپنے آپ کو دین سے منسوب کرتے ہیں، اُمت کے ایک زخم پر دوسرا زخم لگا گئے۔ جو کام دشمن کئی دہائیوں کی جنگوں میں نہ کرسکا، انہوں نے ایک لمحے کی گمراہی میں کر ڈالا۔ یہ نہ جہاد تھا، نہ شجاعت؛ بلکہ اُس صراطِ مستقیم سے کھلا انحراف تھا جس میں اللہ عزوجل نے بے گناہ انسان کے قتل کو عظیم ترین گناہ قرار دیا ہے۔ مسلمان مجاہد کا قتل چاہے جس نام یا پرچم کے سائے تلے ہو بدترین خیانت ہے۔
آئیے اب اُن داعشی خوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے اُس بہادر مجاہد اور مردِ میدان کی زندگی کی طرف آتے ہیں، جو آگ اور جنگ کی بھٹیوں سے گزر کر نکلا تھا۔ پیدائش سے لے کر شہادت تک اُس کے باوقار سفر کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
۱۔ پیدائش اور تعلیم
شہید خلیل الرحمن حقّانی، خواجہ محمد کے صاحبزادے اور علی بادشاہ کے پوتے تھے۔ تقریباً انہتر (۶۹) سال قبل پکتیا صوبے کے ضلع گردی سیڑھی کے کاریزگی علاقے کے عوض خیل گاؤں(جو ان کے ننہیال کا گاؤں تھا) میں مرحوم خواجہ محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ نسل کے اعتبار سے وہ پختون، پختونوں میں زدران، اور زدران قبیلے میں میزائی سلطان خیل سے تعلق رکھتے تھے۔
انہوں نے رسمی طور پر نہ کسی اسکول یا کالج میں تعلیم حاصل کی اور نہ ہی کسی مدرسے میں باقاعدہ درسِ نظامی پڑھا؛ البتہ غیر رسمی طور پر انہوں نے مہد سے لے کر اپنی لحد تک علم کے حصول کی راہ میں مشقتیں، ہجرتیں اور مسلسل سفر برداشت کیے۔ بچپن ہی سے انہوں نے جدوجہد، قربانی، صبر اور حوصلے کا دامن تھامے رکھا۔
پانچ برس کی عمر میں اپنی والدہ سے قرآنِ کریم کی تعلیم کا آغاز کیا، اور ابتدائی دینی کتابیں مسجد کے امام صاحب سے پڑھ کر مکمل کیں۔ پھر گردی سیڑھی کے کاریزگی گاؤں کے عوض خیل علاقے میں مولوی محمد عمر سے مزید تعلیم حاصل کرنے لگے۔
اپنے بڑے بھائی مولوی جلال الدین حقّانی رحمہ اللہ سے تیسرے درجے تک کے دینی اسباق پڑھے، اور بعد ازاں جب وہ ہجرت کر کے پختونخوا پہنچے تو وہاں اپنی تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھایا۔ اسی دوران مجاہدین کے زخمیوں کے علاج کی غرض سے طبّی شعبے میں مختصر مدت کی تربیت بھی حاصل کی۔ لیکن جیسے ہی وطن پر سوویت قبضے کا آغاز ہوا، انہوں نے اپنا پورا ذہن اور ساری فکر مسلح جہاد اور دشمن کے مقابلے کے لیے وقف کردی۔ یہی وہ وقت تھا جب ان کی رسمی تعلیم کا سلسلہ رک گیا۔
تاہم، انہوں نے زندگی کے ہر شعبے کو تعلیم ہی کی نیت سے دیکھا اور تجربے سے سیکھا۔ انہی تجربات نے انہیں ایسا قومی شعور، عوامی بصیرت اور ملی و سیاسی فہم عطا کی جو کئی اعلیٰ ڈگریوں کے حامل افراد میں بھی کم یاب ہے۔
