ایمان کی روشن مشعل، بہادری کی مثال، نبوی اخلاق سے مزین انسان، راہِ شہادت کا راہرو، شہید سعید، محمد نعمان غزنوی – اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے – شیخ عبدالاحد جواد ’’غزنوی‘‘ کے بیٹے اور فتح القدیر ’’صاحبزادہ‘‘ کے نواسے، سن ۱۳۷۶ ہجری شمسی میں افغانستان کے صوبے غزنی، ضلع آب بند، گاؤں اٹک میں ایک علمی اور جہادی خاندان میں اس فانی دنیا میں آنکھ کھولی۔
ابتدائی تعلیم:
سعید شہید غزنوی نے بچپن سے ہی دینی تعلیم کا انتخاب کیا۔ انہوں نے اپنے گاؤں کے امام مسجد کی نگرانی میں ابتدائی عقیدے اور دینی تعلیم حاصل کی۔ قرآن کی آیات کی تلاوت، نماز کے ابتدائی اسباق اور ایمان کے بنیادی اصول انہوں نے دل و دماغ میں سمو لیے، اور یہی جگہ ان کی زندگی کی مشعلِ راہ بن گئی۔ یہ ابتدائی تعلیم نہ صرف ان کے لیے علم کے دروازے کھولنے کا سبب بنی، بلکہ اخلاص، تقویٰ اور نبوی اخلاق کے راستے پر چلنے کا حوصلہ بھی دیا، اور اس طرح انہوں نے جہاد و قربانی کے راستے میں ایک مضبوط مجاہد کی شکل اختیار کی۔
ابتدائی جدید تعلیم بھی انہوں نے بیرون ملک، پشاور میں حاصل کی؛ وہیں وطن سے محبت اور مستقبل کی امید دل میں پروان چڑھی۔ وطن کی آزادی کے بعد، جب امید کی بادِ صبا ملک میں چلنے لگی، تو دارالحکومت کے مشعل یونیورسٹی کے شعبۂ اقتصاد کے دروازے ان کے لیے کھول دیے گئے۔ آخری سمسٹر تک پہنچے، قلم ابھی ہاتھ میں تھا اور خواب ابھی ادھورے تھے، مگر تقدیر کی لکیر ان کے آرمانوں سے آگے نکل گئی…
ان کا سفرِ علم شہادت کے حصول کے بعد ہے ختم ہوا۔ وہ شہید ہو گئے، لیکن ان کے ادھورے اسباق کے ہر صفحہ آج قربانی، عظمت اور ہمیشہ زندہ رہنے والے کردار کی گواہی دے رہا ہے۔ دینی تعلیم کے شعبے میں انہوں نے درجہ سابعہ تک گرین ولیج میں اخلاص اور پابندی کے ساتھ پڑھا، وہاں علم کے ساتھ ساتھ اخلاق، تقویٰ اور نظم کے بنیادی اصول مزید مضبوط ہوئے، جو بعد میں زندگی کے ہر مرحلے میں نمایاں طور پر اثر انداز ہوتے رہے۔
جہادی سرگرمیاں:
محمد نعمان امت کے ان خاموش ابطال میں شامل تھے، جنہوں نے عقیدے کی آواز کو عمل کی زبان سے ادا کیا۔ جہادی جدوجہد کے راستے میں انہوں نے فعال کردار ادا کیا اور آزمائش بھرے مراحل کو کھلے دل سے قبول کیا۔ قندوز میں، شیخ عبدالسلام بریالی کے ساتھ، انہوں نے جہاد کے گرم محاذوں کی طرف قدم بڑھایا؛ وہاں ایمان اور بیدار ضمیر کی طاقت، بارود کی خوشبو کے ساتھ ہر قدم کو قربانی کی معنویت عطا کرتی تھی۔
یہ جہادی سفر آسان نہ تھا؛ اس کے ساتھ سخت مشکلات، تلخ لمحات، زخم اور درد بھی شامل تھے۔ وہ اس جدوجہد کے دوران گرفتار بھی ہوئے، مگر اللہ عزوجل کی خصوصی نصرت اور فضل سے دوبارہ آزاد ہو گئے؛ قید نے ان کے ارادے کو کمزور نہ کیا، بلکہ ان کے عزم کو اور بھی پختہ کر دیا۔
