شہید شیخ رحیم اللہ حقانی رحمہ اللہ کی شہادت کو تین سال گزر چکے ہیں، ان کی علمی، فکری اور حق کے لیے جدوجہد کی یاد آج بھی ہزاروں دلوں میں زندہ ہے۔ وہ معاصر اسلامی فکر کے ان عظیم علماء میں سے تھے جنہیں دین کے دفاع، علم کے فروغ، اور انتہا پسندی کے خلاف علمی مزاحمت کی ایک مثال سمجھا جاتا تھا۔
شہید شیخ رحیم اللہ حقانی رحمہ اللہ صرف ایک استاد، خطیب یا مصنف ہی نہیں تھے، بلکہ ایک گہری فکر و بصیرت رکھنے والے اور امت کے مسائل کے درد مند تجزیہ کار بھی تھے۔ وہ علم کو دین کی بنیادی بنیاد سمجھتے تھے، اور اسی لیے انہوں نے ان تحریکوں کے خلاف آواز اٹھائی جو علم اور علماء کو دبانے کی کوشش کرتی تھیں۔ اسی وجہ سے داعش گروہ نے شروع سے ہی ان کے کردار، عقیدے اور علمی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کیں، اور بالآخر ایک بزدلانہ حملے کے ذریعے انہیں شہادت کے مقام تک پہنچایا۔
داعشی خوارج، جو خود کو اسلام کا مدافع سمجھتے ہیں، حقیقت میں امت مسلمہ کے فکری بنیادی ڈھانچوں، دینی مراجع اور حقیقی علماء کے خلاف ایک خطرناک تحریک ہیں۔ یہ گروہ ہر اس عالم کو کفر کے الزام میں موردِ الزام ٹھہراتا ہے جو ان کے انتہا پسندانہ اور تشدد آمیز رویوں کی مخالفت کرے۔ انہوں نے امت میں تفرقہ، تشدد اور جہالت کو فروغ دینے کے لیے علم، اجماع اور تاریخ سے دشمنی کا اعلان کیا ہے۔
داعشی فکر کا خطرہ صرف ظاہری تشدد تک محدود نہیں، بلکہ اس کی فکری شکل بھی ہے جو دین کے نام پر وحشت، تکفیر اور تنہائی کا ایک فلسفہ پھیلاتی ہے۔ یہ فلسفہ نہ صرف مسلمانوں کے درمیان فاصلے بڑھاتا ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے معرفتی ڈھانچوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اسی لیے شہید حقانی جیسے علماء فکری مزاحمت کی پہلی صف ہیں جو ان تباہ کن نظریات کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔
شہید رحیم اللہ حقانی رحمہ اللہ کا موقف صرف افغانستان کی سرحدوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ ایک عالمی اسلامی آواز تھے جن کا احترام ہندوستان، پاکستان، مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں کے دینی حلقوں میں بھی تھا۔ ان کے فکری پیغام کا اثر مدارس، یونیورسٹیوں اور دینی جلسوں کے منبروں پر واضح تھا، اور اسی پیغام کی وجہ سے عالمی تکفیری حلقوں نے انہیں اپنا خطرناک مخالف سمجھا۔
آج جب دنیا دین کے نام پر افراط اور تفریط سے دوچار ہے، شہید رحیم اللہ حقانی رحمہ اللہ جیسے اعتدال پسند علماء ایک متوازن اسلامی فکر، اصولوں کے دفاع اور امت کے اتحاد کے لیے ناگزیر اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ایسی آوازیں خاموش ہو جائیں تو امت جہالت اور خونریزی کے دریا میں گر جائے گی۔ اس لیے شہید حقانی رحمہ اللہ کے فکری ورثے کو محفوظ کرنا، اس کی حفاظت کرنا اور آنے والی نسلوں کو اس پر تربیت دینا ضروری ہے۔
شہید شیخ رحیم اللہ حقانی رحمہ اللہ نے اپنی گہری خطابت، تجزیاتی تحریروں اور علمی موقف کے ذریعے امت کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دین کے معتدل فہم، اجتہاد کی ضرورت، اور علماء کے کردار کے دفاع پر گہرا زور دیا۔ ان کے واضح موقف، خصوصاً داعش کے خلاف صراحت نے یہ ظاہر کیا کہ علمی روشنی ہمیشہ جہالت کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کر سکتی ہے۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ علم کی روشنی کو تاریک افکار کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ابنِ ملجم کے فکری پیروکار ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وارثوں کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ روشنی کبھی نہیں مرتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث اس کا بہترین پیغام ہے:
"من أهان عالما فقد أهانني، ومن أهانني فقد أهان الله”
ترجمہ: جس نے کسی عالم کی توہین کی اس نے میری توہین کی، اور جس نے میری توہین کی اس نے اللہ تعالیٰ کی توہین کی۔
شہید شیخ رحیم اللہ حقانی رحمہ اللہ کی شہادت علم، عقل اور حق کے تحفظ کے لیے ایک قربانی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی علم کے فروغ، انتہا پسندی کے خلاف مزاحمت اور امت کو بیدار کرنے کے لیے وقف کی تھی۔ آج ان کی شہادت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ علماء کے ساتھ کھڑے ہوں، تشدد کے سامنے ہتھیار نہ ڈالیں، اور اسلامی امت کے فکری استقلال کا دفاع کریں۔
آخر میں، ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ شہید رحیم اللہ حقانی کو بلند درجات عطا فرمائے اور ہماری نسل کو یہ توفیق دے کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلیں۔