کتاب «لوی مصلح ستر غازي» کے مصنف کے الفاظ میں: حاجی خلیل نے اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کی تھی، مگر فریقین کے درمیان مہلک دشمنی کے معاملے میں ان کا ذہن سیاسی اور فطری بصیرت سے روشن تھا، اسی لیے افغان–سوویت جنگ کے دوران وہ مخالف اہلکاروں کو طعنے نہیں دیتا تھا، بلکہ کہا کرتا تھا: "تم بدی کو بھی نہیں سمجھتے!” حاجی خلیل الرحمن حقانی ملکی زبانوں (پشتو اور دری) میں روانی سے بات چیت کرتا، اردو بول سکتا تھا، اور عربی زبان میں افہام و تفہیم کر سکتا تھا۔
۲۔ سیاسی جدوجہد اور جہادی پس منظر
حاجی خلیل الرحمن حقانی کی جہادی روح، جوش، بہادری اور دشمن پر غالب آنے کی صلاحیت، اپنے آباؤ واجداد کے جہادی کارناموں سے ماخوذ ہے اور انہی سے ان کی آبیاری ہوئی۔ ان کے بزرگوں نے انگریزوں کے خلاف پکتیا کے زرمت اور لوگر میں اپنی جانیں نچھاور کیں، سخت لڑائیوں کے بعد انگریزوں کو شکست دی اور سب سے بڑھ کر قربانی کے عہد پر قائم رہے۔ ان جنگوں میں حاصل ہونے والے غنائم بھی ملے تھے، جنہیں ان کے بڑے بھائی مولوی جلال الدین حقانی رحمہ اللہ نے بعد میں سویت فوجوں کے خلاف جہاد میں استعمال کیا۔
داؤد خان کے تختہ الٹنے کے بعد، جب کچھ کمیونسٹ اہم عہدوں پر فائز ہوئے اور اسلام پسندوں پر مظالم شروع کیے، تو بڑے بھائیوں مولوی جلال الدین حقانی اور حاجی محمد ابراہیم حقانی کی قیادت میں، پکتیا کے علماء، قومی سرداروں اور معززین نے بڑے اجلاس منعقد کیے اور کمیونسٹوں کے خلاف سیاسی و جہادی اقدامات شروع کیے۔
کمیونسٹ عناصر نے بڑے بھائیوں کے قتل کی کوشش کی، مگر یہ ناکام رہی اور چھاپے کے دوران ایک خاص حکمت عملی اور عوام کے تعاون کی بدولت وہ محفوظ علاقے تک منتقل کر دیے گئے۔ ان کا خاندان شمل درې اور گروبی پہاڑ کی جانب پناہ گزین ہوا، مگر کمیونسٹوں نے وہاں بھی ان کی زندگی مشکل کر دی اور پندرہ روزہ محاصرے کے بعد وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔
الحاج خلیل الرحمن حقانی اپنے خاندان کے ہمراہ پانچ روزہ پیدل سفر کے بعد، سن ۱۳۵۴ ہجری شمسی میں پشتونخوا، شمالی وزیرستان کے داتا خیل علاقے سے میران شاہ تک ہجرت کر گئے۔ انہوں نے اپنے خاندان کے افراد، خصوصاً مولوی جلال الدین حقانی کے ساتھ مل کر، کمیونسٹوں اور سوویت یونین کے خلاف جہادی محاذوں کو اس شدت سے گرم رکھا کہ دوستوں کے بقول: سب سے سخت جنگ کے وقت بھی حقانی صاحب کی آواز سنائی دیتی تھی۔
امریکہ اور نیٹو کے خلاف بے مثال جہادی جدوجہد کے دوران وہ لشکر کے سربراہ رہے، اور اسی جدوجہد کے دوران ۲۰۰۳ء، ۱۵ دسمبر کو امریکی اور پاکستانی افواج کے مشترکہ آپریشنز میں گرفتار ہو گئے۔ بعد ازاں ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کو قتل کرنے کے لیے بم نصب کیاتھا؛ مگر تقریباً چار سال طویل اذیت ناک قید کے بعد رہا ہوئے، پھر دوسری بار پشاور میں تقریباً ایک ماہ تک قید میں رہے۔
سن ۲۰۰۹ء میں اقوام متحدہ نے انہیں اپنی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی تجویز دی، اور ۹ فروری ۲۰۱۱ء کو امریکی وزارت خزانہ کے حکم نمبر ۱۳۲۲۴ کے تحت انہیں بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا اور ان کے سر پر پانچ ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا گیا۔ مگر شہید حقانی نے اس کی پرواہ کیے بغیر امریکی جارحیت کے خلاف اپنی جہادی سرگرمیاں جاری رکھیں، یہاں تک کہ آخر کار امریکہ کا آخری فوجی افغانستان سے نکال دیا گیا۔