بعد میں وہ کنڑ بھی گئے، جہاں انہوں نے جہادی سرگرمیوں کی تنظیم اور ترتیب کے کام سرانجام دیے۔ شیخ زر محمد حقانی کی رہنمائی میں انہوں نے جدوجہد کا آغاز کیا، اور ہمعمر ساتھیوں کے ساتھ مکمل صبر و تحمل کے ساتھ جہاد کے گرم محاذوں کی طرف قدم بڑھایا، دشمن کے سامنے ہر ممکنہ جدوجہد سے پیچھے نہ ہٹے۔ اسی طرح تگاب میں، قاری فرید کے ساتھ، انہوں نے اسلام کے سخت ترین دشمنوں کے خلاف جہاد کیا۔
محمد نعمان کی کہانی صرف ہتھیاروں کی گونج اور میدان جنگ تک محدود نہیں؛ یہ نیت، استقامت اور وفاداری کی کہانی ہے، امت کے ایک حقیقی ہیرو کی کہانی ہے، جو وقت کے مشکل حالات میں مضبوط کھڑا رہا، آزمایا گیا مگر کبھی شکست نہ کھائی۔ فتح سے پہلے کنڑ ولایت کے ذمہ دار (گورنر) مولوی زر محمد حقانی نے شہید غزنوی کے بارے میں یوں فرمایا:
’’سن ۲۰۱۷ء میں، جب میں امارتِ اسلامی کی جانب سے صوبہ کنڑ کا ذمہ دار (گورنر) تھا، شہید محمد نعمان ہمارے ساتھ تھے اور صوبہ کنڑ کے جہادی محاذوں کے سفر میں ہمارے ساتھ شامل ہوا۔ پہلے دن سے ہی میں اس کی ہوشیاری، تقویٰ، بلند اخلاق اور بے ریا اخلاص سے کافی متاثر ہوا۔ انہی خصوصیات کی بنیاد پر میں نے اسے انتظامی اور امامت کی ذمہ داری سونپی، اور اس نے مجھ سے دینی کتابوں کی تعلیم حاصل کرنا بھی شروع کی۔‘‘
صوبہ کنڑ کے اسفار آسان نہیں تھے؛ راستے سخت پہاڑوں، گہری وادیوں اور خطرناک نالوں سے گزرتے تھے۔ جب ہم بہت تھک جاتے تو سفر کا بوجھ اور ہتھیار زمین پر رکھ دیتے اور نشتر کے بلند درختوں کے سایے میں آرام کرتے۔ انہی لمحوں میں تمام تھکن اور درد ختم ہو جاتے؛ کیونکہ شہید نعمان اپنی خوش آہنگی کے ساتھ جہادی نظمیں، نعتیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت مبارک کے اشعار پڑھتے۔ دل تازہ ہو جاتے، روح و جسم کو سکون ملتا، اور تھکن ختم ہوجاتی۔
وہ اتنے بااخلاق اور مہربان تھے کہ مجھے کسی بھی تکلیف سہنے کی اجازت نہ دیتے؛ حتیٰ کہ اپنے ہتھیار کے ساتھ میری بندوق بھی کندھے پر اٹھا لیتے۔ یہ سفر خطرات سے بھرے تھے؛ زمین پر داعش کے کمین اور بارودی سرنگوں کا خوف، اور فضا میں ڈرونز کا خطرہ موجود تھا۔ مگر نعمان کی شجاعت اور بلند اخلاق ایسے تھے کہ نہ خوف اور نہ دشمنوں کی سازشیں ان کی شجاعت میں کمی لا سکتی تھیں۔
مجلس میں وہ زیادہ تر خاموش رہنا پسند کرتے، مگر بعد میں مجلس کے مقصد اور مجاہدین کی باتیں بڑی حکمت اور بروقت ہم تک پہنچاتے۔
جب مدرسے کی چھٹیاں ختم ہوئیں اور تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تو بڑی حیاء اور ادب کے ساتھ کہا:
’’محترم! میرے والد آپ کے لیے پیغام چھوڑ گئے ہیں۔‘‘
والد صاحب کا پیغام یہ تھا:
’’جہاد ہمارا فریضہ ہے، مگر بیٹے کی تعلیمی سلسلہ شروع ہونے والا ہے؛ اگر جہادی کام کو نقصان نہ پہنچے اور اجازت ہو تو چھٹیوں میں واپس آجائے گا۔‘‘
میں نے اجازت دے دی۔
بعد میں جب دوبارہ شہید نعمان سے ملا، مسکراتے ہوئے کہا:
’’والد نے مجھ سے سوالات کیے، میں نے نحو کے اصولوں کے مطابق جواب دیے۔ والد حیران ہوئے کہ یہ سبق کہاں سے سیکھے؟ میں نے انہیں بتایا: صوبہ کنڑ کے سفر کے دوران۔‘‘
فتح کے بعد بھی ہمارا رابطہ قائم رہا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بلند اخلاق سب سے بڑی دولت تھی۔ آج جب وہ شہداء کے قافلے میں شامل ہیں، میں ان کے فراق کو سگے بھائی کی طرح محسوس کرتا ہوں؛ مگر مجھے فخر ہے کہ انہوں نے اسلامی نظام کی خدمت میں محترم وثیق صاحب کے ساتھ فعال کردار ادا کیا۔ وہ ہمیشہ وثیق صاحب کے پیغامات امانت اور دیانت کے ساتھ ہمیں پہنچاتے۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اسے مقبول شہادت کے اعلی درجات عطا فرمائے، اس کے اہل خانہ اور دوستوں کو صبر جمیل نصیب کرے، اور عظیم اجر دے۔
ذمہ داریاں:
۱۔ جہادی محاذوں میں فعال مجاہد۔
٢۔ فتح سے پہلے صوبہ کنڑ کے والی کے انتظامی ذمہ دار۔
٣۔ دو سال تک ۰۷۰۰ ریاست کے انٹیلی جنس دفتر کے مسؤول رہے۔
٤۔ دو سال حساس ادارے کے جنرل چیف وثیق صاحب کے سکریٹری۔
شہادت:
نعمان اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایسے تھے کہ ہم نے کبھی فراق یا جدائی کا سوچا تک نہیں تھا۔ وہ وثیق صاحب کے ساتھ امیر المؤمنین شیخ صاحب کی زیارت کے لیے صوبہ قندهار سفر پر گئے؛ یہ سفر دل کی سکونت، دعا اور اپنے امیر کے ساتھ راز و نیاز کا سفر تھا۔ بدھ کی رات واپس کابل آئے، اور جمعرات کا دن اپنے اہلخانہ کے ساتھ خوشیوں کے ساتھ گزارا؛ ماموں زاد کی شادی کے موقع پر پوری فیملی کے ساتھ شادی کی محفل میں شریک ہوئے۔
جمعے کی رات اور دن اپنے رشتہ داروں کے درمیان شادی کی خوشیوں میں گزارا۔ ہفتہ کی رات اپنے اہلخانہ کے ساتھ واپس آئے؛ وہ گھر جو امن، محبت اور خوشیوں کا گہوارہ تھا۔ ہفتے کی صبح، جب سورج کی کرنیں پورے گھر میں پھیلنے والی تھیں، گھر کے پانی گرم کرنے والے گیزر میں تکنیکی خرابی اور گیس کے اخراج سے اچانک دھماکہ ہوا، اور لمحے بھر میں سب کچھ تباہ ہو گیا؛ گھر میں آگ، چیخیں، دھواں، خون اور درد سے بھری آہیں قیامت سے سخت منظر پیش کررہی تھیں۔
بچے زخمی ہوئے، اور نعمان اپنی صبر، وقار اور ذمہ داری والی شخصیت کے ساتھ شہادت کے اعلی مقام پر فائز ہوگئے۔ نحسبه کذالک والله حسیبه۔
تاریخ شہادت: ۶جدی ۱۴۰۴ ہجری شمسی
نعمان محاذِ جنگ پر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے تحت شہید ہوئے۔ انہوں نے اپنی آخری سانس رب العالمین کی رضا اور قضائے الہی کے مطابق یوں پیش کی کہ ان کا دل ایمان کی زیور سے مزین تھا۔
وہ چلے گئے، لیکن ان کی یاد ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی؛ ان کی زندگی اخلاص سے معمور مجاہدانہ زندگی تھی، اور شہادت صبر کا پیغام۔ ان کا مبارک جسم سپردِ خاک کردیا گیا، اللہ تعالیٰ انہیں اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے، اہل خانہ کو جمیل صبر دے، اور ہم سب کو ان کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