حاجی خلیل الرحمن حقانی کی بہادری اور کامیابیوں کی بے شمار داستانیں ان کے محاذ کے ساتھیوں کے دلوں میں زندہ ہیں، جہاں شکست کی کوئی مثال نظر نہیں آتی۔
۳۔ جرگوں اور مذاکرات میں حصہ
شہید حاجی خلیل الرحمن حقانی نے اپنی عوامی بصیرت، قبائلی فہم اور مسائل کے حل میں اپنے خاندان کے بزرگوں سے اتنی تعلیم اور تجربہ حاصل کیا کہ کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ان کے برابر بھی نہ پہنچ سکے۔ ان کے نانا ایک قومی سردار تھے، اور ان کے انتقال کے بعد قیادت کی پگڑی ان کے چاچا (گل محمد خان) کے سر پہنائی گئی۔
انہوں نے مصلح اعظم ، غازی اکبر مولوی جلال الدین حقانی رحمہ اللہ کے ساتھ جرگوں اور مذاکرات میں مستقل شرکت کی اور عوامی و قبائلی اختلافات کے حل میں اپنی تمام توانائیاں صرف کیں۔ وہ نہ صرف صوبہ پکتیا میں قبائلی تنازعات کے حل میں فعال کردار ادا کرتے رہے، بلکہ ملکی مسائل کے حل میں بھی پیش پیش اور متحرک رہے۔
حاجی خلیل الرحمن حقانی نے خانہ جنگیوں کے دوران حقانی صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ مل کر مختلف فریقوں کے درمیان صلح و مصالحت کی ناقابل فراموش کوششیں کیں اور ہر محاذ پر خیر کے بیج بوئے۔ جو بھی جرگوں اور مذاکرات کی بات کرتا ہے، یا اس میدان میں مصلح کے طور پر قدم رکھتا ہے، وہ بلا شبہ شہید خلیل الرحمن حقانی کے کارناموں اور تجربات سے روشنی حاصل کرتا ہے۔
۴۔ صفات اور مہارتیں
شہید حاجی خلیل الرحمن حقانی تقویٰ، صبر، تحمل اور بہادری کے مالک تھے۔ ان کی شخصیت میں نرم دلی اور سخت گیری کا بے مثال امتزاج دیکھا جاتا تھا۔ وہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے ہمیشہ پرجوش رہتے، اور ان کے الفاظ ہمیشہ صاف اور سیدھے ہوتے۔ عسکری امور میں وہ نہایت تجربہ کار اور پیش پیش رہنے والے رہنما تھے۔
سوویت حملے کے دوران ان کی جنگی مہارت اور دلیری کے بارے میں مصری مصنف و صحافی مصطفی حامد، جس نے اس وقت شہید حقانی کو قریب سے دیکھا، اپنی کتاب »د نړۍ پربام «میں لکھتے ہیں:
’’خلیل الرحمن حقانی ٹینک کے ذریعے نشانہ لگانے میں بے مثال ماہر اور دشمن کی صف اول توڑنے والا بہادر مجاہد تھا۔ نہ صرف وہ ٹینک چلانے میں مہارت رکھتا تھا بلکہ اس کی تکنیکی تعمیر اور ساخت پر بھی عبور رکھتا تھا۔‘‘
الحاج حقانی دل کے صاف، عاجز اور نیک دل انسان تھے، جو یتیموں اور غریبوں کے مددگار تھے۔ وہ اپنا کھانا دوسروں کے ساتھ بانٹتے، اور ضرورت مندوں کو اگر اپنے پاس رقم نہ ہوتی تو قرض لے کر مدد کرتے۔ انتہائی مہربان، بچوں سے محبت کرنے والے اور ان کی حفاظت کرنے والے تھے۔
جرگوں اور مذاکرات میں مہارت رکھنے والے اور امن پسند یہ نامور مجاہد، ملک کے مختلف اقوام کے درمیان اتحاد کے لیے دن رات کوشاں رہے اور جنگوں، دشمنیوں کے شعلوں کو جرگوں کے ذریعے بجھاتے۔
اللہ تعالیٰ نے حاجی خلیل الرحمن حقانی اور ان کے خاندان پر وسیع سینہ، کامل صبر، پختہ عزم اور گہری بصیرت کے ساتھ ایسا بلند ظرف اور بخشش کی صفات عطا فرمائی ہیں کہ ہر کوئی ان کی طرف رشک و احترام کی نظر سے دیکھتا۔ جب حاجی خلیل الرحمن حقانی، حقانی صاحب رحمہ اللہ کی طرح دشمن کے سامنے براہِ راست لڑتے، تو لڑائی کے فوراً بعد وہ دشمن کے لیے رحم اور معافی کی بانہوں کو کھول دیتے اور یقین دلاتے: ’’تم اب محفوظ ہو۔‘‘
اپنے دشمن فوجیوں کو نہ صرف کپڑے اور پیسے دیتے بلکہ خطرناک علاقوں سے اپنے مجاہدین کے ذریعے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کرتے، جس کے نتیجے میں بہت سے افراد ان کے اچھے سلوک کے اثر سےاپنی فیملی کے پاس واپس جانے کے بجائے انہیں کے ساتھ ٹھہرجاتے اور سخت لڑائیوں میں بھی ان کے ساتھ شامل رہتے۔
وہ کبھی بھی کسی ذمہ داری کے دوران کسی کو اپنے دروازے سے ناامید نہیں کرتے تھے۔ جب تک مسئلہ حل نہ ہوتا، اس شخص کے ساتھ ہم قسم کی مدد کرتے، جدوجہد کرتے اور مدد فراہم کرتے۔ زندگی کے آخری ایام میں، اگرچہ وہ مہاجرین کے وزیر تھے، مگر عوام کی خدمت دیوانہ وار کرتے، اپنے دفتر کا دروازہ ہر سطح کے افراد کے لیے کھلا رکھتے اور اس وقت تک گھر نہ جاتے جب تک آخری درخواست پر دستخط نہ کر دیتے۔ حقیقت میں، یہ عوام کا خادم اپنے لوگوں کے درمیان خوش رہتا اور مسائل کے حل سے ہی سکون محسوس کرتا تھا۔
الحاج خلیل الرحمن حقانی کی بہترین صفات یا مہارت میں سے یہ بات سب سے نمایاں تھی کہ وہ نہایت جلد تعلقات قائم کر لیتے تھے، انہیں نبھانا اور مضبوط رکھنا بھی خوب جانتے تھے۔ وہ مخالف فریق کے عسکری اور سیاسی حلقوں میں بھی ایسے روابط قائم کر لیتے تھے کہ دشمن کے اہم منصوبوں کی خبر پہلے ہی پا لیتے اور اس کے مقابلے کے لیے بروقت تیار رہتے۔
امارتِ اسلامیہ کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد، انہوں نے اُس وقت کے قندهار اور موجودہ مزار شریف کے گورنر محترم حاجی وفا کے ساتھ قریبی ہم آہنگی اور بے مثال کوششوں سے یہ کامیابی حاصل کی کہ قندهار سمیت ننگرہار، کنڑ اور کئی دیگر صوبے سابق حکومت کے حکام کے ساتھ منظم رابطوں اور اعتماد سازی کے ذریعے بغیر جنگ و جدال اور خونریزی کے امارتِ اسلامیہ کے سپرد ہو گئے۔ اسی طرح انہوں نے سابق نظام کے اعلیٰ حکام کو مکمل تحفظ کی یقین دہانی کرواتے ہوئے ہر ایک کو اُن کے گھروں تک باعزت پہنچانے کی ذمہ داری بھی خود نبھائی۔
۵۔ ذمہ داریاں
حاجی خلیل الرحمن حقانی نے اپنی جوانی سے زندگی کے آخری لمحے تک بے شمار ذمہ داریاں سنبھالیں، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
• ہجرت کے دوران مجاہدین کی تربیتی اور جہادی پروگراموں کی ذمہ داری اور افغان مہاجرین کے مسائل حل کرنے والی کمیٹی کی قیادت۔ اسی طرح ہجرت کے دوران سیاسی مخالفین اور مصلحین کی کونسل کی ذمہ داری بھی ان کے ذمہ تھیں۔
• شہید سلیمان شاہ زغروال گروپ کے عمومی سربراہ۔
• خوست، پکتیا، پکتیکا، غزنی، لوگر اور جلال آباد میں اپنے مجاہدین کی قیادت۔
• خوست اور پکتیا کی فتوحات میں سات تنظیموں کے عسکری سربراہ۔
• ڈاکٹر نجیب اللہ کے دورِ حکومت میں مجاہدین کی اعلیٰ کونسل کے رکن۔
• خانہ جنگی کے دورا ن مسائل کے حل کے لیے اصلاحی کونسل کے رکن، یہ کونسل اس وقت کی حکومت کے عسکری اور سیاسی امور کی ذمہ دار تھی۔
• صبغت اللہ مجددی سے برہان الدین ربانی تک اقتدار کی منتقلی اور امریکہ کے وزیر دفاع، اس کے وفد کے ساتھ سات تنظیموں کی ملاقات میں اپنی تنظیم کی قیادت۔
• حل و عقد کونسل میں پکتیا کے قبائل کے نمائندے۔
• سوویت قبضے کے خاتمے اور افغان جہاد کی کامیابی کے بعد جہادی رہنماؤں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لیے امام کعبہ کی سربراہی میں قائم کونسل کے رکن۔
• امارت اسلامیہ کے پہلے دور میں جمہوری گارڈ اور خواجہ رواش ہوائی اڈے کا ذمہ دار اور شمالی محاذ کے مجاہدین کا کمانڈر، جو ثور کی بغاوت کے بعد چودہ سالہ جہاد میں بھی ایک محاذ کی قیادت کر چکے تھے۔
• امریکی جارحیت کے دوران ایک مجاہد گروپ کے کمانڈر اور قبضے کے خاتمے کے بعد کابل کے حکام کے ساتھ امن قائم کرنے، عسکری ساز و سامان کی منتقلی اور خونریزی سے بچاؤ کے لیے روابط قائم کرنے والا۔اسی طرح انہوں نے وقتاً فوقتاً مرحوم حقانی صاحب رحمہ اللہ کی ذمہ داری سنبھالی، متعدد سیاسی اور عسکری اجلاسوں میں ان کی نمائندگی کی اور امارتِ اسلامیہ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے ساتھ ساتھ مہاجرین کے امور کے معاون وزیر کے فرائض انجام دیے۔
سن ۱۴۰۲ھ ش میں، جب پاکستان کی طرف سے ہزاروں افغان مہاجرین جبری طور پر افغانستان واپس ملک بدر کیے گئے، تو انہوں نے ان کے لیے ضروری امور کا انتظام کیا اور انہیں ان کے آبائی علاقوں تک پہنچایا۔ اپنی تین سالہ خدمات کے دوران انہوں نے نہ صرف واپس آنے والے افراد کی مدد کی بلکہ مسائل کے حل کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، پاکستان اور ایران کا سفر بھی کیا۔
۶۔ علمی و ثقافتی اقدامات
حاجی خلیل الرحمن حقانی کو کتابوں اور میڈیا سے محبت خاندان سے وراثت میں ملی تھی۔ اگرچہ یہ خاندان زیادہ ثقافتی نہیں تھا، لیکن ثقافت کے پرستار بہت تھے اور جہادی تاریخ کے تحفظ میں سرِ فہرست شمار کیے جاتے تھے۔ ان کی ثقافتی کوششوں کی بدولت، مرحوم مولوی محمد یونس خالص کی قیادت میں «شہداء حزبِ اسلامی کی سوانح» تیار کی گئی، اور امریکی حملے میں شہید ہونے والے متعدد مشہور شخصیات کی جدوجہد اور کارناموں کے خاکے مرتب کیے گئے، جو اپنی یادداشتوں اور تحریروں کے ساتھ شائع کیے جائیں گے۔
ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے خبریں سننا، سیاسی مباحثے دیکھنا، اخبارات اور رسالے پڑھنا، مصنفین کے ساتھ کتابوں کے اشاعت میں مدد کرنا اور بعض کتب خانوں کو ذاتی مالی امداد سے کتابیں عطا کرنا، ان کی ثقافتی نشوونما، شعور کی بیداری اور مضبوط عزم کا مظہر تھا۔ وہ میڈیا کو اپنی سرگرمیوں کی رپورٹس فراہم کرتے، وقتاً فوقتاً خصوصی انٹرویوز دیتے، اور صوبوں کے دوروں کے دوران نہ صرف صحافیوں کو اپنے ساتھ رکھتے بلکہ ان کے ساتھ محبت کا سلوک کرتے، کھانے کے دوران انہیں اپنے دسترخوان پر مدعو کرتے اور باہمی تبادلہ خیال کرتے۔
ہر دور میں خوارج امت کے زخموں کو تازہ کرنے والے رہے ہیں؛ بظاہر دین کا لباس پہنتے ہیں مگر باطن میں تاریکی ہے۔ یہ لوگ قساوتِ قلبی میں اپنی انتہا پر ہیں اور مسلمانوں کے خون کی ان کے ہاں پانی کی ایک بوند کی مانند قدر نہیں۔ علماء نے فرمایا کہ خوارج کی پہچان یہ ہے کہ وہ حق کے نرم پہلو سے بھاگتے ہیں لیکن مسلمانوں کے خلاف تلوار تیز رکھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ امت کے جسم میں وہ خنجر گھونپتے ہیں جو دشمن کے لیے راہ ہموار کرتا ہے اور امت کے بہتریں قائدین کو قتل کرنے میں شریک رہے ہیں۔
۷۔ شہادت
آخرکار، اسلامی امت کی یہ عظیم ہستی، جو امریکی بلیک لسٹ میں شامل تھی؛ با ایمان مجاہد، وہ مجاہد جس کے سر پر لاکھوں ڈالر انعام مقرر تھے، جسے کسی نے دو انقلابوں کے دوران کفار کو نہیں بیچا، لیکن اسلام کے سخت دشمن داعشی خوارج نے اپنے آقاوں کے باقی ماندہ کام مکمل کیا۔ سن ۱۴۰۳ ہجری شمسی، ماہ لِندۍ کی ۲۱ تاریخ کو، شہید الحاج خلیل الرحمن حقانی وزارت مہاجرین کے دفتر میں دوپہر ڈیڑھ بجے داعشی خودکش حملہ آور کے حملے میں شہید ہو گئے۔ (نحسبه کذالک والله حسیبه)
ان کا نماز جنازہ ماہ قوس کی ۲۲ تاریخ، جمعرات کے دن، ان کے آبائی وطن میں انتہائی عقیدت سے ادا کیا گیا اور انہیں زرغون روغه کے نئے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔(اللہ ان کی قبر کو نور سے بھردے)
اے اسلام کی عظیم شہید!
تم کامیاب ہو اور کامیابی کے ساتھ راہ عدم ہوئے، تم نے اسلام کی تاریخ میں اپنے وجود کے خون کے ساتھ بہادری اور عظمت کے کارنامے ثبت کیے، اور تم اُس بشارت کا حصہ بنے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے کہ جو شخص خوارج کو مارے یا خوارج کی طرف سے شہید کیا جائے، اس کے لیے شہادت ایک عظیم نعمت ہے جو نصیب والوں کو ملتی ہے۔ تم نے اپنی زندگی دینِ مقدس اسلام کی حفاظت کے لیے وقف کی تھی، اور تم نہ صرف اب، بلکہ پہلے ہی شہید ہو چکے تھے، اور اس بلند مرتبے کے لیے دنیاوی زندگی گزار رہے تھے۔
اے با سعادت شہید! تم اسی شخص کے ہاتھوں شہادت پا گئے جس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی، کو قرآن کریم کی تلاوت کے دوران شہید کیا اور ان کے خون کو قرآن کے صفحات پر بہایا۔
تم اعلیٰ شہید ہو، ایک ایسے شہید، جس کا مقام بے حد بلند ہے، اے اللہ کی عنایات کے حامل! ہم تمہاری راہ پر گامزن ہیں، تمہارے راستے پر اپنی زندگی اور موت کو قبول کرتے ہیں۔

